قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے لیگل ایڈ اینڈ جسٹس اتھارٹی ترمیمی بل منظور کرلیا

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے چیئرمین محمود بشیر ورک کی زیر صدارت اجلاس میں لیگل ایڈ اینڈ جسٹس اتھارٹی ترمیمی بل کی منظوری دےدی۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے اجلاس کے دوران ایجنڈے میں شامل مختلف ترمیمی بلوں کا جائزہ لیاگیا، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کاکہنا تھاکہ لیگل ایڈ اینڈ جسٹس اتھارٹی 2020 میں قائم کی گئی تھی۔

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ یہ اتھارٹی ابھی وزارت انسانی حقوق سے وزارت قانون و انصاف میں آئی ہے، بل میں جہاں انسانی حقوق کالفظ تھااس کو قانون و انصاف کے ساتھ تبدیل کیاگیا ہے۔

کمیٹی اجلاس میں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کاکہنا تھاکہ جب بھی لیگل ایڈ اینڈ جسٹس اتھارٹی بنتی ہےوہ انسانی حقوق کےپاس ہوتی ہے،اس اتھارٹی کو انسانی حقوق کے پاس ہی رہنےدیں۔

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نےکہا کہ  اس اتھارٹی کا اپنادفتر تھایہ خودمختار باڈی ہے،لیگل ایڈ صوبائی حکومتیں فراہم کررہی ہیں،اتھارٹی میں سیکرٹری انسانی حقوق کےنمائندہ رہیں گے، انسانی حقوق والےاتھارٹی کاحصہ رہیں گے۔

ایکس پر پابندی قومی سلامتی کےمسائل کی وجہ سےلگائی گئی ہے : عطا تارڑ

Back to top button