لاپتا افراد کے بیانیے کے پیچھے چھپی دہشتگردی بے نقاب

بلوچستان میں لاپتا افراد کا مسئلہ کئی برسوں سے قومی اور بین الاقوامی سطح پر توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ایک جانب متاثرہ خاندان اپنے پیاروں کی بازیابی اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں، تو دوسری جانب ریاستی اداروں کا مؤقف ہے کہ لاپتا افراد کی بعض فہرستوں میں شامل افراد بعد ازاں دہشت گرد تنظیموں کے ارکان یا سہولت کاروں کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ حالیہ انکشافات نے اس حساس بحث کو ایک بار پھر شدت دے دی ہے۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے وابستہ بعض افراد کو ماضی میں لاپتا قرار دیا جاتا رہا، تاہم بعد میں ان کے عسکری سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے۔ جولائی 2025 میں قلات میں ایک آپریشن کے دوران مارا جانے والا صہیب لانگو اس کی ایک مثال کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جس کے بارے میں حکام کا دعویٰ ہے کہ وہ ایک دہشت گرد نیٹ ورک کا حصہ تھا، حالانکہ اس کا نام لاپتا افراد کے بیانیے میں بھی زیرِ بحث رہا تھا۔اسی طرح گوادر حملے میں مارے جانے والے کریم جان اور نیول بیس حملے کے تناظر میں سامنے آنے والے عبدالودود کے نام بھی اس بحث کا حصہ بنے۔ ریاستی اداروں کے مطابق ایسے واقعات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض عسکریت پسند تنظیمیں نوجوانوں کی گمشدگی کو سیاسی اور پروپیگنڈا مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہیں، جبکہ ناقدین اس مؤقف کی آزادانہ تحقیقات کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں بھی اس موضوع پر رپورٹس سامنے آتی رہی ہیں۔ بعض واقعات میں ایسے نوجوانوں کا ذکر کیا گیا جو تعلیم اور پیشہ ورانہ زندگی سے وابستہ تھے لیکن اچانک لاپتا ہونے کے بعد عسکریت پسند تنظیموں سے منسلک ہونے کے شبہات پیدا ہوئے۔ ان مثالوں کو ریاستی حلقے اپنے مؤقف کے حق میں پیش کرتے ہیں کہ مسئلہ محض جبری گمشدگیوں تک محدود نہیں بلکہ اس میں انتہا پسند تنظیموں کی بھرتی کی حکمت عملی بھی شامل ہو سکتی ہے۔وزیر دفاع خواجہ آصف سمیت کئی حکومتی شخصیات نے بھی یہ دعویٰ کیا ہے کہ لاپتا افراد کی فہرستوں میں شامل بعض افراد درحقیقت دہشت گرد تنظیموں سے وابستہ تھے یا ملک سے باہر مقیم تھے، تاہم ان کے اہل خانہ انہیں لاپتا ظاہر کرتے رہے۔ دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیمیں اس مؤقف پر زور دیتی ہیں کہ جبری گمشدگیوں کے تمام کیسز کی غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات ناگزیر ہیں تاکہ حقیقت سامنے آ سکے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق بلوچستان کا یہ مسئلہ دو متوازی بیانیوں کے درمیان گھرا دکھائی دیتا ہے۔ ایک بیانیہ قومی سلامتی اور دہشت گردی کے خطرات کو اجاگر کرتا ہے، جبکہ دوسرا انسانی حقوق، قانونی شفافیت اور لاپتا افراد کے خاندانوں کے انصاف کے مطالبے پر مبنی ہے۔ اس پیچیدہ صورتحال میں جذباتی ردعمل کے بجائے حقائق پر مبنی تحقیقات ہی ایک متوازن اور قابلِ قبول راستہ فراہم کر سکتی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس حساس معاملے کا پائیدار حل صرف اسی صورت ممکن ہے جب تمام دعوؤں کی آزادانہ جانچ ہو، عدالتی نگرانی کو مؤثر بنایا جائے اور ہر فریق کے مؤقف کو دیانت داری کے ساتھ سنا جائے۔ بلوچستان جیسے حساس خطے میں امن، اعتماد اور استحکام کے لیے ضروری ہے کہ نہ تو دہشت گردی کے خطرات کو نظرانداز کیا جائے اور نہ ہی انسانی حقوق سے متعلق جائز خدشات کو پسِ پشت ڈالا جائے۔


Back to top button