کیا چیف جسٹس ہی تحریک انصاف کی مشکلات کے واحد ذمہ دار ہیں؟

سینئر صحافی اور کالم نگار نصرت جاوید نے کہا ھے کہ تحریک انصاف کے قائد مقتدر قوتوں کے ساتھ ’’نبھاہ‘‘ کے قواعد پر ثابت قدمی کے ساتھ عمل نہیں کر پائے ہیں۔غصے سے مغلوب ہو کر عمران خان مقتدر قوتوں کے ساتھ اپنے اختلافات کو ’’تخت یا تختہ‘‘ والی جنگ بنائے ہوئے ہیں۔تحریک انصاف چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو اپنی مشکلات کا واحد ذمہ دار ثابت کر رہی ہے حالانکہ کوئی سیاسی جماعت ریاستی قوتوں کے ساتھ اختلافات کو جنگ کے ذریعے ختم کرنے کی کوشش کرے تو بالآخر نقصان اسی کا ہوتا ہے۔ اپنے ایک کالم میں نصرت جاوید کہتے ہیں کہ چند ہی سال قبل تک نواز شریف کی مسلم لیگ بھی ویسی ہی مشکلات کا سامنا کرتی رہی ہے جو ان دنوں تحریک انصاف کا مقدر ہیں ۔مسلم لیگ (نون) سے قبل ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی پیپلز پارٹی جولائی 1977ء سے 1985ء تک مسلسل زیر عتاب رہی۔ جنرل ضیاء کی فضائی حادثے میں ہلاکت کے بعد بھی ریاست کے مقتدر اداروں نے اسے معاف نہیں کیا۔صدر غلام اسحاق خان افسر شاہی کے ذریعے محترمہ کی پہلی حکومت کو لگام ڈالتے رہے۔آبادی کے اعتبار سے ہمارے سب سے بڑے صوبے سے ابھرے وزیر اعلیٰ نواز شریف کو وفاقی حکومت سے متھا لگانے کے عمل میں ریاست نے ان کی سہولت کاری کاکردار ادا کیا۔عدلیہ کا عمومی رویہ بھی اس پیپلز پارٹی کے ساتھ مخاصمانہ ہی رہا ہے۔ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی اس کی بدترین مثال ہے۔ قصہ مختصر وطن عزیز میں تقریباََ ہر بڑی سیاسی جماعت ریاستی عتاب کی زد میں رہی ہے۔ ان دنوں ریاستی عتاب کی زد میں آئی تحریک انصاف اور اس کے جذباتی حامی مگر حقائق کو نظرانداز کئے جارہے ہیں۔نہایت فخر سے دعویٰ کیے جارہے ہیں کہ ’’تاریخ میں پہلی بار‘‘ ان کی جماعت کو بدترین ریاستی جبر کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔اپنے بارے میں یہ گھمنڈ تحریک انصاف کو وسیع تر عوامی حمایت سے محروم کر رہا ہے۔اس جماعت کے سرکردہ رہ نمائوں کو مگر اس کا احساس بھی نہیں ہورہا۔
نصرت جاوید لکھتے ہیں کہ اپریل 2016ء سے پی ٹی آئی کو مستقل مزاجی سے سمجھایا بھی جاتا رہا کہ ثاقب نثار کی سپریم کورٹ کے ذریعے جو گیم نواز حکومت کو کمزور کرنے کے لئے لگائی جارہی ہے وہ تاریخی جبر کی بدولت تحریک انصاف کے خلاف بھی استعمال ہوسکتی ہے۔ مگر اس پرخلوص رائے کو نظر انداز کر دیا گیا ۔عمران مخالف قوتوں نے جمع ہوکر تحریک انصاف کو آئینی مدت مکمل کرنے نہیں دی۔ اس سے قبل عدالتی مداخلت کی وجہ سے یوسف رضا گیلانی اور نواز شریف بھی وزارت عظمیٰ سے فارغ کروائے گئے تھے۔ ان کی فراغت کے باوجود ان ہی کی جماعت سے ابھرے راجہ پرویز اشرف اور شاہد خاقان عباسی نے آئینی مدت مکمل کی۔عمران حکومت کی جگہ شہباز حکومت کا اپریل 2022ء میں قیام یہ پیغام دے رہا ہے کہ آئندہ انتخابات کے بعد قائم ہوئی حکومتوں کو بھی استحکام نصیب نہیں ہوگا۔ 1950ء کی دہائی کی طرح ہمارے وزیر اعظم یا صوبوں کے وزرائے اعلیٰ محاورتاََ ہر دوسرے دن بدلے جائیں گے۔نصرت جاوید کے مطابق مستقبل کے بارے میں زائچہ نویسی کے بجائے حال پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے تحریک انصاف سے ا لتجا کرنا ہوگی کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو اپنی مشکلات کا واحد ذمہ دار ثابت نہ کریں۔ان کے قائد کا درحقیقت مقتدرکہلاتی قوتوں سے جھگڑا 2021ء کے ابتدائی مہینوں ہی میں شروع ہوگیا تھا۔سیاسی جماعتیں پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہوئے اپنے اہداف کی جانب بڑھتی ہیں اور ان کے حصول کیلئے ’’یکا وتنہا مجاہد‘‘ ہونے کی دعوے دار بھی نہیں ہوتیں۔ ان کی بقا اور تحفظ دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ وسیع تر بنیادوں پر بنائے اتحاد ہی کے ذریعے ممکن ہے۔سیاست جب ’’نظریاتی‘‘ ہوا کرتی تھی تو ولی خان کی نیشنل عوامی پارٹی اور مولانا مودودی کی جماعت اسلامی دو مختلف انتہاؤں کی نمائندہ تھیں یعنی ’’سیکولر ‘‘ اور ’’دینی قوتیں‘‘ مگر ایوب حکومت کے خلاف یہ دونوں متحد ہوگئیں۔بعد ازاں ان دونوں جماعتوں نے باہم مل کر ذوالفقار علی بھٹو کے آمرانہ رحجانات کو للکارا۔ تحریک انصاف کو بھی اب ’’اخلاقی بلندی‘‘ کے خمارسے باہر آکر دیگر سیاسی جما عتوں اور سول سوسائٹی سے پرخلوص مکالمے کے ذریعے اپنے ہمدرد اور خیرخواہ ڈھونڈنا ہوں گے۔چیف جسٹس فائز عیسیٰ تحریک انصاف کی مشکلات کے واحد ذمہ دار نہیں۔ ان کے حقیقی اسباب سپریم کورٹ نہیں کسی اور جگہ موجود ہیں۔ یہ حقیقت بخوبی سمجھنے کے بعد ہی تحریک انصاف اپنے لئے آسانیاں ڈھونڈ سکتی ہے
