ایکس پر پابندی قومی سلامتی کےمسائل کی وجہ سےلگائی گئی ہے : عطا تارڑ

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پابندی آزادی اظہار رائے کو روکنےکےلیے نہیں بلکہ قومی سلامتی کےمسائل کی وجہ سےلگائی گئی ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر غیر اعلانیہ پابندی کے تاثر کو مسترد کرتےہوئے کہا کہ نگران حکومت نے ایکس کی جانب سے احکامات کی تعمیل نہ کیےجانے سمیت دیگر مسائل کے پیش نظر 8 فروری کے عام انتخابات سےقبل ایکس پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔
وزیر اطلاعات عطا تارڑ نےکہا کہ علیحدگی پسند اور دہشت گرد اس پلیٹ فارم کو پاکستان کےخلاف استعمال کررہے ہیں جس کی اجازت نہیں دی جاسکتی، دہشت گرد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا غلط استعمال کررہے ہیں۔انہوں نےکہا کہ بلوچستان لبریشن آرمی سے تعلق رکھنےوالے دہشت گرد اس پلیٹ فارم کو اپنی ریاست مخالف سرگرمیوں کو فروغ دینے کےلیے استعمال کررہے ہیں، یہاں تک کہ دہشت گردوں نےبغیر کسی پوچھ گچھ کے ایکس پر اپنی دہشت گرد کارروائیوں کو براہ راست دکھایا۔
وفاقی وزیر نےکہا کہ ایکس پر پابندی کامعاملہ عدالت میں ہےاور وزارت داخلہ اس بارے میں عدالت میں اپنا جواب پہلے ہی داخل کرچکی ہے۔انہوں نےکہا کہ بطور پاکستانی ہم ایکس کی انتظامیہ سےدہشت گردوں کی جانب سےاپ لوڈ کردہ ریاست مخالف مواد کو ہٹانےکی درخواست ہی کرسکتے ہیں۔ان کاکہنا تھاکہ سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کےلیے کوئی نہ کوئی نظام ہونا چاہیے، ایک ویب مینجمنٹ سسٹم پہلےسے موجود تھا اور اس کےذریعے سائبر اور ڈیٹا کی حفاظت کو یقینی بنانےمیں کوئی نقصان نہیں ہے۔انہوں نےکہا کہ ڈیجیٹل رائٹس پروٹیکشن اتھارٹی قسم کےادارے کی ضرورت ہےجہاں لوگ شکایات کے ازالے کےلیے رابطہ کرسکیں۔
عطااللہ تارڑ نےکہاکہ ایک سیاسی کارکن کےطور پر میں سمجھتا ہوں کہ ایکس پر پابندی ہٹادی جانی چاہیےلیکن یہ اسی وقت ممکن ہےاگر پلیٹ فارم حکومت ہدایات پر عملدرآمد کرے۔
یادرہے کہ رواں برس 17 فروری کو وزارت داخلہ نے ایکس پرپابندی عائد کی تھی جس کےبعد اس بندش کےخلاف مقامی صحافی احتشام عباسی نے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔گزشتہ چند ماہ کےدوران متعدد بار اس کی سروس کو جزوی طور پر بحال کیاگیا لیکن مکمل طور پر اسےآپریشنل نہ کیا جاسکا۔
