عدلیہ نواز شریف والا سلوک عمران کیساتھ کیوں نہیں کر رہی؟

جب سے عمران خان کی حکومت گئی ہے، قانون وانصاف سے دلچسپی رکھنے والے پاکستانی اس انتظارمیں ہیں کہ ایوانِ عدل کے اُفق سے انصاف کا سورج کب طلوع ہوتا ہے اور خان صاحب کے ساتھ وہ سلوک کب شروع ہوتا ہے جو نا کردہ گناہوں پر نواز شریف کے ساتھ روا رکھا گیا۔ تاہم معروف لکھاری اور تجزیہ کار عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ مجھے یقین ہے خان صاحب کے مخالفین کی توقعات پر اوس پڑتی رہے گی۔ انکے مطابق اپنی تاریخ اور نظام عدل کی دیدہ وری سے نا آشنا لوگ صرف توہینَ عدالت کا الزام سن کر، عمران کا قافیہ، دانیال، طلال اور نہال سے ملا دیتے ہیں۔ وہ اس خوش گمانی میں ہیں کہ عمران خان کو نواز شریف بنا دیا جائےگا حالانکہ وہ اتنی سی بات نہیں سمجھتے کہ باڈی لینگویج پڑھ لینے اور چہرے کے تاثرات سے معنی کشید کرنے والا نظامِ عدل اندھیرے میں تیر نہیں چلاتا۔ وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ ایک ہی قانون کے ہوتے ہوئے، کس کے ساتھ کس طرح کا انصاف کرنا اور سلوک روا رکھنا ہے۔ ویسے بھی انصاف اگر اندھا ہو تو وہ کیسے جانے کہ ایک ہی ترازو کے ہوتے ہوئے اسے کس شخص کیلئے کونسا باٹ استعمال کرنا ہے؟
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ عمران خان کے مخالفین کا خیال ہے کہ میاں صاحب پر تو کسی قسم کی کرپشن کا کوئی مقدمہ بن ہی نہ سکا، انہیں تو اقامہ، وسائل اور اثاثوں کے بے سرو پا الزامات میں ٹھکانے لگا دیا گیا۔ جبکہ دوسری جانب عمران خان کے گرد توشہ خانہ، اربوں روپوں کی فارن فنڈنگ کا ریکارڈ نہ ہونے، ہیروں جڑی انگوٹھیوں، بیش قیمت جواہرات، القادر یونیورسٹی سے جڑی زر اور زمین کی داستانوں، مہر بند لفافے میں پڑے پُراسرار کاغذ کی کابینہ سے منظوری اور بلین ٹری سونامی جیسے شیش ناگ پھنکار رہے ہیں۔
عمران ملک کی دفاعی فصیل میں دراڑ ڈال رہے ہیں
ابھی تو عمران دور میں ہونے والی کرپشن کی کھدائی جاری ہے، جس سے نجانے اور کیسے کیسے ’’نوادرات‘‘ برآمد ہوں۔ عمران کے ناقدین کا موقف ہے کہ انھیں پانامہ جیسے کسی تخیلاتی نہیں، بلکہ حقیقی مقدمات کا سامنا کرنا ہوگا۔ لوگوں کا خیال ہے کہ خان صاحب کو بھی سینکڑوں پیشیاں بھگتنا ہوں گی۔ انہیں بھی اڈیالہ، کوٹ لکھپت اور لانڈھی کی ہوا کھانا پڑے گی، ان کے لئے بھی سپریم کورٹ ریفرنسز دائر کرنے کا نادر روزگار حکم دے گی۔ اُن کے لئے بھی احتساب عدالتوں کو تین ماہ میں فیصلہ دینے کا فرمان جاری ہو گا، ان کے حق میں بھی کوئی آڈیو وڈیو کیسٹ نکلی تو اسے ناقابلِ قبول شہادت قرار دے دیا جائے گا۔ ان کیلئے بھی کڑی شرائط لگا کر ضمانت کے حق کو ناممکن بنا دیا جائے گا۔ یہ امید بھی کی جا رہی ہے کہ جس ترازو میں نواز شریف کو بے جا طور پر تولا گیا، وہی ترازو بجا طور پر خان صاحب کیلئے بھی استعمال کیا جائے گا۔ خواب خرامی کرنے والے ان خوش گمانوں کا کہنا ہے کہ اور کچھ ہو نہ ہو، متحدہ عرب امارات سے ایک ایسی کمپنی کا سراغ ضرور لگالیا جائے گا جس کے ساتھ خان صاحب نے کسی کرکٹ میچ میں ماہرانہ تبصرے کیلئے دس ہزار درہم کا معاہدہ کیا ہو گا۔انہوں نے ازراہِ مروت یہ رقم وصول نہیں کی ہو گی اور معزز عدالت اسے خان صاحب کا قابلِ وصول اثاثہ قرار دے کر، اُسے وصول نہ کرنے کے جرم میں عمر بھر کیلئے نا اہل قرار دے ڈالے گی۔
عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ لیکن جب کج فہم لوگوں کی خوش فہمیوں پر ذرا سی اؤس پڑتی ہے تو وہ واہی تباہی پر اتر آتے اور عدلیہ کو کوسنے لگتے ہیں۔ ان دنوں بھی یہی کچھ ہو رہا ہے۔ اس افسوس ناک طرزِ عمل کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ لوگوں کو اپنے نظام عدل کی انصاف پروری اور دیدہ وری کا پورا ادارک نہیں۔ وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں رائج انصاف کچھ اپنی خصوصیات رکھتا ہے۔ اسے نا م نہاد عالمی معیار کے پیمانے پر نہیں جانچنا چاہئے۔ مثال کے طور پر دنیا آج بھی اس کليے یا اصول سے بندھی ہے کہ انصاف ”اندھا“ ہوتا ہے،گویا جب کوئی جج انصاف کی مسند پر بیٹھتا ہے تو عملاً نہ سہی ایک تخیلاتی سی سیاہ پٹی اپنی آنکھوں پر باندھ لیتا ہے۔وہ اپنے سامنے کھڑے فریقین مقدمہ کو نہیں دیکھتا۔ صرف اپنے حلف پر نگاہ رکھتا ہے، جس کے الفاظ اُس کے دل و دماغ میں جگنوؤں کی طرح درخشاں رہتے ہیں اور گُھپ اندھیروں میں بھی انصاف کا راستہ تلاش کر لیتا ہے۔ اُسے کسی کے قد کاٹھ سے کچھ غرض ہوتی ہے نہ ٹھاٹھ باٹھ سے، ہمارا انصاف اس طرح کے اندھے پن کا شکار نہیں۔
ماہرینِ چشم کی زبان میں یہ 6×6کی بینائی رکھتا ہے۔ دیدہ بینا رکھنے والا ہمارا نظامِ انصاف آنکھ بھر کر مدعی اور مدعا علیہ کو دیکھتا، ان کے درجہ و مقام کو جانچتا اور پھر اپنی تیز بصارت کو عادلانہ بصیرت میں ڈھال کر فیصلہ سنا دیتا ہے۔
عرفان صدیقی کے مطابق ہمارے عدل کی بصارت اور بصیرت کا ایک پیش بہا نمونہ، ریاست بنام عمران خان کیس 2014ء میں دکھائی دیتا ہے۔ 2013ء کے انتخابات میں ناکامی کے بعد عمران خان نے ریٹرننگ آفیسرز کے طور پر فرائض سرانجام دینے والے سیشن جج صاحبان کے کردار کو ”شرمناک“ قرار دیا۔ سپریم کورٹ نے اس کا نوٹس لیا۔ توہینِ عدالت کا مقدمہ شروع ہوا۔ خان صاحب نے کہا ”جیل چلا جاؤں گا، معافی نہیں مانگوں گا“۔ جسٹس افتخار چوہدری کے دور میں شروع ہونے والا مقدمہ جسٹس انور ظہیر جمالی کے عہد تک پہنچا۔ جسٹس جمالی، خلجی عارف حسین اور اعجاز احمد چوہدری پر مشتمل بینچ نے سماعت کی۔ حامد خان تب بھی عمران خان کے وکیل تھے۔ انہوں نے ڈٹ کر مقدمہ لڑا۔ معافی مانگنے سے انکار کر دیا۔ اس کے باوجود خان صاحب کو بری کر دیا گیا۔
دیدہ ور اور انصاف پرور جج صاحبان نے 9 اکتوبر 2014 کو اپنے تاریخ ساز فیصلے کے پیرا گراف 14میں لکھا،”ہم نے عدالت میں عمران خان کے طرزِ عمل کا بغور مشاہدہ کیا ہے، تمام تر سماعت کے دوران عمران کی باڈی لینگویج سے اظہار ہو رہا تھا کہ وہ عدلیہ کو بےحد عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ان کے چہرے پر پشیمانی کے آثار واضح تھے۔ ان شواہد کی بنیاد پر عدالت نے ملزم کو بری کر دیا اور لکھا کہ اس کی طرف سے غیر مشروط معافی کی کوئی ضرورت نہیں۔
عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ اب آپ ہی سوچئے کہ اگر نام نہاد عالمی اصولوں کے مطابق عدالت اندھی ہوتی تو اُسے خان صاحب کی بدن بولی اور ان کے چہرے پر سایہ فگن پشیمانی کے آثار کیسے دکھائی دیتے؟ اس صورت میں وہ صرف مقدمے کے حقائق اور میرٹ پر فیصلہ دینے پر مجبور ہو جاتی۔لیکن اس کے ’’دیدہ بینا‘‘ نے وکلاء کے دلائل، مقدمات کے حوالوں، طویل بحث اور خان صاحب کے ’’شرمناک‘‘ کے لفظ کو بھاڑ میں جھونکا۔ صرف بدن بولی اور چہرے کے تاثرات کو فیصلے کی بنیاد بنا دیا۔ یہ ہمارے نظام کی 6×6بينائی ہی کا فیضان ہے کہ بات اب تک بنی ہوئی ہے۔ عدالت نے لوحِ انصاف پر یہ تاریخی قول بھی ثبت کر دیا کہ توہینِ عدالت کے حوالے سے ملزم کی ’’زبان درازی‘‘ کی بجائے اس کی باڈی لینگویج کی بنیاد پر فیصلہ دینا چاہیے۔ ایسے میں مجھے یقین ہے کہ خان صاحب کے مخالفین کی توقعات پر آگے بھی اوس پڑتی رہے گی۔
