پاکستان میں کونسے سیاستدان کامیاب ثابت ہوئے؟

فوج، شوبز، کھیلوں کی دنیا میں نام روشن کرنے والے کئی ستاروں نے میدان سیاست میں خود کو خوب منوایا ہے، موجودہ الیکشن میں کھیل کے میدان سے سیاست میں اپنے جوہر دکھانے والا کوئی امیدوار موجود نہیں۔پاکستان میں ایک سابق کرکٹ کپتان عمران خان ملک کے وزیراعظم کے منصب تک پہنچے۔ ان کی ذات سے لگاؤ رکھنے والوں کی اکثریت کے لیے ورلڈ کپ جیتنے کا کارنامہ اس وابستگی کی وجہ ہے۔پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ایک اور کپتان عبدالحفیظ کاردار کا سیاسی کیریئر بھی کامیابیوں کا حامل رہا ہے۔وہ 1970 کے الیکشن میں لاہور سے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر پنجاب اسمبلی کے رکن اور وزیر خوراک بنے۔بلوچستان کے سابق گورنر لیفٹینٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقادر بلوچ اس مرتبہ این اے 260 سے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے امیدوار ہیں۔ سیالکوٹ سے بریگیڈیر ریٹائرڈ اسلم گھمن اور ننکانہ صاحب سے بریگیڈیئر ریٹائرڈ اعجاز شاہ ممبر قومی اسمبلی کے لیے پی ٹی ائی کے حمایت یافتہ امیدوار ہیں۔راولپنڈی سے ہی قومی اسمبلی کے امیدوار کرنل ریٹائرڈ اجمل صابر پی ٹی آئی کی حمایت سے فوجی گھرانے کے ایک اور فرد چوہدری نثار علی خان کے مدمقابل ہیں۔ چکوال کے حلقہ سے مسلم لیگ نون کے میجر ریٹائرڈ طاہر اقبال کا مقابلہ صحافی اور دانشور ایاز امیر سے ہے۔ شاید بہت کم لوگوں کے علم میں ہو گا کہ ایاز امیر فوج میں بحیثیت کپتان خدمات سر انجام دے چکے ہیں۔سابق آرمی چیف جنرل ٹکا خان اور فضائیہ کے سربراہ ایئر مارشل نور خان 1988 کے الیکشن میں راولپنڈی اور چکوال سے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر شکست سے دو چار ہو گئے تھے۔پاکستانی سیاست میں آج تک براہ راست انتخابات میں فنونِ لطیفہ سے تعلق رکھنے والوں کی کامیابی کی واحد مثال طارق عزیز تھے۔1997 میں مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر لاہور سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے مگر کچھ عرصے بعد سپریم کورٹ پر حملہ کیس میں سزا یافتہ ہونے کے باعث اسمبلی کی رکنیت سے ہاتھ دھونا پڑگئے۔مشہور اداکار رنگیلا کے بیٹی فرح دیبا 2008 میں مسلم لیگ ن کی طرف سے خواتین کے کوٹے پر پنجاب اسمبلی کی ممبر بنیں۔پاکستانی ڈراموں کے نامور اداکارہ کنول نعمان کو بھی مسلم لیگ ن نے 2013 میں مخصوص نشست پر پنجاب اسمبلی کی رکن بنوایا۔ ایک حلقے میں ’اندھیرا اجالا‘ ڈرامہ سیریل سے شہرت پانے والے قوی خان اور اداکار محمود علی حصہ لے رہے تھے۔ قوی خان 9 ہزار ووٹ لے کر چوتھے نمبر پر آئے جب کہ محمود علی 14 ہزار ووٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے۔ اس حلقے سے جماعت اسلامی کے لیاقت بلوچ فاتح قرار پائے۔صافت کے فرائض میں سے ایک سیاسی نظام کی خرابیوں کو اجاگر کرنا ہے۔ ماضی اور حال میں بہت سے صحافیوں نےکوچۂ سیاست کا رخ کیا، 2024 کے الیکشن میں چند حلقوں سے صحافی اور میڈیا کے اداروں کے مالکان بھی حصہ لے رہے ہیں۔سینیئر صحافی اور کالم نگار امتیاز عالم بہاول نگر سے حقوق خلق موومنٹ کی طرف سے قومی اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ ان کے علاوہ میڈیا کے تین اداروں کے مالکان بھی اس بار انتخابی دوڑ میں شریک ہیں۔ سما ٹیلی ویژن کے مالک عبدالعلیم خان استحکام پاکستان پارٹی کی ٹکٹ پر لاہور سے قومی اسمبلی کے امیدوار ہیں۔ انہیں مسلم لیگ نون کی حمایت بھی حاصل ہے۔سنو ٹیلی ویژن کے مالک نعیم اعجاز پی پی 10 راولپنڈی سے صوبائی اسمبلی کے امیدوار ہیں۔ 1977 میں میں سندھ کے سابق گورنر حکیم سعید نے بھی پیپلز پارٹی کی طرف سے انتخاب لڑا۔ انہیں ہرانے والے جماعت اسلامی کے محمود اعظم فاروقی تھے۔پاکستان کے ہمسایہ ملک انڈیا میں کھلاڑیوں کی بڑی تعداد نے کھیلوں سے ریٹائرمنٹ کے بعد میدان سیاست میں کامیاب اننگ کھیلی۔ان میں کرکٹر چیتن چوہان اور کیرتی آزاد نے دو دو مرتبہ اسمبلی کا الیکشن جیتا۔ سابق کپتان اظہر الدین سنہ 2009 میں رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے۔اسی طرح سری لنکا کو 1996 کا ورلڈ کپ جتوانے والے کپتان رانا ٹنگا اور جے سوریا نے کرکٹ سے فراغت کے بعد سیاست کے ذریعے لوگوں کی خدمت کی۔ برطانیہ کے نامور شطرنج پلیئر گیری کاسپرو بھی کھیل کے بعد سیاست کے میدان میں کامیاب ہوئے، امریکی ریاست کیلیفورنیا کے گورنر ارنلڈ شوا زنگر ریسلنگ سے

کیا بلاول بھٹو وزیر اعظم کی دوڑ سے باہر ہو گئے ہیں؟

اداکاری اور پھر سیاست کے افق پر نمایاں ہوئے۔

Related Articles

Back to top button