شہباز گل کی امریکہ میں بھی "ٹھکائی” کا امکان کیوں؟

شہباز گل کے خلاف بغاوت پر اکسانے کے الزام میں دائر مقدمہ میں نا قابل ضمانت وارنٹ کے اجراء کے بعدپی ٹی آئی امریکہ کے بعض حلقے محتاط ہوگئے ہیں.اس مقدمے کے بعد امریکا میں موجود اور سرگرم شہباز گل کے مسائل میں مزید اضافہ کا امکان ہے جبکہ وہ پہلے ہی امریکہ میں پی ٹی آئی اور اس کے بعض حامیوں کی جانب سے تحفظات، سوالات اور سرد مہری کا شکار ہیں جبکہ شہباز گل کے امریکہ میں پارٹی کا فارن ایجنٹ مقرر ہونے کے حوالے سے جہاں پارٹی عہدیدار لا علم ہیں وہیں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ انھیں کس نےفارن ایجنٹ مقرر کیا ہے؟
اس حوالے سے پی ٹی آئی کے سرگرم بانی رکن اور سر گرم سجاد برکی کا کہنا ہے کہ شہباز گل کے امریکا میں پی ٹی آئی کے فارن ایجنٹ مقرر ہونے کی کوشش کے بارے میں آگاہ ہیں لیکن اس بارے میں شہباز گل کو کس نے یہ اختیار دیا ہے اس کا انہیں علم نہیں ۔
دوسری جانب تحریک انصاف سے وابستہ شہباز گل کی امریکہ واپسی اور ان کے امریکی شہر ی ہونے کے دعویٰ سے پاکستانی حکومت اور امریکی انتظامیہ کیلئے متعدد سوالات اٹھادیئے ہیں جبکہ اسلام آباد کی عدالت سے انہیں چند دنوں کیلئے امریکہ آنے کی اجازت کے عدالتی حکم کے بارے میں بھی خدشات کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے۔ تاہم اب کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری سے بھی گل کی مشکلات میں مزید اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
خیال رہے کہ شہباز گل نے امریکہ واپسی پر ڈاکٹر شہباز گل کے نام سے سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کے مؤقف کی حمایت میں پیغامات کا سلسلہ شروع کردیا ہے جس میں پاکستانی فوج کے لئے تنقید فی الحال پوشیدہ نظر آرہی ہے ۔شہباز گل کے بارے میں ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ وہ امریکہ میں پی ٹی آئی کے فارن ایجنٹ کے طور پر کام کرسکیں گے یا تعلیمی ادارے کی ملازمت کریں گے یا پھر وہ پاکستان جاکر اپنے خلاف زیرسماعت مقدمہ کی تاریخ پر حاضر ہوں گے۔
تاہم شہباز گل کی امریکہ واپسی نے پاکستان کی حکومت اور امریکی انتظامیہ دونوں کے لئے دہری شہریت کے حوالے سے بعض وضاحت طلب سوالات کھڑے کر دئیے ہیں۔وزیراعظم عمران خان کی حکومت کے دنوں میں سائفر کے حوالے سے عمران حکومت کے خلاف امریکی سازش، امریکہ مخالف بیانات پر مبنی مہم اور عوام کو امریکہ کے خلاف مشتعل کرنے کی پالیسی اور حکمت عملی کے دوران شہباز گل پی ٹی آئی کی ترجمانی کرتے رہے ہیں ۔ وہ عمران خان کے ترجمان اور مشیروں کی ٹیم کا نمایاں حصہ تھے۔تاہم امریکی قانون کے مطابق غیرممالک میں جاکر امریکہ مخالف بیانات اور سرگرمیوں سے امریکی شہریت کے حصول کے وقت اٹھائے گئے حلف وفاداری کی خلاف ورزی ہوتی ہے جس کے مطابق امریکی شہری کیلئے امریکہ کے قومی مفادات کی حفاظت اور امریکہ کی خاطر ہتھیار اٹھانے کا حلف اٹھایا جاتا ہے۔
شہباز گل کےامریکہ مخالف بیانات اور عمران خان کی ترجمانی کا ریکارڈ موجود ہے جبکہ غیر ممالک میں جاکر امریکہ کےقومی مفاد کے خلا ف سرگرمیوں، بیانات اور امریکہ کے خلاف مہم کرنے والوں کو امریکہ میں واپسی پر روکے جانے کا ریکارڈ بھی موجود ہے لہٰذا یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا شہباز گل کے امریکہ مخالف بیانات اور سرگرمیوں کا امریکی حکومت نے نوٹس نہیں لیا اور امریکہ کی حمایت کرنے اور امریکی شہریت کے لئے اٹھائے گئے حلف کی خلاف ورزی پر کوئی کارروائی ہو گی؟ یا پھر شہباز گل کی اینٹی امریکن بیانات، ترجمانی اور امریکہ مخالف عمران حکومت اور پی ٹی آئی سے وابستگی کا کام کسی کی اجازت یا حکمت عملی کے تحت امریکی مفادات کے عین مطابق تھا۔ اس بار ے میں امریکی محکمہ خارجہ
وکیل عبدالرزاق شر کے قتل کا مقدمہ عمران خان کیخلاف درج
کی جانب سے تاحال کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔
