پیٹرولیم لیوی کا جادوئی نسخہ

تحریر: محمد بلال غوری
بشکریہ: روزنامہ جنگ
پاکستان میں یہ تاثر عام ہے کہ لوگ ٹیکس نہیں دیتے۔ کیا آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وطن عزیز میں گزشتہ 25 برس کے دوران ٹیکس وصولی میں کتنا اضافہ ہوا؟ ایک بار آپ تخیل کے گھوڑے دوڑا لیں پھر میںکچھ حیران کن اعداد وشمار شیئر کرتا ہوں۔ سن 2000 ء میں جب سینٹر بورڈ آف ریونیو یعنی CBR ہوا کرتا تھاتو سالانہ 392ارب روپے ٹیکس کی مختلف مدات میں جمع کیے جاتےتھے اور 2023-24 ء میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو یعنی FBRنے عوام کی رگوں سے 9252 ارب روپے نچوڑ لیے۔ جبکہ رواں مالی سال ٹیکس وصولی کیلئے14307ارب روپے کا ہدف تھا جسے کم کرکے 13979ارب روپے کردیا گیا۔کتنے گنا اضافہ ہوا،خود ہی حساب لگالیں۔ممکن ہے کچھ لوگ اسے افراط زر کے باعث ہونے والا اضافہ قرار دیں تو ڈالر میں تخمینہ لگانے کی کوشش کرتےہیں۔ 2000ء میں امریکی ڈالر 52روپے کا تھا تو 7.5بلین ڈالر بنتے ہیں جبکہ 2023-24ء میں ڈالر کی اوسط شرح تبادلہ 278روپے بنتی ہے تو اس حساب سے تقریباً33بلین ڈالر جمع ہوئے۔ گزشتہ 25برس میں 392ارب روپوں سے 14000ارب روپوں کا سفر کیسے طے ہوا ؟کاروباری افراد اور اشرافیہ کو ٹیکس نیٹ میں نہ لایا جاسکا۔ مگر ملک تو چلانا تھا، اسکا حل یہ نکالا گیا کہ جو لوگ اور تنخواہ دار طبقے ٹیکس ادا کرتے ہیں،سارا بوجھ ان پر ہی ڈال دیا گیا۔جب اس سے کام نہ چلا تو ان ڈائریکٹ ٹیکسوں کی مد میں عام آدمی کی زندگی اجیرن کردی گئی۔مگر پھر ایک ایسا جادوئی فارمولا حکومتوں کے ہاتھ لگا جس نے سب مشکلیں آسان کر دیں۔ جولائی 1961ء میں فوجی حکمران ایوب خان نے ایک آرڈیننس جاری کیا تھا کہ ہر کمپنی اور ریفائنری وفاقی حکومت کو پیٹرولیم مصنوعات پر پیٹرولیم لیوی ادا کیا کرئیگی۔جس دور میں سی بی آر 392ارب روپے ٹیکس جمع کیا کرتا تھا ان دنوں پیٹرول 14روپے لیٹر ہوا کرتا تھا مگر بعدازاں پیٹرول کی کھپت ہی نہیں بڑھی بلکہ نرخوں میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا۔ حکومت نے سوچا ،ایک دن میں 58.8ملین لیٹر پیٹرول اور ڈیزل فروخت ہوتا ہے اگر پیٹرولیم لیوی کی مد میں ایک روپے کا اضافہ کیا جائے تو بغیر کسی تگ و تاز کے روزانہ 58.8ملین روپے جمع کئے جاسکتے ہیں۔مالی سال 2009-10ء میں جب سید نوید قمر قدرتی ذرائع اور پیٹرولیم کے وفاقی وزیر تھے تو ریوینیو بڑھانے کیلئے پیٹرولیم مصنوعات پر 10روپے فی لیٹر لیوی عائد کرنے کی تجویز آئی۔دراصل پہلے کاربن سرچارج لگایا گیا جب اسکے خلاف سپریم کورٹ سے فیصلہ آگیا تو جولائی 2009ء میں صدر آصف زرداری نے کاربن سرچارج کی جگہ پیٹرولیم لیوی کی وصولی کیلئے آرڈیننس جاری کردیا۔8مارچ2010ء کو یہ آرڈیننس غیر موثر ہونے کے باوجود پیٹرولیم لیوی وصول کی جاتی رہی اور بعد ازاں اسے قانونی شکل دینے کیلئے فنانس بل کیساتھ پارلیمنٹ سے منظور کروایا گیا۔اس سال ہدف تو 14ارب روپے جمع کرنیکا تھا لیکن پیٹرولیم لیوی سے سال بھر میں 118.5ارب روپے جمع ہوگئے اور خاص بات یہ تھی کہ یہ رقم نہ صرف براہ راست وفاق کے پاس آگئی بلکہ صوبوں کو حصہ دینے کا جھنجھٹ بھی نہ رہا۔ پھر کیا تھا، حکومت کے ہاتھ پیسے اینٹھنے کاآسان ترین نسخہ آ گیا۔مسلم لیگ (ن) کے دورِحکومت میں 2013ء سے 2018ء تک پیٹرولیم لیوی 6سے 14روپے فی لیٹر تک وصول کی جاتی رہی۔ مگر نئے پاکستان میں عوام کو کند چھری سے ذبح کرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ مارچ 2020ء میں معلوم ہوا کہ ایف بی آر کو دیئے گئے ٹیکس ہدف کے مطابق پہلے 8ماہ میں 480ارب روپے کے شارٹ فال کا سامنا ہے۔چنانچہ پیٹرول پر لیوی 15روپے سے بڑھا کر 19.75روپے اور ڈیزل پر 18روپے سےبڑھا کر 25روپے کردی گئی تاکہ ہر ماہ 10ارب روپے اضافی وصول کرکے اس شارٹ فال کو پورا کیا جاسکے۔ خان کی حکومت رخصت ہونے کے بعد جب پی ڈی ایم کا دور شروع ہوا تو نومبر 2022ء میں آئی ایم ایف کیساتھ معاہدہ کرتے وقت پیٹرولیم لیوی 50روپے فی لیٹر تک لیجانے کا فیصلہ ہوا۔ستمبر 2024ء میں آئی ایم ایف سے 37ماہ پر محیط 7بلین ڈالر لینے کا معاہدہ ہوا تو ایک بار پھر پوچھا گیا کہ معیشت ٹھیک کرنے کیلئے ریونیو بڑھانے کی کیا حکمت عملی ہوگی؟ہمارے معاشی ماہرین کے پاس تو ایک ہی فارمولا تھا اسے بروئے کار لاتے ہوئے وعدہ کیا گیا کہ پیٹرولیم مصنوعات پر 80روپے فی لیٹر لیوی وصول کی جائیگی۔مگر اب صورتحال یہ ہے کہ پیٹرول پر دیگر ڈیوٹیز کے علاوہ فی لیٹر 117.5 روپے پیٹرولیم لیوی وصول کی جارہی ہے۔ حکومتی اعدادد وشمار کے مطابق موجودہ مالی سال کے ابتدائی 9ماہ کے دوران پیٹرولیم لیوی کی مد میں 12کھرب،پانچ ارب 18کروڑ روپے وصول کیے جاچکے ہیں۔ مارچ 2026ء میںجب عوام کو سبسڈی دینے کو کھیل رچایا جارہا تھا، اس ایک مہینے میں ایک کھرب 37ارب روپے پیٹرولیم لیوی کی مد میں وصول کئے گئے۔ اس بڑےکھیل کیساتھ ایک اور چھوٹی کارروائی بھی ڈالی گئی اور وہ ہے ’’کلائیمیٹ اسپورٹ لیوی‘‘۔ وزیر پیٹرولیم علی پرویزملک نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی پیٹرولیم کے اجلاس میں بتایا کہ ڈھائی روپے فی لیٹر کی ’’کلائیمیٹ سپورٹ لیوی‘‘ سے 7ماہ کے عرصے (جولائی 2025ء سے جنوری 2026ء تک) 29 ارب 16کروڑ روپے اکٹھے کئے جا چکے ہیں۔ جب یہ مالی سال ختم ہوگا تو اس لیوی کی مد میں عوام کی جیبوں سے51ارب روپے نکالے جا چکے ہونگے۔ سوال یہ ہے کہ پچاس ارب روپے کہاں خرچ ہونگے۔ وزیروں ،مشیروں کی مراعات ،مشاہرے اور منظور نظر افراد کو نوازنے پر خرچ ہونگے یا ان فنڈز کو مثبت اور تعمیری نوعیت کے اقدامات کیلئے استعمال کیا جائیگا،جیسا کہ درخت لگائے جائیں،زیر زمین پانی کا لیول بہتر کرنے کی کوشش کی جائے؟سوال یہ ہے کہ کیا کوئی ریاست اس طرح لوٹ کھسوٹ کی بنیاد پر چلائی جاسکتی ہے؟پیٹرولیم لیوی سے آخر کب تک قومی خزانے کو بھرا جا سکتا ہے؟ اگر اس ملک کو چلانا ہے تو ٹیکس کا منصفانہ نظام لانا ہوگا۔
