نواز شریف نے پاکستان واپسی کا حتمی فیصلہ کر لیا؟

اسٹیبلشمنٹ کے عمرانڈو دھڑے سے تعلق رکھنے والے اینکر پرسن کامران خان نے قابل اعتماد ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف نے اپنی جماعت کو بچانے کے لئے پاکستان واپسی کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔
کامران خان کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی وطن واپسی اگست کے مہینے میں ہی ہوگی اور اس سے قبل ان کی حفاظتی ضمانت ممکن بنائی جائیگی، یاد رہے کہ نواز شریف علاج کی غرض سے 2019 سے لندن میں مقیم ہیں تاہم نون لیگ نے اس دعوے کی تردید یا تصدیق نہیں کی۔
کامران خان نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ نواز شریف کی جماعت ان کی واپسی کو ایک تاریخی سیاسی پاور شو بنانے کہ کوشش کرے گی اور مریم نواز واپسی کے تمام تر انتظامات کی قیادت کریں گی۔
یاد رہے کہ کئی ماہ سے یہ خبریں زیر گردش ہیں کہ میاں نواز شریف کی کسی بھی وقت وطن واپسی ہو سکتی ہے۔ سابق وزیر داخلہ شیخ رشید نے تو یہ تک کہہ دیا تھا کہ پرویز مشرف کو ملک واپسی کی سہولت کی پیشکش، دراصل نواز شریف کی پاکستان واپسی کا راستہ ہموار کرنے کی کوشش تھی۔
اس سے قبل شہباز شریف کے وزیراعظم بنتے ہی نواز شریف کو 23 اپریل کو جاری نیا پاسپورٹ جاری کر دیا گیا تھا، اس پاسپورٹ کی معیاد 10 سال ہے۔ اس سے پہلے عمران خان کی حکومت نے نواز شریف کو نیا پاسپورٹ جاری کرنے پر پابندی عائد کر رکھی تھی۔
یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے نواز شریف کو سفارتی پاسپورٹ کے اجرا اور وطن واپسی پر ان کی گرفتاری سے متعلق دائر کردہ درخواست جرمانے کے ساتھ خارج کر دی تھی۔
چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے درخواست گزار سے استفسار کیا تھا کہ بتائیں کہ وفاقی حکومت کے حکم سے آپ۔کیسے متاثر ہیں؟ عدالت ہوا میں تو کوئی آرڈر نہیں کرے گی۔ تاہم جسٹس اطہرمن اللہ نے یہ ریمارکس بھی دیئے تھے کہ عدالتی فیصلے موجود ہیں کہ اشتہاری کو سرینڈر کرنا ضروری ہے، کوئی اشتہاری ہے تو اس کے ساتھ قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔ لہٰذا اس بات کا قوی امکان ہے کہ نواز شریف کو وطن واپسی پر گرفتار کر کے دوبارہ جیل بھیج دیا جائے گا لہٰذا اگر وہ پاکستان واپسی کا فیصلہ کرتے ہیں تو اس سے پہلے ان کی حفاظتی ضمانت لینے کی کوشش کی جائے گی۔

Back to top button