’’نگران وزیراعظم جس کے پاس پاکستانی شناختی کارڈ تک نہیں تھا‘‘

1993 کے دوران پاکستانی سیاسی صورتحال بند گلی میں داخل ہوئی تو نگران وزیراعظم کا انتخاب بڑا چیلنج بن گیا تھا، اس حوالے سے میاں محمد نواز شریف اور محترمہ بینظیر بھٹو نے سعید شیخ کی بجائے معین قریشی کا انتخاب کیا جوکہ امریکہ میں مقیم تھے اور پاکستان پہنچنے پر ان کے پاس قومی شناختی کارڈ تک نہیں تھا۔1993 میں نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کے سامنے دو نام تھے، سعید شیخ اور معین قریشی، دونوں کا تعلق قصور سے تھا مگر جس نام پر اتفاق ہوا وہ امریکہ میں مقیم عالمی بینک سے منسلک ماہر معاشیات معین قریشی کا تھا۔
یہ 18 جولائی 1993 کی بات ہے، جب ملک کی سیاسی صورت حال ایک ایسی بند گلی میں پہنچ گئی تھی کہ وزیراعظم محمد نواز شریف اور صدر مملکت غلام اسحاق خان کو ایک ساتھ مستعفی ہونا پڑا، اس صورت حال میں چیف آف آرمی سٹاف جنرل عبدالوحید کاکڑ نے فیصلہ کن کردار ادا کیا۔پہلے وزیراعظم نے صدر کو قومی اسمبلی توڑنے کی ایڈوائزری دی، پھر صدر نے قومی اسمبلی توڑنے کا اعلان کر کے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا بھی اعلان کر دیا، اب تلاش شروع ہوئی کہ ملک کا نیا نگراں وزیراعظم کون ہوگا؟
میاں محمد نواز شریف اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے سامنے دو نام تھے، سعید شیخ اور معین قریشی۔ دونوں ہی کا تعلق قصور سے تھا مگر جس نام پر اتفاق ہوا وہ امریکہ میں مقیم عالمی بینک سے منسلک ماہر معاشیات معین قریشی کا تھا۔معین قریشی کو تلاش کیا گیا تو معلوم ہوا کہ وہ اس وقت امریکہ میں نہیں ہیں۔ ایسے میں وفاقی وزیر سرتاج عزیز نے معین قریشی کو سنگاپور میں ڈھونڈ نکالا۔ انہیں ان کی نئی تقرری کی اطلاع دی گئی اور فوراً پاکستان پہنچنے کا کہا گیا۔
معین قریشی پاکستان کے لیے روانہ ہوگئے مگر طرفہ تماشا یہ تھا کہ وہ جس ملک کے نگراں وزیراعظم بننے جا رہے تھے، نہ ان کے پاس اس ملک میں کوئی گھر تھا، نہ ہی اس ملک کا شناختی کارڈ۔ وہ اسلام آباد ایئر پورٹ پر اترے تو حکام نے ان کا شناختی کارڈ ان کے حوالے کیا، جس پر ان کا پتہ وزیراعظم ہاؤس، اسلام آباد تحریر تھا۔اسی شام انہوں نے ایوان صدر اسلام آباد میں پاکستان کے 16ویں وزیراعظم کے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔ ان سے یہ حلف صدر غلام اسحاق خان نے لیا۔ اس تقریب کے بعد صدر غلام اسحاق خان نے عہدہ صدارت سے الگ ہونے کی دستاویز پر بھی دستخط کیے اور اس کے ساتھ ہی سینیٹ کے چیئرمین وسیم سجاد نے قائم مقام صدر کا عہدہ سنبھال لیا۔
تمام قیاس آرائیوں کے باوجود معین قریشی ’شفاف‘ انتخابات منعقد کروانے کے لیے کام کرتے رہے، آئی ایم ایف کی اصلاحات کا نفاذ کیا، ملکی کرنسی کی قدر میں کمی کی، قومی لائبریری کا افتتاح کیا، اسٹیٹ بینک کو خود مختار ادارہ قرار دیا، 20 اکتوبر 1993 کو وہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات منعقد کروا کر باعزت طور پر رخصت ہوگئے۔معین قریشی، مولانا محی الدین احمد قصوری کے فرزند تھے۔ ان کا پورا نام معین الدین احمد قریشی تھا اور وہ 26 جون 1930 کو پیدا ہوئے۔ معین قریشی گورنمنٹ کالج لاہور کے فارغ التحصیل تھے۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے اکنامکس میں ایم اے کیا اور فل برائٹ سکالر شپ پر انڈیانا یونیورسٹی سے اکنامکس میں ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔
1981 میں ورلڈ بینک کے اس وقت کے صدر رابرٹ میکنامارا کی دعوت پر وہ ورلڈ بینک سے منسلک ہوئے اور سینئر وائس پریزیڈنٹ فنانس رہے، جبکہ بعد میں وہ ورلڈ بینک کے سینئر وائس پریزیڈنٹ بن گئے، 1992 میں انہوں نے ورلڈ بینک سے استعفیٰ دے کر امریکہ میں ایک نجی کمپنی کی بنیاد رکھی۔18 جولائی 1993 کو جب وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور صدر غلام اسحق خان نے اپنے عہدوں سے استعفٰی دیا تو چیئرمین سینیٹ وسیم سجاد صدر بن گئے اور نگراں وزیراعظم کے عہدے پر معین قریشی کا تقرر کیا گیا۔ وہ 18 جولائی 1993 سے 19 اکتوبر 1993 تک اس عہدے پر فائز رہے۔ ترتیب کے اعتبار سے وہ پاکستان کے 16ویں وزیراعظم تھے۔
معین قریشی اس کے بعد امریکہ واپس چلے گئے، جہاں انہوں نے ای ایم پی گلوبل کے نام سے ایک سرمایہ کاری فرم قائم کی، 2014 میں وہ پارکنسنز کی بیماری میں مبتلا ہوئے اور ایک مقامی ہسپتال میں زیر علاج رہے، 22 نومبر

ویمنز فٹبال،سنگاپور نے پاکستان کو ایک صفر سے ہرا دیا

/2016 کو وہ واشنگٹن ڈی سی میں وفات پاگئے اور وہیں آسودہ خاک ہوئے۔

Back to top button