لندن سے ’چوری شدہ‘ کار کراچی کیسے پہنچی تھی؟

اس وقت پاکستانی سوشل میڈیا پرایک ایسی قیمتی کار کے چرچے ہیں جو حیران کن طورپرلندن سے چوری ہوکر خاموشی سے کراچی پہنچ گئی اور کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔ بتایا جاتا ہے کہ ایک غیر ملکی ایجنسی سی ای سی کی خفیہ اطلاع پر پاکستانی کسٹمز اہلکار کراچی کی ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائٹی میں ایک گاڑی کی تلاش میں تھے۔ اس حوالے سے کسٹمز میں درج ایف آئی آر کے مطابق اطلاع یہ تھی کہ قیمتی کار لندن سے چوری کے بعد پاکستان لائی گئی ہے۔ یہ کوئی عام کار نہیں بلکہ بم پروف بینٹلے وی ایٹ آٹو میٹک گاڑی ہے جسکی قیمت 30 کروڑ روپے سے زیادہ بنتی ہے۔ اس گاڑی کی نگرانی کافی عرصے سے جاری تھی تاہم جب 30 اگست 2022 کو کراچی کی ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائٹی میں ایک گھر پر چھاپہ مارا گیا جہاں یہ گاڑی کھڑی تھی تو اس پر موجود سرمئی کپڑا اتارنے کے بعد علم ہوا کہ اس پر تو مقامی نمبر پلیٹ بھی لگی ہوئی ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق گاڑی کے چیسس نمبر کے ذریعے اس کی شناخت کی گئی اور اسے خفیہ اطلاع میں دیے گئے نمبر سے ملا کر تصدیق کی گئی جس کے بعد اسے ضبط کر لیا گیا۔
کراچی کسٹمز نے اس کار کی چوری کے الزام میں دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق کراچی میں کار کے مالک کا دعویٰ ہے کہ انھیں ایک دوسرے شخص نے یہ کار اس شرط پر فروخت کی تھی کہ وہ نومبر 2022 تک اسکی تمام قانونی دستاویزات پوری کروا کر دے گا۔ کسٹمز حکام کا کہنا ہے کہ اس کار کی چابی موجود نہ ہونے کی وجہ سے اسے ضبط کرتے ہوئےکیریئر کے ذریعے لفٹ کیا گیا۔ اس پورے واقعے میں سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ یہ کار قانونی دستاویزات نہ ہونے کے باوجود سندھ میں رجسٹرڈ ہوئی۔ ایف آئی آر میں اس قانون کا حوالہ بھی دیا گیا جس کے مطابق چوری کی ایسی کسی کار کی رجسٹریشن کے لیے وزارت خارجہ اور کسٹمز سے اجازت کے علاوہ تمام ڈیوٹی اور ٹیکسز کی ادائیگی درکار ہوتی ہے۔ ایف آئی آر میں یہاں تک کہا گیا ہے کہ موٹر رجسٹریشن ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ کی ملی بھگت سے ہی اس کی رجسٹریشن ممکن ہوئی۔
توہین عطا اللہ تارڑ پرچارنوجوانوں کی گرفتاری
اس کار کی ضبطی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر خاصی وائرل ہے اور اس پر طرح طرح کے تبصرے بھی کیے جا رہے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ اس گاڑی کے برطانیہ سے پاکستان منتقل ہونے کے حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور یہ بھی پوچھا جا رہا ہے کہ اس پر نمبر پلیٹ کیسے لگی۔ اب تازہ ترین اطلاع یہ ہے کہ اس گاڑی کو لندن سے پاکستان لانے کے لیے اسلام آباد میں بلغاریہ کے سابقہ سفیر نے اپنا سفارتی اثر رسوخ استعمال کیا تھا اور یہ کار ان کے نام پر پاکستان پہنچی تھی جس کو بعد میں ایک تیسری پارٹی کو فروخت کر دیا گیا۔ اس حوالے سے حتمی تفصیل تو تحقیقات مکمل ہونے پر ہی سامنے آئے گی، لیکن لندن سے چوری کی گاڑی پاکستان لانے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔
اس حوالے سے بات کرتے ہوئے پاک وہیلز کے شریک بانی سنیل منج نے کچھ دلچسپ تفصیلات بتائی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’یہ گینگ‘ کچھ اس طرح کام کرتا ہے کہ جہاں سے بھی گاڑی آتی ہے وہاں پہلے چوری رپورٹ نہیں کی جاتی کیونکہ جس ملک سے گاڑی نکل رہی ہے اور جس ملک میں آ رہی ہے دونوں میں اس کا سٹیٹس چیک کیا جاتا ہے کہ آیا اس کے کاغذات پورے ہیں اور کہیں اُس ملک میں اس کا سٹیٹس چوری شدہ کار کا تو نہیں ہے۔ انکے خیال میں کراچی سے برآمد ہونے والی گاڑی اگر واقعی چوری کی ہوتی تو سسٹم میں درج ہونے کے باعث یہ بندرگاہ پر ہی ضبط کر لی جاتی۔ سنیل کے مطابق جب تک کار لندن سے کراچی شفٹ ہوئی تو کسی کو معلوم نہ تھا کہ یہ چوری کی ہے۔ کراچی میں جب کار کلیئر ہوگئی تو لندن میں چوری کی اطلاع دے دی گئی تاکہ انشورنس کا دعویٰ ہو سکے۔ سنیل منج کے مطابق جو بھی گروہ یہ کام کرتا ہے وہ عام طور پر پہلے گاڑی دوسرے ملک منتقل کرتا ہے اور پھر جب اس ملک کی بندرگاہ پر گاڑی کلیئر ہو جائے تو اس کے بعد وہ اس ملک میں چوری رپورٹ کر دیتا ہے اور پھر وہ ملک اسکی کھوج شروع کرتا ہے۔
سنیل منج کے مطابق یہ کوئی پہلا کیس نہیں بلکہ ایسی کئی کاریں پہلے بھی پاکستان میں رجسٹرڈ ہوئی ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ’سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ یہ کار نان کسٹم نہیں تھی بلکہ بلغاریہ کے سفارتخانے کے کاغذات پر کلیئر ہوئی تھی۔ سفارتکاروں کو ڈیوٹی فری کار لانے کی اجازت ہوتی ہے۔ جتنے برس وہ قیام کرتے ہیں انہیں اس کے لیے ڈیوٹی فری کار لانے کی اجازت ہوتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سکیورٹی کے حالات کے پیش نظر یہ بہت خطرناک بات ہے کیونکہ ان کاروں کے ذریعے کسی اصل مجرم تک پہنچنا بہت مشکل ہوسکتا ہے۔ کسٹمز کی جانب سے پاکستان میں منتقل ہوتے وقت اس گاڑی کی قیمت چار کروڑ 14 لاکھ روپے سے زیادہ بتائی گئی ہے جبکہ موجودہ ایکسچینج ریٹ کے مطابق اس کی قیمت پانچ کروڑ 85 لاکھ روپے سے زیادہ بتائی گئی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق اس پر عائد ڈیوٹی اور ٹیکسز کے بعد اس کار کی قیمت 30 کروڑ 74 لاکھ روپے سے زیادہ بنتی ہے۔
اس حوالے سے سوشل میڈیا پر پاکستانی ایک طرف اس حوالے سے اپنے خدشات کا اظہار کر رہے ہیں، وہیں طنز و مزاح میں بھی اکثر پیش پیش ہیں۔ ایک صارف شمس خان نے لکھا کہ ’انھوں نے برطانیہ سے کیسے گاڑی پاکستان پہنچائی انھیں جواب دینا پڑے گا۔‘ عملقہ نامی صارف کا کہنا ہے کہ ’سوال یہ ہے کہ گاڑی لندن سے پاکستان آئی کیسے؟‘
ایک صارف نے کہا کہ ’پہلا پاکستانی ہے جو لندن سے چوری کر کے پاکستان لایا ہے، اس کو انعام دیا جائے ذلیل نہ کریں اس کو۔‘ کراچی کے ایک گھر سے گاڑی برآمد ہونے کی ویڈیو میں لوگوں کو اسے دھکے لگاتے دیکھا جا سکتا ہے جس پر صارفین سوال پوچھ رہے ہیں کہ اسے دھکے کیوں دیے جا رہے ہیں۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ گاڑی کی چابی ابھی تک نہیں مل پائی لہٰذا اسے سٹارٹ کرنا ممکن نہیں تھا لہٰذا اسے ٹرالر پر لوڈ کر کے کسٹمز کے دفتر پہنچا دیا گیا۔
