اپوزیشن متحرک،کیا واقعی PPPکے مئیر کراچی کی چھٹی ہونے والی ہے؟

کراچی میں بدلتے سیاسی حالات کے باعث میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی بازگشت ایک بار پھر سنائی دینے لگی ہے اور اپوزیشن نے بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ایوان میں نئی صف بندی شروع کردی ہے۔ 367 رکنی سٹی کونسل میں تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے موجود ارکان کی سادہ اکثریت، یعنی کم از کم 184 ووٹ درکار ہوں گے، جبکہ جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کے ارکان کو ملا کر یہ تعداد مطلوبہ حد تک پہنچ سکتی ہے۔
بلدیہ عظمیٰ کراچی میں جماعت اسلامی کے 128 ارکان ہیں جبکہ پی ٹی آئی کے ارکان کی تعداد 61 ہے۔ میئر مرتضیٰ وہاب کے انتخاب کے موقع پر پی ٹی آئی کے 31 ارکان اجلاس میں غیر حاضر رہے تھے، جبکہ فردوس شمیم نقوی ایوان میں موجود ہونے کے باوجود ووٹ کاسٹ نہیں کرسکے تھے۔ اگر اس مرتبہ پی ٹی آئی کے غیر حاضر رہنے والے ارکان تحریک عدم اعتماد کی حمایت کرتے ہیں تو جماعت اسلامی کے 128 ووٹوں کے ساتھ مجموعی تعداد 189 تک پہنچ سکتی ہے، جو کامیابی کے لیے درکار 184 ووٹوں سے زیادہ ہے۔
تاہم سٹی کونسل میں مسلم لیگ ن کے 14، جمعیت علمائے اسلام کے 4 اور تحریک لبیک پاکستان کے 2 ارکان بھی موجود ہیں، اس لیے تحریک کی کامیابی کا انحصار صرف جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کے ووٹوں پر نہیں بلکہ دیگر ارکان کے ممکنہ کردار پر بھی ہوگا۔ جماعت اسلامی اس سے قبل بھی میئر کراچی کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا اعلان کرتی رہی ہے، تاہم گزشتہ تین برس کے دوران یہ تحریک عملی طور پر ایوان میں پیش نہیں کی جاسکی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک میں نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے معاملے پر اگر پیپلز پارٹی اپنے موجودہ مؤقف پر قائم رہتی ہے تو کراچی میں سیاسی صف بندی مزید تبدیل ہوسکتی ہے اور اس کے نتیجے میں میئر کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی راہ ہموار ہونے کا امکان پیدا ہوسکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق کراچی کے بعد حیدرآباد اور میرپورخاص کے میئرز کے خلاف بھی ایسی تحاریک سامنے آنے کا امکان زیرِبحث ہے۔
لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 کے تحت عدم اعتماد کی قرارداد پیش کرنے کے لیے ارکان کی کوئی مخصوص تعداد مقرر نہیں، تاہم اپوزیشن کی کوشش ہے کہ تحریک زیادہ سے زیادہ ارکان کے دستخطوں کے ساتھ جمع کرائی جائے تاکہ اسے سیاسی طور پر مضبوط بنایا جاسکے۔ اگر تحریک کامیاب ہوجاتی ہے تو میئر کے منصب کے لیے دوبارہ انتخاب ہوگا، تاہم قانون کے مطابق سبکدوش ہونے والا میئر نئے انتخاب میں حصہ نہیں لے سکے گا۔
یوں کراچی کی بلدیاتی سیاست میں ایک بار پھر سیاسی جوڑ توڑ کا مرحلہ شروع ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ اصل فیصلہ اس بات پر ہوگا کہ اپوزیشن اپنے ارکان کو ایک صفحے پر رکھنے میں کس حد تک کامیاب ہوتی ہے اور سٹی کونسل کے دیگر گروپ تحریک عدم اعتماد کے وقت کس جانب کھڑے ہوتے ہیں۔
