سپریم کورٹ آرمی ایکٹ مقدمات میں بھی عمران کا ساتھ دے گی؟

9 مئی کو فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے والے افراد کو پاکستان آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ٹرائل کے ذریعے انصاف کے کٹہرے میں لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے مگر  سوال یہ ہے کہ کیا پاک فوج ان مقدمات کو آرمی ایکٹ کے تحت چلانے میں کامیاب ہوگی؟ کیا ہماری عدلیہ اس کی راہ میں رکاوٹ بنے گی؟کیا عدالتیں عمران خان کو جیسے اب ضمانتیں دے رہی ہیں کیا، آرمی ایکٹ کے مقدمات میں بھی ایسے ہی ضمانتیں دی جائیں گے ؟یہ سوالات سینئر صحافی اور کالم نگار مزمل سہروردی نے اپنے ایک کالم میں اٹھاۓ ہیں .وہ لکھتے ہیں کہ کور کمانڈرز کانفرنس کے اعلامیہ میں سیاسی شرپسندوں کی جانب سے کی گئی جلاؤ گھیراؤ اور فوجی تنصیبات پر حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی گئی ہے، لیکن بات اگر مذمت تک رہتی تو کوئی خبر نہیں تھی۔ تا ہم بات آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ تک جا پہنچی ہے یہ  بات واضح ہے کہ کور کمانڈر کانفرنس میں جو فیصلے ہوئے ہیں نیشنل سکیو رٹی کمیٹی ،حکومت اور پارلیمان اس کے ساتھ کھڑے ہوںگے۔

نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کابینہ اور پارلیمان ان فیصلوں کے توثیق کر دے گی۔ بلکہ ان پر عمل کی راہ میں اگر کوئی قانونی رکاوٹیں ہوںگی تو وہ بھی دور کر دی جائیں گی۔ اس لیے اس اعلامیہ کو حکومت اور پارلیمان کی حمایت حاصل ہے، اس میں کوئی ابہام نہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا پاک فوج ان مقدمات کو آرمی ایکٹ کے تحت چلانے میں کامیاب ہوگی؟ کیا ہماری عدلیہ اس کی راہ میں رکاوٹ بنے گی؟ کیا جب تحریک انصاف کے رہنماؤں بالخصوص عمران خان کو آرمی ایکٹ کے تحت گرفتار کیا جائے گاتو انھیں ضمانت دے دی جائے گی۔ کیا عدلیہ ملٹری کورٹس کی کارروائی کے خلاف حکم امتناعی جاری کر دے گی؟ کیا تحریک انصاف کی ان مقدمات کو آرمی ایکٹ کے تحت درج کرنے اور ملٹری کورٹس میں ٹرائل کو روکنے کی استد عا منظور کی جائے گی؟ کیا عدلیہ خاموش رہے گی؟ کیا عدلیہ کوئی رول ادا کرے گی؟ میں سمجھتا ہوں یہ اہم سوالات ہیں۔ جن کا جواب سب جاننا چاہتے ہیں۔ کیا چیف جسٹس پاکستان نے جیسے عمران خان کو نیب کی حراست سے رہا کیا ہے، ویسے ہی عمران خان کو حراست سے بھی رہا کرائیں گے۔ کیا عدالتیں عمران خان کو جیسے اب ضمانتیں دے رہی ہیں کیا، آرمی ایکٹ کے مقدمات میں بھی ایسے ہی ضمانتیں دی جائیں گے۔ یہی سوال تحریک انصاف کی دیگر قیادت کے لیے بھی ہیں۔ کیا عدلیہ قانون اور آئین کے تحت ایسا کر سکتی ہے۔

مزمل سہروردی کہتے ہیں کہ ایک عمومی رائے یہی ہے کہ ملٹری کورٹس کے معاملات میں سول عدالتیں مداخلت نہیں کرتی ہیں۔ لیکن دوسری طرف یہ دلیل ہے کہ ملٹری کورٹس میں سویلین کا ٹرائل نہیں ہو سکتا۔ لیکن پھر ایسی مثالیں بھی سامنے آجاتی ہیں جہاں سویلین کو ملٹری کورٹس میں ٹرائل کیا گیا ہے۔ تب تو ہماری عدالتوں نے مداخلت نہیں کی ۔ اب کیوں کریں گی۔ کیا مداخلت صرف عمران خان کے لیے ہی ہے۔

تحر یک انصاف کی قیادت عجیب منطق پیش کر رہی ہے۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ ہم تو وہاں کھڑے لوگوں کو روک رہے تھے۔ سوال یہ ہے کہ آپ وہاں موجود ہی کیوں تھے؟ آپ نے فوجی تنصیبات کے سامنے احتجاج کا منصوبہ ہی کیوں بنایا؟ یہ کیاپلاننگ تھی کہ فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے گا، آپ کی وہاں موجودگی ہی یہ ثابت کرتی ہے کہ آپ فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانا چاہتے تھے۔جب آپ اپنے مظاہرین کو وہاں لے گئے تو پھر آپ نے ان کو کھلی چھٹی دے دی اور آپ لوگ کھڑے ہو کر تماشہ دیکھتے رہے۔ بعدازاں جو آڈیوز سامنے آئی ہیں، وہ بتا رہی ہیں کہ آپ کو دکھ نہیں تھا بلکہ آپ اس کو اپنی فتح کے طور پر پیش کر رہے تھے۔ آپ کے لیڈر فخر سے بتا رہے تھے کہ ہم نے کور کمانڈر کے گھر کو آگ لگا دی ہے۔ سامان لوٹ لیا ہے۔

مزمل سہروردی کا کہنا ہے کہ فوج کے سیاسی کردار پر احتجاج ہوتے رہے ہیں۔ فوج کے دور آمریت میں بھی جمہوریت کی بحالی کے لیے احتجاج ہوتے رہے ہیں۔ فوجی آمریت کے خلاف بڑی بڑی تحریکیں چلی ہیں۔ لوگوں نے جمہوریت کی بحالی کے لیے خود کو آگ بھی لگائی ہے۔ لیکن کبھی فوجی تنصیبات کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔

کبھی جی ایچ کیو کا گیٹ نہیں توڑ ا گیا۔ کبھی حساس اداروں کے دفاتر کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔ یہ احتجاج کی کون سے شکل تھی جو تحریک انصاف کرنے چلی تھی۔ کیا عوا م اور فوج کو لڑانے کی کوشش تھی جو ناکام ہو گئی۔  اس پر سخت ایکشن ہونا چاہیے۔ کیونکہ اگر آج کوئی ا یکشن نہ ہوا تو کل کسی اور کو بھی یہ جرات ہوگی۔ ویسے ہی پہلے بھی یہ موازنہ ہورہا ہے کہ چھوٹے صوبے اور بڑے صوبے کے ڈومیسائل میں فرق نہیں ہونا چاہئے۔

Back to top button