خزانہ خالی، حکومت بجٹ میں ریلیف کیسے دے گی؟

حکومت عوام کو ریلیف اس وقت دے سکتی ہے جب اس کی جیب میں بھی کچھ پیسے ہوں مگر جب روزمرہ امور چلانے کے لیے بھی قرضہ لینا پڑے تو عوام کو ریلیف کہاں سے ملے گا؟اتحادی حکومت آئندہ مالی سال کا بجٹ نو جون کو پیش کرنے جارہی ہے جس کا حجم 14 سے 15 ہزار ارب روپے سے زائد ہوسکتا ہے۔اگلے سال بھی پاکستان کو سات ہزار ارب روپے سے زائد کا خسارہ ہوسکتا ہے، کیونکہ حکومت کی آمدن 12 ہزار سے 13 ہزار ارب روپے اور اخراجات 16 سے 17 ہزار ارب روپے سے بڑھ سکتے ہیں۔12 ہزار سے 13 ہزار ارب روپے کی حکومتی آمدن میں سے سات ہزار سے 7500 ارب روپے قرضوں اور سود کی ادائیگی پر خرچ ہوں گے اور 5500 ارب روپے سے زائد حکومت این ایف سی کی مد میں صوبوں کو منتقل کر دے گی جس کے بعد حکومتی خزانہ خالی ہو جائے گا۔
خالی خزانے کے ساتھ حکومت آئندہ مالی سال کے دوران عوام کو کیا ریلیف دے گی؟ حکومتی اخراجات، تنخواہیں، پینشن، سبسڈیز اور دفاع سمیت دیگر امور کیسے سرانجام دے گی؟ وزیر اعظم شہباز شریف نے وزارت خزانہ کو ہدایت کی ہے کہ بجٹ میں غریب عوام کو ریلیف دینے کے اقدامات کیے جائیں، بے نظیر انکم سپورٹ کا بجٹ بڑھایا جائے اور کسانوں کو کھاد پر سبسڈی دی جائے۔ تاہم حکومت عوام کو ریلیف اس وقت دے سکتی ہے جب اس کی جیب میں بھی کچھ پیسے ہوں مگر جب روزمرہ امور چلانے کے لیے بھی قرضہ لینا پڑے تو عوام کو ریلیف کہاں سے ملے گا؟
وزیر اعظم شہباز شریف نے وزیر دفاع خواجہ آصف کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کی ہے۔ کمیٹی کے رکن اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی قیصر احمد شیخ نے بتایا کہ آئندہ بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کی سفارشات وزیراعظم کو پیش کردی گئی ہیں۔’بجٹ مین سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 20 فیصد تک اضافے کی تجویز دی گئی ہے جب کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے مستحقین کی مالی امداد کو بڑھانے کی سفارش کی گئی ہے، یوٹیلٹی سٹور یا دیگر منصوبوں پر پیسہ ضائع کرنے کی بجائے عوام کو کیش امداد کی سفارش کی گئی ہے تاکہ وہ مہنگائی کا مقابلہ کر سکیں۔‘
قیصر شیخ نے سفارشات کے بارے میں مزید بتایا کہ بجٹ میں ’کھاد کے کارخانوں کو سبسڈی دینے کی بجائے کاشت کاروں کو براہ راست سبسڈی دی جائے، چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کو زیادہ قرضے دیے جائیں، پاکستان میں بڑی صنعتوں کو 93 فیصد قرضہ ملتا ہے جب کہ چھوٹی صنعتوں کو صرف سات فیصد قرض دیا جاتا ہے اس لیے ایس ایم ایز کے قرض کو دوگنا کیا جائے گا۔
سابق چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو ڈاکٹر ارشاد احمد کا موجودہ صورتحال بارے کہنا ہے کہ ’حکومت کے پاس بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے۔‘’آئی ایم ایف شرائط کے مطابق حکومت نے ٹیکس اہداف پورے کرنے ہیں، ٹیکس عوام سے ہی وصول کیے جائیں گے، ٹیکسوں کا بوجھ انہی پر ڈالا جاتا ہے جو لوگ پہلے ہی ٹیکس دے رہے ہیں، اگر ٹیکس اکٹھا نہیں ہو گا تو حکومت کی آمدن نہیں ہو گی۔ حکومت نے آمدنی بھی بڑھانی ہے اور معیشت کو بھی ٹھیک کرنا ہے۔
دوسری جانب ماہر معاشیات ڈاکٹر حفیظ پاشا کا کہنا ہے کہ ’آئندہ بجٹ میں حکومت عوام کو ریلیف دینے کی کوشش کرے، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا بجٹ 400 ارب روپے سے بڑھا کر 700 ارب روپے تک کیا جائے، بی آئی ایس پی کے مستحقین کو براہ راست نقد امداد بڑھائی جائے، غریب اور متوسط طبقے کو ریلیف دینے کے لیے امیروں کو دی گئی مراعات کم کی جائیں اور اس کی آمدن غریبوں کو منتقل کی جائے نیز آٹے پر سبسڈی بڑھائی جائے۔‘ڈاکٹر حفیظ پاشا کے مطابق آئندہ بجٹ میں حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی ہو گی۔’اگر آئی ایم ایف کی چھتری نہیں ہوئی تو پاکستان کے دیوالیہ ہونے کے امکانات کئی گنا بڑھ جائیں گے۔
تاہم دوسری جانب وزیر مملکت خزانہ ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا کا کہنا ہے کہ مہنگائی کو کم کرنا حکومت کے لیے بڑا چیلنج ہے بجٹ خسارہ کم ہوجائے تو عوام کو براہ راست ریلیف ملتا ہے کیونکہ اس سے مہنگائی کم ہوتی ہے اور نئے ٹیکسز نہیں لگانے پڑتے۔اتحادی حکومت کو اگلا بجٹ ممکنہ انتخابات کو مدنظر رکھ کر پیش کرنا ہوگا جب کہ آئی ایم ایف کو بھی راضی رکھنا پڑے گا۔ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا کا کہنا ہے کہ یہ ’الیکشن بجٹ ہوگا، ہم پاکستان کو بچا رہے ہیں پاکستان کو مستحکم کر رہے ہیں وہ بجٹ الیکشن بجٹ نہیں ہو گا کیا؟ بالکل ہونا چاہیے۔ اس ملک کو آپ ایک اچھے راستے پر ڈال رہے ہیں آپ وہ کر رہے ہیں جو اس ملک کی ضرورت ہے۔ کیا اس پر ہمیں الیکشن بجٹ نہیں دینا چاہیے؟ ہم یہ بھر پور کوشش کررہے ہیں کہ عام آدمی پر
راوی اربن منصوبہ لاہور کی تاریخ کو زندہ کرنے کا ذریعہ قرار
مزید بوجھ نہ ڈالیں۔
