’’سنی دیول پھر سے پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگانے کیلئے تیار‘‘

22 سال قبل ریلیز ہونے والی سنی دیول کی فلم ’’غدر‘‘ کے ڈائیلاگ کیا آج کی فلم ’’غدر 2‘‘میں اس طرح دھوم مچا پائیں گے، یہ بہت بڑا سوال ہے خاص طور پر ’’پاکستان زندہ باد کے نعرے‘‘ کے حوالے سے کیا بھارتی مداح سنی دیول کو یہ نعرہ لگاتے برداشت کر پائیں گے؟آپ کا پاکستان زندہ باد ہے، اس پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں لیکن ہمارا ہندوستان زندہ باد تھا، زندہ باد ہے اور زندہ باد رہے گا، ہندوستان زندہ باد۔ اس ملک (پاکستان) سے زیادہ ہندوستان میں مسلمان ہیں، اُن کے دل کی دھڑکن کہتی ہے کہ ہندوستان زندہ باد ہے تو کیا وہ مسلمان نہیں؟ 2001 میں جب فلم ’غدر‘ ریلیز ہوئی تو سنی دیول کے اس ڈائیلاگ کو تھیٹر میں خوب سراہا گیا، فلم کا یہ منظر 1947 کے چند سال بعد کا ہے جب ہندوستان دو ٹکڑوں میں بٹ گیا تھا اور پاکستان اور انڈیا وجود میں آئے۔ سرحد کے دونوں طرف نفرت ہے، اس سین میں ایک انڈین سنی دیول (تارا سنگھ) اپنی پاکستانی بیوی امیشا پٹیل (سکینہ) کی تلاش میں پاکستان آتا ہے، جہاں ان کے سامنے شرط یہ ہوتی ہے کہ اگر تارا سنگھ اپنی بیوی چاہتے ہیں تو انھیں اپنا مذہب اور وطن چھوڑنا پڑے گا، ’غدر‘ جہاں اپنے دور کی سب سے بڑی ہٹ فلموں میں سے ایک ہے، وہیں بہت سے لوگوں نے اس پر پاکستان مخالف اور مسلم مخالف ہونے کا الزام بھی لگایا، اب جب ’غدر‘ کا پارٹ ٹو ریلیز ہو رہا ہے تو ذہن میں یہ سوال آتا ہے کہ جب تارا سنگھ ’پاکستان زندہ باد‘ کا نعرہ لگاتا ہے تو کیا اسے آج کے ماحول میں ملک دشمن کہا جائیگا؟ یا جب سنی دیول انڈیا کیخلاف ایک لفظ بھی برداشت کرنے سے انکار کر دیں گے تو کیا وہ قوم پرست کہلائیں گے؟سینئر فلم نقاد رام چندرن سری نواسن کا کہنا ہے کہ ’آج اپنی فلم میں ’پاکستان زندہ باد‘ کہنے والا یقیناً ملک دشمن کہلائے گا، خاص طور پر اگر کوئی ڈائیلاگ سیاق و سباق سے ہٹ کر دیکھا جائے، ایرا بھاسکر جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں سنیما سٹڈیز کی پروفیسر ہیں، وہ کہتی ہیں ’آج کی تاریخ میں اگر فلم میں ’پاکستان زندہ باد‘ کا ڈائیلاگ ہے تو اسے ملک دشمن کہا جائے گا لیکن یہ سب اس بات پر منحصر ہے کہ آپ نے فلم کیسے بنائی ہے، ’غدر 1‘ اور ’غدر 2‘ کے درمیان 22 سال کا وقفہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ ان 22 سال میں انڈیا اور سینما کتنا بدلا ہے؟ 2001 میں جب فلم ’غدر‘ ریلیز ہوئی تو کچھ مناظر کی وجہ سے بھوپال، احمد آباد جیسے شہروں میں تشدد ہوا تھا، آمنہ حیدر پاکستان میں سمتھنگ ہاٹ کے نام سے ایک یوٹیوب چینل چلاتی ہیں اور سینما پر نظر رکھتی ہیں، وہ کہتی ہیں کہ ’سیاسی پولرائزیشن کی وجہ سے، دونوں ممالک کے فلمسازوں کے لیے پاک انڈیا تھیم پر فلمیں بنانا مشکل ہو گیا ہے، ’غدر‘ کی بات کریں تو جہاں اس پر تنقید کی جاتی ہے، وہیں کئی جگہ یہ فلم ہر اس شخص کا درد بیان کرتی نظر آتی ہے جو تشدد کا شکار ہے، جس کی زندگی تقسیم کی وجہ سے تباہ ہوگئی۔سکینہ (امیشا پٹیل) شاید اس فلم کا واحد کردار ہے جو دو طرح کے بیانیے کے درمیان جھولتا ہے، جس میں مذہب کے نام پر ہونے والے تشدد پر سوال اٹھانے کی ہمت ہے، وہ پوچھتی ہیں ’کسی کو ہندوستان چاہیے اور کسی کو پاکستان، انسانوں کو انسانوں کی بالکل ضرورت نہیں۔ سیاسی لوگ خلا پیدا کرتے ہیں اور لوگوں کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔ ہم یہ کبھی برداشت نہیں کریں گے۔مذہبی جنون اور دیوانگی کے درمیان فلم غدر میں دیوانے کا کردار (ولی) بھی یہاں یاد آتا ہے، ولی تقسیم کے بعد پاکستان کا شہری بن گیا لیکن ذہنی طور پر وہ اب بھی گاندھی کے ہندوستان میں ہے، اسی لیے جب لاہور ایئر پورٹ کے قریب موسیقی کے ساتھ جلوس ہوتا ہے تو وہ کہتا ہے، ’کیا نہرو جی آ رہے ہیں، انگریزو واپس جاؤ، یہ ملک ہے، زمین کا ٹکڑا نہیں جو کبھی بھی

صدر مملکت کی آفیشل سیکریٹ،آرمی ایکٹ ترمیمی بل پردستخط کی تردید

تقسیم ہو جائے گا؟

Back to top button