فلم تھری ایڈیٹس کے حقیقی رانچھو کی اصل جنگ

تحریر: عامر خاکوانی
بشکریہ: وی نیوز

کوئی 17،18 برس پہلے کی بات ہے، بھارتی فلم تھری ایڈیٹس ریلیز ہوئی تو ہمارے ہاں بھی دھوم مچ گئی۔ گھر گھر میں دیکھی گئی۔ بچوں نے آل از ویل کا نعرہ رٹ لیا اور والدین کو کچھ عرصے کے لیے یہ فکر لاحق ہو گئی کہ کہیں بچے انجینیئرنگ چھوڑ کر فوٹو گرافر نہ بن جائیں۔ فلم کا ہیرو رانچھو (فلم میں اداکار عامر خان) ایک ایسا طالب علم تھا جو رٹے کے نظام سے بغاوت کرتا، سوال اٹھاتا اور آخر میں لداخ کے پہاڑوں میں جا کر ایک انوکھا اسکول کھول لیتا ہے جہاں بچے کتابیں گھوٹنے کے بجائے مشینیں بناتے اور سائنسی ایجادات کرتے ہیں۔

فلم دیکھنے والے کروڑوں لوگوں میں سے بیشتر کو معلوم نہیں کہ رانچھو کا کردار فرضی نہیں تھا۔ لداخ میں ایک اصلی رانچھو موجود ہے، گوشت پوست کا بنا ہوا، سانس لیتا انسان۔ نام ہے سونم وانگچوک۔ فرق صرف یہ ہے کہ اصل زندگی کا رانچھو فلمی رانچھو سے کہیں زیادہ دلچسپ نکلا۔ خود وانگچوک سے جب ان دنوں فلم تھری ایڈیٹس کے بارے میں پوچھا گیا تو شریر مسکراہٹ کے ساتھ بولے کہ میں اس کردار سے زیادہ خوبصورت ہوں۔

آج مگر یہ کالم لکھتے ہوئے دل بوجھل ہے۔ وہی سونم وانگچوک ابھی چند روز پہلے تک نئی دہلی کے جنتر منتر پارک میں بھوک ہڑتال پر بیٹھا تھا ہڑتال کو 3 ہفتے سے زیادہ ہو چکے تھے۔ 59 برس کا یہ شخص صرف نمک اور پانی پر زندہ رہا، 9 کلو سے زیادہ وزن گر گیا، ڈاکٹر سر پکڑے بیٹھے رہے اور حالت یہ ہو گئی کہ سہارے کے بغیر اٹھ نہیں سکتا تھا۔ ایک دن مجمع سے مخاطب ہونا چاہا تو بس اتنا کہہ پایا کہ معذرت، مجھ سے بولا نہیں جا رہا۔ پھر 18 جولائی کی صبح دہلی پولیس اسے زبردستی اٹھا کر صفدرجنگ اسپتال لے گئی۔ سرکار کہتی ہے کہ طبی بنیادوں پر لے گئے، اس کے ساتھی کہتے ہیں کہ گھسیٹ کر لے جایا گیا تاکہ مارچ سے پہلے تحریک کی ریڑھ کی ہڈی توڑی جا سکے۔ جس شخص کی کہانی پر بھارتی تعلیمی نظام کے خلاف فلم بنی تھی، وہ آج اسی نظام کے ہاتھوں ہسپتال کے بستر پر پڑا ہے اور بھوک ہڑتال اب بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ فلم اور حقیقت کا یہ ملاپ ازحد المیہ ہے۔

پہلے اس شخص کی کہانی سن لیں، پھر موجودہ ہنگامے کی طرف آتے ہیں۔ سونم وانگچوک سنہ 1966 میں لداخ کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں پیدا ہوا۔ علاقے میں سکول نام کی کوئی چیز نہیں تھی، ماں نے گھر پر پڑھایا۔ 9 برس کی عمر میں پڑھنے کے لیے سری نگر بھیجا گیا تو نئی مصیبت کھڑی ہو گئی۔ اسکول میں اردو، ہندی اور انگریزی چلتی تھی، بچہ لداخی بولتا تھا۔ خود بتاتے ہیں کہ سری نگر میں میں لداخ کا وہ بدھو بچہ تھا جو نہ ہندی بول سکتا تھا نہ انگریزی، پوری کلاس کا مذاق بنا رہتا۔ یہیں سے اس کے ذہن میں یہ سوال بیٹھ گیا جو ساری عمر پیچھا کرتا رہا کہ بچہ نالائق نہیں ہوتا، نظام نالائق ہوتا ہے جو بچے کو اس زبان میں پڑھاتا ہے جو اس کی ماں نہیں بولتی۔

انجینیئرنگ کی پڑھائی کے دوران فیس پر والد سے اختلاف ہوا تو گھر چھوڑ دیا اور ٹیوشن پڑھا کر اپنی فیس خود کمائی۔ سنہ 1988 میں لداخ واپس جا کر سیک مول (اسٹوڈنٹس ایجوکیشنل اینڈ کلچرل موومنٹ آف لداخ) کے نام سے ادارہ بنایا۔ یہ دنیا کا شاید واحد اسکول ہے جہاں داخلے کی شرط فیل ہونا ہے۔ جی ہاں، یہاں وہ بچے لیے جاتے ہیں جنہیں روایتی نظام نے ناکارہ قرار دے کر باہر پھینک دیا ہو۔

اسکول کا کیمپس مکمل طور پر سورج کی توانائی پر چلتا ہے۔ باہر درجہ حرارت منفی 15 ہو تو اندر مٹی کی بنی عمارتیں 15 درجے پر گرم رہتی ہیں، بغیر کسی ہیٹر کے۔ بچے خود کیمپس چلاتے ہیں، کھانا پکاتے ہیں، سولر پینل ٹھیک کرتے ہیں۔ فلم والے رانچھو نے جو اسکول آخری سین میں دکھایا تھا، وہ دراصل یہی سیک مول کا ادارہ ہی تھا۔

وانگچوک کی سب سے کمال ایجاد مگر آئس سٹوپا ہے۔ لداخ ٹھنڈا برفانی علاقہ ہے۔ پانی کی شدید قلت رہتی ہے۔ ستم یہ کہ سردیوں میں ندیوں کا پانی بہہ کر ضائع ہو جاتا ہے اور بہار میں جب کسانوں کو فصل کے لیے پانی چاہیے ہوتا ہے تو دستیاب نہیں ہوتا۔ وانگچوک نے سادہ سا حل نکالا۔ سردیوں میں پائپ کے ذریعے ندی کا پانی لا کر فوارے کی طرح اوپر اچھالا جائے۔ منفی 20 درجے کی فضا میں پانی ہوا ہی میں جم جاتا ہے اور نیچے برف کا اونچا مخروطی مینار بنتا چلا جاتا ہے، کون آئس کریم جیسا۔ شکل بدھ مت کے اسٹوپا جیسی بنتی ہے، اسی لیے نام آئس اسٹوپا پڑ گیا۔

مخروطی شکل کا فائدہ یہ کہ سورج کی روشنی کم سطح پر پڑتی ہے اور برف آہستہ آہستہ پگھلتی ہے، بالکل اس وقت پانی دیتی ہے جب کسان کو ضرورت ہوتی ہے۔ نہ بجلی، نہ مشین، نہ خرچہ۔ ایک بڑا سٹوپا کروڑوں لیٹر پانی محفوظ کر لیتا ہے۔ اس ایجاد پر اسے عالمی ایوارڈ ملے اور یہ تکنیک سوئٹزرلینڈ اور پیرو کے پہاڑوں تک جا پہنچی۔

یہ شخص چاہتا تو ایوارڈ سمیٹتا، لیکچر دیتا اور آرام کی زندگی گزارتا، مگر اس کے اندر کا ’رانچھو‘ بوڑھا ہونے پر تیار نہیں۔ پچھلے کئی برسوں سے وہ لداخ کے آئینی تحفظ اور ماحول کی جنگ لڑ رہا ہے۔ کئی بار بھوک ہڑتالیں کر چکا، ایک بار تو منفی درجہ حرارت میں کھلے آسمان تلے اکیس دن فاقہ کیا۔ مودی سرکار نے جواب میں اس پر مقدمے بنائے اور اس کے ادارے کی زمین تک منسوخ کر دی۔

اب آئیے موجودہ قصے کی طرف جو اتنا عجیب ہے کہ فلم رائٹر بھی ایسا اسکرپٹ لکھتے ہوئے جھجکتا۔

اس سال مئی میں بھارت کا نِیٹ امتحان ہوا، جو میڈیکل کالجوں میں داخلے کا ملک گیر امتحان ہے۔ 22 لاکھ سے زائد بچے بیٹھے۔ 10 دن بعد پتا چلا کہ پرچہ لیک ہو چکا تھا، امتحان منسوخ کر دیا گیا۔ 22 لاکھ خاندانوں پر کیا گزری ہو گی، اس کا اندازہ اس سے لگائیں کہ منسوخی اور دوبارہ امتحان کے درمیانی عرصے میں کم از کم 11 طلبہ نے خودکشی کر لی۔ تھری ایڈیٹس دیکھنے والوں کو یاد ہو گا کہ فلم میں بھی ایک طالب علم جوائے لوبو نظام کے دباؤ سے تنگ آ کر پنکھے سے جھول گیا تھا۔ فلم نے سنہ 2009نو میں جو منظر دکھایا، بھارت سال 2026 میں وہی منظر حقیقت میں دیکھ رہا ہے۔

اسی دوران ایک اور ڈرامائی موڑ آیا۔ بھارتی چیف جسٹس سوریہ کانت نے ایک بیان میں بے روزگار نوجوانوں کو کاکروچ اور سماج کے پیراسائٹ سے تشبیہ دے ڈالی۔ اگلے ہی دن ابھیجیت ڈپکے نامی 30 سالہ نوجوان، جو بوسٹن یونیورسٹی امریکا میں پولیٹیکل سائنس اور سٹریٹجی پڑھا ہوا ہے، نے طنز کے طور پر کاکروچ جنتا پارٹی بنا ڈالی۔ نام ہی بی جے پی کی چڑ ہے۔ نعرہ رکھا، سست اور بے روزگاروں کی آواز۔

مطلب یہ کہ جناب چیف جسٹس، آپ ہمیں کاکروچ کہتے ہیں تو لیجیے، ہم کاکروچ ہی سہی، اب ذرا ہمیں برداشت بھی کریں۔ یہ مذاق چند ہفتوں میں کروڑوں نوجوانوں کی تحریک بن گیا۔ جنتر منتر پر دھرنا لگ گیا اور مطالبہ ایک ہی ہے کہ پرچے لیک کرانے والے نظام کا ذمہ دار وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان استعفیٰ دے۔

وزیر موصوف نے استعفیٰ تو کیا دینا تھا، الٹا فرما دیا کہ یہ کاکروچ پارٹی دہشتگرد گروہوں کی بی ٹیم ہے۔ واہ۔ اپنے بچوں کو ہم نے بھی سیاستدانوں کے کئی رنگ دکھائے ہیں مگر امتحان کا پرچہ آؤٹ ہونے پر احتجاج کرنے والے طلبہ کو دہشتگرد کہنے کا کمال ابھی ہم پاکستانیوں سے نہیں ہو سکا۔ ویسے سچ پوچھیں تو یہ سارا منظر ہمیں کچھ زیادہ اجنبی نہیں لگتا۔ پرچے تو ہمارے ہاں بھی نکلتے رہتے ہیں، فرق بس اتنا ہے کہ ہمارے ہاں ابھی تک کسی نے پرچہ لیک ہونے پر بھوک ہڑتال نہیں کی۔ ہمارے ہاں تو جس کے ہاتھ پرچہ لگ جائے وہ خوش ہو کر مزے ہی کرتا ہے۔

خیر، جب یہ نوجوان جنتر منتر پر بیٹھے تھے تو سونم وانگچوک بھی وہاں آ بیٹھا اور 28 جون سے اس نے غیر معینہ بھوک ہڑتال شروع کر دی۔ اس کا کہنا سادہ تھا کہ جس نظام تعلیم کے خلاف میں ساری عمر لڑا، جس پر فلم بنی، وہ نظام آج بھی بچوں کو نگل رہا ہے، تو میں گھر بیٹھ کر تماشا کیسے دیکھوں۔ ہڑتال کو 3 ہفتے گزرے تو نوبیل انعام یافتہ ماہر معیشت ابھیجیت بینرجی، اروندھتی رائے، امیتاو گھوش، ناول نگار کرن دیسائی اور فلم ساز زویا اختر سمیت 60 سے زائد نامور بھارتی شخصیات نے مشترکہ اپیل کی کہ سونم جی، ہڑتال ختم کر دیں، آپ ہمارے اجتماعی ضمیر کی آواز ہیں۔

دہلی ہائیکورٹ نے اس کی جان بچانے کے لیے روزانہ طبی معائنے کا حکم دے رکھا تھا۔ حکومتی وزرا الگ ہاتھ پاؤں مار رہے تھے کہ کسی طرح یہ شخص اٹھ جائے، کیونکہ اگر خدانخواستہ اسے کچھ ہو گیا تو مودی سرکار کے لیے ایسا طوفان اٹھے گا جو سنبھالے نہیں سنبھلے گا۔ آخر 18 جولائی کی صبح پولیس اسے زبردستی صفدرجنگ اسپتال لے گئی۔ اس کی بیوی گیتانجلی انگمو نے ہائیکورٹ میں درخواست دی کہ اسے فوری رہا کیا جائے، مگر عدالت نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ یہ حراست نہیں، صحت کی بنیاد پر کیا گیا فیصلہ ہے اور اسے تعاون کرنا چاہیے۔

وانگچوک مگر اپنی بات پر اڑا رہا۔ اسپتال کے بستر سے اس نے اپنے ہاتھ سے لکھا رقعہ باہر بھجوایا کہ مجھے تھوڑی دیر کے لیے چھوڑ دو، میری طبیعت آج ٹھیک ہے، تاکہ میں پارلیمنٹ کی طرف مارچ میں شریک ہو سکوں۔ اسپتال والوں نے اجازت نہ دی۔ چنانچہ 20 جولائی کو، سنسد چلو مارچ اس کی غیر موجودگی میں ہوا۔ قیادت اس کی بیوی گیتانجلی انگمو اور ابھیجیت ڈپکے نے کی۔

10 ہزار سے زائد لوگ جمع ہو گئے۔ دہلی پولیس نے 300 سے زیادہ اہلکار، آنسو گیس کی گاڑیاں اور کئی سطحوں پر بیریئر کھڑے کیے ہوئے تھے۔ 5 میٹرو اسٹیشن بند کر دیے گئے۔ مارچ جب ٹالسٹائے مارگ اور سنسد مارگ کے سنگم پر پہنچا تو نوجوانوں نے رکاوٹیں پھلانگنے کی کوشش کی، بیریئر الٹ گئے اور پولیس نے لاٹھی چارج کر کے مجمع کو پیچھے دھکیل دیا۔ ادھر پارلیمنٹ کے اندر سے سماج وادی پارٹی کی دمپل یادو اپنی جماعت کے ارکان کے ہمراہ ہاتھوں میں تختیاں اٹھائے جنتر منتر کی طرف نکل آئیں، جن پر لکھا تھا، نیٹ ہے یا چیٹ ہے۔

وانگچوک نے صاف کہہ دیا ہے کہ مارچ کے بعد بھی میری بھوک ہڑتال جاری رہے گی اور صرف 3 صورتوں میں ٹوٹے گی۔ اول، سرکار تعلیمی نظام کی حالیہ ناکامیوں اور پرچہ لیک ہونے کی ذمہ داری قبول کرے۔ دوم، سیاسی رہنما یقین دلائیں کہ یہ مسئلہ پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ سوم، اگر صحت اجازت نہ دے تو ارکان پارلیمنٹ خود اسپتال آ کر یہ یقین دہانی کرائیں۔ ابھی تک ان میں سے کوئی صورت پیدا نہیں ہوئی، سو بوڑھا اپنی ضد پر قائم ہے۔

نقاہت زدہ جسم کے باوجود اس کے اندر کا رانچھو مرا نہیں۔ چند دن پہلے مجمع سے شرارت سے کہنے لگا کہ اگر ہمارا مارچ کامیاب نہ ہوا تو میں بھوت بن کر واپس آؤں گا۔ سوچیں، موت کے دروازے پر کھڑا آدمی اور شگفتگی کا یہ عالم۔

خاکسار کی رائے میں اس پوری کہانی کا اصل سبق بھارت یا مودی سرکار سے متعلق نہیں، ہم سے متعلق ہے۔ ہمارے ہاں بھی امتحانی نظام رٹے پر کھڑا ہے، پرچے لیک ہوتے ہیں، نوجوان بے روزگاری سے دلبرداشتہ ہیں اور ڈگریاں ہاتھ میں پکڑے دربدر پھر رہے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ ادھر ایک 59 سالہ بوڑھا نوجوانوں کے لیے بھوکا بیٹھا ہے اور ادھر ہم اپنے تعلیمی نظام کی تباہی کی پروا ہی نہیں کر رہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ قوموں کو سونم وانگچوک جیسے سرپھرے لوگ نصیب سے ملتے ہیں، وہ لوگ جو گوبھی کے بیج سے ہزاروں پیٹ پالنے یا برف کے مینار سے کھیت سینچنے جیسے پاگل پن پر یقین رکھتے ہیں۔ ہمیں اپنے سماج میں ایسے کرداروں کو ڈھونڈنا، سراہنا اور بچانا چاہیے، اس سے پہلے کہ وہ بھوک ہڑتالوں پر مجبور ہوں۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس درویش صفت انسان کی جان بچائے اور بھارتی نوجوانوں کی یہ پرامن جدوجہد رنگ لائے، آمین۔ ویسے مودی سرکار کو بھی سوچ لینا چاہیے کہ جس ملک میں چیف جسٹس نوجوانوں کو کاکروچ کہے اور جواب میں کاکروچ پارٹی بن کر پارلیمنٹ کی طرف مارچ کرنے لگے، وہاں ’آل از ویل‘ کا نعرہ لگانے سے کام نہیں چلے گا۔ رانچھو نے فلم میں بھی یہی سمجھایا تھا کہ آل از ویل کہنے سے مسئلہ حل نہیں ہوتا، بس مسئلے کا سامنا کرنے کی ہمت آجاتی ہے۔ ہمت مگر جنتر منتر پر بھوکے بیٹھے لوگوں کے پاس ہے، بھارتی ایوانوں میں بیٹھے بے حس حکمرانوں کے پاس نہیں۔

Back to top button