کیا عمرانڈو الیکشن جیت کر تحریک انصاف کو جوائن کر سکیں گے؟

تحریک انصاف اپنا انتخابی نشان بلا کھو جانے کے باوجود الیکشن کمیشن میں بطور رجسٹرڈ سیاسی جماعت موجود ہے۔ تاہم تحریک انصاف کی بطور رجسٹرڈ جماعت موجودگی کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن جیتنے کے بعد عمرانڈوز کے پاس پی ٹی آئی کو باضابطہ طور پر جوائن کرنے یا پھر قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں پی ٹی آئی کی نمائندگی کا آپشن ہوگا؟

سینئر صحافی انصار عباسی کے مطابق سابق اٹارنی جنرل اور سینئر وکیل انور منصور کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کو بحیثیت سیاسی جماعت الیکشن لڑنے سے روک دیا گیا ہے لیکن اس کی رجسٹریشن ختم نہیں ہوئی اور یہ جماعت اب بھی الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ جماعت کی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ پی ٹی آئی سے انتخابی نشان واپس لیے جانے کے بعد پارٹی امیدوار اب آزاد حیثیت سے الیکشن لڑ سکتے ہیں، الیکشن کے بعد آزاد حیثیت سے جیتنے والے امیداروں کے پاس پی ٹی آئی میں شمولیت کا آپشن رہے گا۔

سابق اٹارنی جنرل کا مزید کہنا تھا کہ آئندہ پارلیمنٹ میں پی ٹی آئی کی نمائندگی وہ لوگ کر سکتے ہیں جو آزاد حیثیت سے الیکشن جیتنے کے بعد پارٹی میں شمولیت اختیار کر لیں۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سابق سیکریٹری کنور دلشاد کا پی ٹی آئی کی اب تک الیکشن کمیشن کی رجسٹرڈ جماعتوں کی فہرست میں موجودگی پر حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ جو سیاسی جماعت انتخابی نشان سے محروم ہو جائے وہ اپنی سیاسی جماعت کی حیثیت بھی باضابطہ طور پر کھو دیتی ہے۔ انتخابی نشان واپس لیے جانے کے بعد سیاسی جماعت کی رجسٹریشن بھی منسوخ ہو جاتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو لوگ آزاد حیثیت سے الیکشن جیتیں گے وہ پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار نہیں کر سکتے۔ کنور دلشاد کی نظر میں الیکشن کمیشن میں باضابطہ طور پر پی ٹی آئی کی بطور سیاسی جماعت حیثیت ختم ہو چکی ہے لیکن انور منصور کا اصرار تھا کہ کچھ دیگر قانونی شقیں موجود ہیں جن میں باضابطہ ریفرنس کی بنیاد پر سیاسی جماعت کی تحلیل یا پھر رجسٹریشن کی تنسیخ کا ذکر موجود ہے۔

خیال رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے الیکشن ایکٹ 2017ء کے سیکشن 215؍ کے تحت پی ٹی آئی سے انتخابی نشان واپس لیا۔ اس سیکشن کے مطابق، اگر کوئی سیاسی جماعت سیکشن 209 یا سیکشن 210 کی تعمیل میں ناکام رہتی ہے، تو کمیشن اسے سماعت کا ایک موقع دینے کے بعد اسے پارلیمنٹ، صوبائی اسمبلی یا بلدیاتی حکومت کے انتخاب کیلئے انتخابی نشان حاصل کرنے کیلئے نااہل قرار دے سکتا ہے، اور کمیشن ایسی سیاسی جماعت یا سیاسی جماعتوں کے اتحاد کو آئندہ انتخابات کیلئے انتخابی نشان الاٹ نہیں کرے گا۔ مذکورہ سیکشن سیاسی جماعت کی تحلیل یا اس کی رجسٹریشن کی تنسیخ کے بارے میں کچھ نہیں کہتا، بلکہ صرف ’’بعد میں ہونے والے الیکشن‘‘ کیلئے انتخابی نشان واپس لینے کا حوالہ دیتا ہے۔ قانون اور آئین اس بارے میں خاموش ہے کہ آیا آزاد امیدوار الیکشن جیتنے کی صورت میں پارلیمنٹ میں اُس سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کر سکتا ہے جس سے انتخابی نشان واپس لیا جا چکا ہو۔

تاہم، مخصوص نشستوں کی صورت میں آئین آزاد حیثیت سے کامیاب ہونے والے امیدواروں کو اجازت دیتا ہے کہ وہ سرکاری گزٹ میں کامیاب امیداروں کے نام شائع ہونے کے تین دن کے اندر ایسی سیاسی جماعتوں میں شمولیت اختیار کر سکتے ہیں جو پہلے ہی انتخابات میں عام نشستیں جیت چکی ہیں۔

آئین کے آرٹیکل 51(6) ڈی میں لکھا ہے کہ خواتین کیلئے مخصوص شدہ نشستوں کیلئے جو کسی صوبے کیلئے شق تین کے تحت مختص کی گئی ہیں ارکان قانون کے مطابق سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کی فہرست سے متناسب نمائندگی کے نظام کے ذریعے قومی اسمبلی میں متعلقہ صوبہ سے ہر ایک سیاسی جماعت کی طرف سے حاصل کردہ عام نشستوں کی کل تعداد کی بنیاد پر منتخب کیے جائیں گے۔

لیکن شرط یہ ہے کہ اس پیراگراف کی غرض کیلئے کسی سیاسی جماعت کی طرف سے حاصل کردہ عام نشستوں کی کل تعداد میں وہ کامیاب آزاد امیدوار شامل ہوں گے جو سرکاری جریدے میں کامیاب امیداروں کے ناموں کی اشاعت سے تین یوم کے اندر باضابطہ طور پر مذکورہ سیاسی جماعت میں شامل ہو جائیں۔

واضح رہے کہ قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کے وہ ارکان جن کا تعلق پی ٹی آئی سے ہوگا جب وہ آزاد رکن کے طور پر منتخب ہوجائیں گے تو انہیں تین دن میں ایوان میں کسی ایک رجسٹرڈ پارٹی میں شامل ہونا ہوگا بصورت دیگر وہ ایوان کے آزاد رکن ہی رہیں گے۔ اس وقت تک جب تک کہ ایوان کی مدت پوری نہیں ہوتی۔ پارلیمانی ذرائع نے متعلقہ قواعد کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے نتیجے میں بہت سے امیدوارآزاد ارکان کی حیثیت سے اپنی نشستوں پر واپس آجائیں گے ۔کسی پارٹی میں شمولیت کے بعد وہ کسی بھی جماعت کی عددی طاقت بڑھاسکتے ہیں۔ چونکہ پی ٹی آئی قومی اسمبلی کے انتخابات کے وقت موجود ہی نہیں ہوگی تو ایسے ارکان کی اکثریت کی مخصوص نشستوں کے انتخاب میں موثر کردار ہوگا۔ نتیجتا وزیراعظم ،وزارئے اعلیٰ کے انتخاب میں بھی ان کا ہاتھ ہوگا اورہر رکن کی پوزیشن کی نشاندہی ہوگی۔ارکان اسمبلی اسپیکر کے انتخاب میں خفیہ طریقہ کار برقرار رکھیں گے اور اس کے فوری بعدحلف برداری ہوگی ۔سبکدوش ہونے والا اسپیکر ارکان سے حلف لے گااور اپنے جانشین کا انتخاب کرائے گا۔چنانچہ وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ کےلیے انتخاب اگلا مرحلہ ہوگا۔ذرائع نے عندیہ دیا ہے کہ نئی قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیاں اپنا افتتاحی اجلاس فروری کے دوسرے ہفتے میں منعقد کریں گی۔الیکشن کمیشن آف پاکستان کو 14 دن کے اندر انتخابی نتائج شائع کرنا ہوں گے۔ غالب امکان یہ ہے کہ نیا وزیراعظم یکم مارچ یااس سے ایک دن پہلے عہدے کا حلف اٹھائےگا۔جبکہ وزرائے اعلیٰ کا انتخاب وزیراعظم کے انتخاب کے تین دن کے اندر ہوسکتا ہے۔سینیٹ کے انتخابات تیسرے ہفتے تک ہوسکتے ہیں اس کے بعد صدر کا انتخاب ہوگا۔ پی ٹی آئی کی نمائندگی کہیں نہیں ہوگی سوائے سینیٹ کہ جہاں اس کے17 ارکان ہیں۔

فوجی عدالتیں 9 مئی کے ملزمان کو سزائیں کب سنائیں گی؟

Back to top button