مسلم لیگ ن کے رہنما نذیر چوہان کیخلاف دہشتگردی کا مقدمہ درج
پولیس کی جانب سے مسلم لیگ ن کے ایم پی اے نذیر چوہان کیخلاف دہشتگردی کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، نذیر چوہان پی پی 167 سے ن لیگ کے ٹکٹ پر ایم پی اے منتخب ہوئے۔
سابق ایم پی اے نذیر احمد چوہان کے خلاف لاہور کے تھانے میں درج مقدمے کے مطابق پولیس نے کینال روڈ تھانے میں درج مقدمے میں نذیر احمد چوہان کی گرفتاری کے لیے ناکہ بندی کی، جب انہیں روکا گیا تو نذیر احمد چوہان گاڑی سے اترے تو ہاتھ میں پستول تھا جبکہ دوسری گاڑی میں مسلح افراد سوار تھے۔
مقدمے کے مطابق اس دوران نذیر چوہان اور ان کے مسلح ساتھیوں نے پولیس پر سیدھی فائرنگ کی، نذیر چوہان کو انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
پی پی 167 کے ضمنی انتخاب کے دوران پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کے درمیان مسلح تصادم کے کیس میں پولیس نے گزشتہ روز مسلم لیگ (ن) کے رہنما نذیر احمد چوہان کو گرفتار کیا تھا۔
سی آئی اے کی ٹیم نے پی ٹی آئی سے منحرف ہو کر مسلم لیگ (ن) میں شامل ہونے والے سابق ایم پی اے نذیر احمد چوہان کو چوہنگ کے علاقے سے گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔
بیرون ملک پاکستانی آمروں کی حمایت کیوں کرتے ہیں؟
ایس ایس پی انویسٹی گیشن عمران کشور نے نذیر احمد چوہان کی ایک ایف آئی آر کے سلسلے میں گرفتاری کی تصدیق کی، وہ اایف آئی آر ان کے خلاف 19 جون کو ضمنی انتخاب کی مہم کے دوران جوہر ٹاؤن تھانے میں درج کی گئی تھی۔
جوہر ٹاؤن کے علاقے اللہ ہو چوک پر ہونے والے تصادم میں دونوں جانب سے متعدد کارکنان فائرنگ اور لاٹھیوں سے زخمی ہو گئے تھے، پولیس نے علاقے کو انتہائی حساس قرار دیتے ہوئے مقدمہ درج کر لیا تھا۔
یہ واقعہ اس وقت منظر عام پر آیا تھا جب دونوں جماعتوں کے رہنماؤں شبیر گجر اور نذیر احمد چوہان نے ایک دوسرے پر کارکنوں پر مسلح حملے کرنے کے الزامات لگائے تھے، یہ دونوں رہنما حلقہ پی پی 167 سے ضمنی الیکشن لڑ رہے تھے جس میں نذیر احمد چوہان کو شبیر گجر نے شکست دے دی تھی۔
پولیس اہلکار نے بتایا کہ نذیر احمد چوہان کو اس کیس کے سلسلے میں لاہور پولیس کے اعلیٰ افسران کی ہدایت پر گرفتار کیا گیا۔اہکار نے بتایا کہ شبیر گجر نے پولیس سے کہا کہ ان کے بھتیجے کے طبی معائنے کی رپورٹ کی روشنی میں پولیس نذیر چوہان کے خلاف کارروائی کرے۔
