فوجی عدالتیں 9 مئی کے ملزمان کو سزائیں کب سنائیں گی؟

بلا چھن جانے کے بعد پریشانی کی شکار عمرانڈو قیادت پر ایک اور خبر بجلی بن کر گرنے والی ہے۔ حکومت نے سانحہ 9 مئی میں ملوث سرکردہ شرپسندوں کو الیکشن سے پہلے انجام تک پہنچانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ سینئر صحافی انصار عباسی نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ سانحہ 9؍ مئی کے حملوں میں مبینہ طور پر ملوث 103؍ عام شہریوں یعنی سویلینز کا ملٹری ٹرائل تقریباً مکمل ہو چکا ہے۔ ایک باخبر سرکاری ذریعے نے بتایا ہے کہ ایسے تقریباً 90؍ فیصد کیسز میں مشتبہ افراد 9؍ مئی کو فوجی تنصیبات پر حملوں میں ملوث پائے گئے ہیں۔ تاہم، سپریم کورٹ کے آرڈر کی وجہ سے ان کیسز کا فیصلہ نہیں سنایا جا رہا۔ سپریم کورٹ نے 103؍ شہریوں کے فوجی ٹرائل کو کالعدم قرار دینے کے اپنے سابقہ فیصلے کو معطل کرتے ہوئے ان ٹرائلز کی مشروط اجازت دی تھی۔ سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے تھے کہ حتمی فیصلے تک فوجی عدالتیں ملزمان کیخلاف فیصلہ جاری نہیں کریں گی۔ جس کی وجہ سے شرپسندوں کو سز نہیں سنائی جا رہی۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے گزشتہ سال دسمبر کے وسط میں کیس کی سماعت جنوری 2024 کے تیسرے ہفتے تک ملتوی کی تھی۔ 6؍ رکنی بینچ کی جانب سے 5-1؍ کی اکثریت سے سنایا جانے والا فیصلہ در اصل انٹرا کورٹ اپیلوں کے تسلسل کا نتیجہ تھا، جن میں فوجی ٹرائل کو کالعدم قرار دینے والے سابقہ متفقہ فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔ یہ اپیلیں نگراں وفاقی حکومت اور بلوچستان، پنجاب اور خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومتوں نے دائر کی تھیں۔

خیال رہے کہ 9 مئی کو القادر ٹرسٹ کیس میں بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے سے گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کی طرف سے ملک گیر احتجاج کیا گیا تھا جس کے دوران شرپسندانہ کارروائیوں میں فوجی، سول اور نجی تنصیبات کو نذر آتش کیا گیا تھا، سرکاری و نجی املاک کو شدید نقصان پہنچایا گیا تھا جبکہ اس دوران کم از کم 8 افراد ہلاک اور 290 زخمی ہوئے تھے۔

مظاہرین نے لاہور میں کور کمانڈر کی رہائش گاہ پر بھی دھاوا بول دیا تھا جسے جناح ہاؤس بھی کہا جاتا ہے اور راولپنڈی میں واقع جنرل ہیڈکوارٹرز جی ایچ کیوکا ایک گیٹ بھی توڑ دیا تھا۔اس کے بعد ملک بھر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ لڑائی، توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ میں ملوث 1900 افراد کو گرفتار کر لیا گیا تھا جبکہ عمران خان اور ان کی پارٹی کے کارکنوں کے خلاف مقدمات بھی درج کیے گئے تھے۔

واضح رہے کہ اگر کسی شخص پر الزام ہو کہ اس نے فوج کی کمان کے خلاف کوئی بیان جاری کیا یا تقریر کی یا فوج کے ماتحت افسران کو اپنی کمان کے خلاف بغاوت پر اکسایا، یا فوج سے متعلق حساس معلومات کسی غیر ملکی کو دیں اور یا پھر جمہوری حکومت کے خاتمے کے لیے فوج کو اقتدار سنبھالنے پر اکسایا تو اس شخص کے خلاف مقدمہ فوجی عدالت میں بھیجا جاتا ہے۔پاکستان کے ملٹری ایکٹ میں بھی اس کا طریقہ کار موجود ہے۔ وکیل کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کا کہنا ہے کہ اصولی طور پر اگر کسی سویلین کے خلاف کوئی مقدمہ درج ہوتا ہے تو فوج کی جج ایڈووکیٹ جنرل یعنی جیگ برانچ کا نمائندہ متعقلہ سیشن جج کو ملزم کی حوالگی کے بارے میں درخواست دیتا ہے۔انھوں نے کہا کہ اگر ملزم پارٹی کی طرف سے اس اقدام کوعدالت میں چیلنج کیا جائے تو پھر سیشن جج یہ معاملہ وفاقی حکومت کو بجھوا سکتا ہے اور وفاقی حکومت سے منظوری ملنے کے بعد متعقلہ سیشن جج ملزم کو فوج کے حوالے کرتا ہے۔کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کا کہنا تھا کہ ایک مرتبہ جب کسی سویلین کا معاملہ فوجی عدالت میں چلا جاتا ہے تو فوج کی پراسیکوشن برانچ کا ایک افسر ملزم کے خلاف تمام شواہد اکھٹے کرتا ہے اور تمام شواہد کا ریکارڈ ملزم کو فراہم کردیا جاتا ہے۔ ملزم کو شواہد کا ریکارڈ فراہم کرنے کے 24 گھنٹوں کے بعد اسے اس مقدمے کی سماعت کے لیے قائم کی گئی خصوصی عدالت میں پیش کیا جاتا ہے۔

یہ خصوصی عدالت تین ارکان پر مشتمل ہوتی ہے اور اس تین رکنی ارکان کی سربراہی کرنے والے کو پریذیڈنٹ کہا جاتا ہے جو کہ لیفٹیننٹ کرنل رینک کا افسر ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر کوئی اہم مقدمہ ہو تو پھر جیگ برانچ کا نمائندہ بھی اس خصوصی عدالت میں شامل کر لیا جاتا ہے۔ملزم پر فرد جرم عائد کیے جانے کے بعد اسے اپنے وفاع کے لیے وقت دیا جاتا ہے جو کہ زیادہ سے زیادہ سات روز کا ہوتا ہے۔

فرد جرم عائد کیے جانے کے بعد ملزم کو خود یا اپنے وکیل کے ذریعے پراسیکوشن کی طرف سے پیش کیے گئے شواہد یا گواہان پر جرح کرنے کا حق ہے۔ اس کے علاوہ ملزم کو اپنے دفاع میں کوئی گواہ یا دستاویزات بھی پیش کرنے کا حق ہوتا ہے۔سات روز کے اندر دونوں اطراف سے کارروائی مکمل کرنے کے بعد یہ تین رکنی بینچ اپنی رائے مرتب کرکے کنوئنگ اتھارٹی کو بھیجے گا اور یہ اتھارٹی برگیڈئر یا میجر جنرل رینک کے افسر کی ہوگی۔اس تین رکنی بینچ کی رائے پر مبنی جو بھی فیصلہ ہوگا وہ کھلی عدالت میں نہیں بتایا جائے گا بلکہ ملزم جس یونٹ کی تحویل میں ہوگا اس کو اس سزا کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا۔مجرم کو سزا سے متعلق آگاہ کیے جانے کے بعد اسے جیل بھیج دیا جاتا ہے اور مجرم کے پاس اس سزا کے خلاف چالیس روز کے اندر اپیل دائر کرنے کا حق ہوتا ہے۔

اپیل دائر ہونے کی صورت میں مجرم کی اپیل سننے کے لیے ایک عدالت قائم کردی جاتی ہے جسے کورٹ آف اپیل کہا جاتا ہے اور یہ عدالت بھی مجرم کی اپیل پر ایک ہفتے کے اندر فیصلہ سنا دیتی ہے۔کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کا کہنا تھا کہ اگر مجرم کی نظرثانی کی درخواست کورٹ آف اپیل سے مسترد ہوجاتی ہے تو پھر مجرم کے پاس فوجی عدالت کے اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرنے کا حق ہوتا ہے۔انھوں نے کہا کہ اگر ہائی کورٹ بھی فوجی عدالت کا فیصلہ برقرار رکھتی ہے تو پھر مجرم ہائی کورٹ کے فیصلے کو

اداکارہ ریشم شادی کے نام سے اتنی خوفزدہ کیوں ہیں؟

سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا حق رکھتا ہے۔

Back to top button