نظام بدلنے کی باتیں

تحریر: محمد بلال غوری
بشکریہ: روزنامہ جنگ
لطیفہ گوئی و جگت بازی پاکستانی حکام کا پسندیدہ مشغلہ ہے ۔جب اخبارات کے نیوز روم میں خبروں کی نوک پلک سنوارا کرتے تھے تو کسی بھی اہم موقع پر وفاقی یا صوبائی وزیر داخلہ کا بیان پڑھ کر بے اختیار ہنس پڑتے ۔’’کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دیں گے۔‘‘گویاشرپسندوں نے وزیر موصوف کو قانون ہاتھ میں لینے کیلئے باضابطہ درخواست لکھ کر پیش کی اور انہوں نے مسترد کردی۔میں پہلے بھی کئی بار اس رائے کا اظہار کرچکا ہوں کہ شاید وزارت داخلہ کی کرسی کاکمال ہےکہ اچھا خاصا معقول شخص اس پر براجمان ہوتے ہی بہک جاتا ہے اور ترنگ میں آکر عجیب و غریب باتیں کرنے لگتا ہے۔مثلاًچوہدری نثار کتنے زیرک اور منجھے ہوئے سیاستدان تھے مگر انکے عجیب وغریب قسم کے بیانات کے پیش نظر دفعتاً یہ خیال آیا کہ کیوں نہ اقوال نثار کے نام سے ایک کتابچہ شائع کروایا جائے۔مثال کے طور پر جب طالبان سے مذاکرات کا قومی کھیل پورے جوبن پر تھا تو ایک دن چوہدری نثار نے ببانگ دہل طالبان کو کرکٹ میچ کھیلنے کی دعوت دے ڈالی۔ وہ تو بھلا ہو طالبان کا کہ انہوں نے شکریہ کے ساتھ یہ دعوت قبول کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ انہیں کرکٹ کا کھیل پسند ہی نہیں ورنہ ایک طرف نثار الیون اور دوسری طرف حکیم اللہ محسود الیون، چشم تصور سے ملاحظہ کیجئے کیا منظر ہوتا۔ حکیم اللہ محسود کی موت پر اس وقت کے امیر جماعت اسلامی منور حسن کے بعد جس شخص کو سب سے زیادہ دکھ ااور رنج ہوا، وہ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان تھے۔ پھر ایک دن ان پر کیفیت طاری ہوئی تو پارلیمنٹ میں بلا خوف و تردد کہہ دیا کہ طالبان حکومت دشمن تو ہو سکتے ہیں مگر ملک دشمن ہرگز نہیں۔ چونکہ پریس کانفرنس کرنا ان کا محبوب مشغلہ تھا اس لئے ایک دن صحافیوں کو جمع کر کے انکشاف کیا کہ اسلام آباد کی سیکورٹی فول پروف ہے۔ شومئی قسمت اس پریس کانفرنس کے تیسرے روز ہی اسلام آباد کچہری میں دھماکہ ہو گیا جس میں ایڈیشنل سیشن جج رفاقت حسین شہید ہوئے۔ چوہدری نثار اچانک نمودار ہوئے اور بتایا کہ جج صاحب دہشتگردوں کی فائرنگ سے نہیں بلکہ اپنے محافظ کی گولی سے شہید ہوئے۔ ایک مرتبہ دہشتگردوں کی شناخت اور علامات سے قوم کو آگاہ کرتے ہوئے فرمایا، کسی کو تنور سے 50یا اس سے زائد روٹیاں لے جاتے دیکھیں تو قانون نافذ کرنیوالے اداروں کو اطلاع دیں کیونکہ ایسے لوگ دہشتگرد ہو سکتے ہیں۔ ایک دن راجپوتانہ خون نے جوش مارا تو فرمایا ہم افغانستان کے چوکیدار نہیں مگر اسکے باوجود پرانی تنخواہ پر چوکیداری کی ملازمت جاری و ساری رہی۔ لاہور سمیت پنجاب کے کئی علاقوں سے داعش کے لوگ پکڑے گئے، آئی بی سمیت تمام خفیہ ادارے متنبہ کر رہے تھے کہ داعش پاکستان میں پنجے گاڑنے کی کوشش کر رہی ہے اگر اسکے خلاف بروقت کارروائی نہ کی گئی تو یہ ملکی سلامتی کیلئے بڑا خطرہ بن سکتی ہے مگر ہمارے وزیر داخلہ ایسے وسوسوں اور اندیشوں سے کوسوں دور رہے اور مسلسل یہ بیان داغتے رہے کہ پاکستان میں داعش کا کوئی وجود نہیں۔
رحمان ملک مرحوم بھی بطور وزیر داخلہ مضحکہ خیز قسم کے بیانات دینے کے حوالے سے مشہور تھے ۔مثال کے طور پر کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں اضافہ ہوا تو انہوں نے فرمایا ،کراچی میں 70فیصد ٹارگٹ کلنگ کے پیچھے بیویاں اور محبوبائیں ہوتی ہیں۔شیخ رشید بھی کئی با ر وزیر داخلہ رہے ،ان کے کریڈٹ پر بھی اس قسم کے بیشمار بیانات ہیں ۔جب بھی بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ ہوتا ہے تو وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے طرح دار بیانات یاد آتے ہیں۔ 26اگست 2024ء کو ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب بلوچستان دھماکوں سے گونج اُٹھا تو جناب محسن نقوی کوئٹہ پہنچے اور وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کی۔ کسی صحافی نے فوجی آپریشن سے متعلق سوال کیا تو فرمایا، دہشتگردوں کیخلاف کارروائی کیلئے کسی لمبی چوڑی سائنس یا فوجی آپریشن کی ضرورت نہیں، یہ دہشتگرد صرف ایک ایس ایچ او کی مار ہیں۔لیکن اب تو انہوں نے کمال ہی کردیا ،ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا،آپ مانیں یا نہ مانیں ،نظام ڈھے چکا ہے ۔وزیر داخلہ نے جو فرمایا سب قوم کا سرمایہ اور کسی کی کیا مجال کہ اختلاف کی جسارت کرسکے ۔ہمارے جیسے دیوانے تو ایک عرصہ سے دہائی دے رہے تھے کہ یہ نظام گل سڑ چکا ہے۔مگر اسے حالات کی ستم ظریفی کہیں یا کچھ اور ،جن کا برگ و بار، سیاست کا اُبھار،شخصیت کا نکھار اورہر طرف بہار اس نظام کے مرہون منت ہے ،وہ نظام بدلنے کی بات کررہے ہیں ۔گویا گوشہ قفس کی تنہائی میں روز و شب بسر کرنے والوں نے درد سے کراہ کر جو آہ کی تھی ،آج گلشن میں وہی طرز فغاں ٹھہری ہے۔بقول غالب ’’لو وہ بھی کہتے ہیں کہ یہ بے ننگ و نام ہے ۔‘‘قابل ذکر بات یہ ہے کہ محولابالا بیان کسی مایوس ’’کاکروچ‘‘،دل برداشتہ صحافی ،محرومیوںکے شکار دانشور ،راندہ درگاہ انقلابی یا استحصال کے شکار کسی قوم پرست کا نہیں بلکہ اس شخص کا ہے جسے نہ صرف اس نظام کی پیداوار کہا جاسکتا ہے بلکہ اسے نظام چلانے والوں کی قربت اور اعتماد بھی حاصل ہے۔
یادش بخیر ،میاں نوازشریف کے دوسرے دورِحکومت میں جب ان کے پاس دو تہائی اکثریت تھی اور وہ پاکستان کی تاریخ کے طاقتورترین وزیراعظم تھے تو انہوں نے ایک سے زائد مرتبہ فرمایا ،اگر موجودہ نظام برقرار رہا تو خطرہ ہے شاید ملک برقرار نہ رہ سکے ۔گویا آج محسن نقوی نے جو کچھ کہا ،میاں نوازشریف لگ بھگ 29برس قبل یہی چتائونی دے چکے ہیں۔خاکم بدہن ،مجھے لگتا ہے یہ چمن یونہی رہے گا۔کچھ نہیں بدلے گا ۔کیونکہ جب اس نظام کے پتھارے دار نظام بدلنے کی باتیں کرتے ہیں تو ان کا مطمح نظر عام آدمی کے حالات بدلنا نہیں ہوتا ،ان کی غرض و غایت اور تمنا بس یہی ہوتی ہے کہ ’’کاکروچ‘‘نکلنے سے پہلے ان کا نعرہ اور بیانیہ چرالیا جائے تاکہ اس نظام کو بیخ و بن سے اُکھاڑنے کی کوشش کامیاب نہ ہوسکے۔
