عمران اور فوج کے مابین رسہ کشی کھلی جنگ میں تبدیل

 

 

 

 

عمران خان کی جانب سے وزیر اعلی خیبر پختون خواہ علی امین گنڈاپور کو ہٹا کر طالبان نواز ذہنیت کے حامل شخص کو نیا وزیراعلی نامزد کیے جانے کے بعد فوجی اسٹیبلشمنٹ اور تحریک انصاف کے مابین کے جاری رسہ کشی کھلی جنگ میں تبدیل ہو گئی ہے۔ فوجی ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے واضح طور پر اعلان کر دیا ہے کہ کوئی ریاست مخالف شخص اقتدار میں نہیں آ سکتا۔

 

یاد رہے کہ نامزد وزیراعلی خیبر پختون خواہ سہیل آفریدی کو طالبان کے کافی قریب خیال کیا جاتا ہے اور گنڈا پور کے برعکس وہ خیبر پختونخواہ میں فوجی آپریشن کے مخالف ہیں۔ صوبے کی سکیورٹی صورتحال پر ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے فوجی ترجمان نے عمران خان کا نام لیے بغیر ان پر کڑی تنقید کی اور انہیں خیبر پختون خواہ میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کا ذمہ دار قرار دے دیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ یہ مطالبہ کون کر رہا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کی بجائے ان کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں؟ سب جانتے ہیں کہ کون سی صوبائی حکومت کس کے کہنے پر فوجی آپریشن کی مخالفت کر رہی ہے؟سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ پاک فوج کے ترجمان نے پشاور جا کر جو پریس کانفرنس کی اس کا اصل ہدف عمران خان اور ان کی طالبان نواز پالیسی تھی۔

 

فوجی ترجمان نے ایک ایسے وقت میں پریس کانفرنس کی جب کہ عمران خان گنڈاپور کو وزارت اعلی سے ہٹا کر ان کی جگہ سہیل آفریدی کو نامزد کر چکے ہیں۔ تاہم ابھی تک گورنر خیبر پختون خواہ نے گنڈاپور کا استعفی قبول نہیں کیا جس کے بعد یہ اطلاع بھی آ رہی ہے کہ شاید انہیں ہٹانے کے لیے اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پیش کر دی جائے۔ پی ٹی آئی نے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کے بیان پر شدید ردِ عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کر دیا ہے کہ وہ دہشتگردی سے لڑنا چاہتے ہیں لیکن ان لوگوں کے ساتھ متحد ہو کر کھڑے نہیں ہونا چاہتے جن کو صوبے کے عوام نے منتخب کیا ہے‘۔

 

پی ٹی آئی کے رہنما زلفی بخاری کا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہنا تھا کہ ’امید اور تعاون کا پیغام‘ دینے کے بجائے پاک فوج کے ترجمان نے ’کم نظری پر مبنی بیان بازی‘ پر اکتفا کیا۔ تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اسد قیصر نے فوجی ترجمان کی پریس کانفرنس کو دھمکی آمیز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسکا واحد مقصد سہیل آفریدی کو وزیر اعلی بننے سے روکنا ہے۔

 

یاد رہے کہ فوجی ترجمان نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ’افواج پاکستان یہ امید کرتی ہیں کہ خیبر پختونخوا کے سیاستدان منفی سیاست، الزام تراشی اور جرائم پیشہ طالبان مافیا کی سرپرستی اور سہولت کاری کے بجائے اپنی بنیادی ذمہ داری پر توجہ دیں گے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا تھا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کی سلامتی کے لیے کے پی حکومت افغانستان سے سکیورٹی کی بھیک مانگنے کی بجائے خود ان کی حفاظت کرے گے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’افواجِ پاکستان واضح کرنا چاہتی ہے کہ طالبان دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں پر زمین تنگ کر دی جائے گی چاہے وہ کسی بھی عہدے پر فائز کیوں نہ ہو۔‘

 

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے اپنی پریس کانفرنس میں کسی سیاسی شخصیت یا جماعت کا نام لینے سے اجتناب کیا مگر وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے جیو نیوز کے ایک پروگرام میں خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کا ذمہ دار پی ٹی آئی کی حکومت کو قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’عمران خان کے دور میں فیض حمید کے ذریعے افغانستان سے چار ہزار طالبان دہشت گردوں کو واپس لا کر بسایا گیا تھا۔ ان لوگوں نے نئے سرے سے بھرتیاں کریں، ان کی سہولت کاری کی گئی اور آج دہشت گردی کی صورت میں نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ تین سالوں میں یہاں طالبان کی پناہ گاہوں میں اضافہ ہوا ہے جبکہ اس صوبے میں 13 برس سے تحریک انصاف کی حکومت ہے۔

 

تاہم پی ٹی آئی ان الزامات کی تردید کرتی نظر آتی ہے۔ عمران خان نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا کہ ’2021 میں تب کی فوجی قیادت نے ہتھیار پھینکنے والے دہشتگردوں کو واپس بسانے کا منصوبہ پیش کیا تھا، جسے ہمارے منتخب نمائندوں نے مسترد کر دیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ ’اس منصوبے پر ہمارے دور میں عمل نہیں ہوا۔ تاہم سب جانتے ہیں کہ عمران خان حسب عادت جھوٹ بول رہے ہیں چونکہ بطور وزیراعظم انہوں نے جنرل فیض حمید کے ذریعے پاکستان سے فرار ہو کر افغانستان جا بسنے والے تحریک طالبان کے جنگجوؤں کے ساتھ بات چیت کی پالیسی اپنائی تھی اور پھر ہزاروں طالبان کو پاکستان واپس لا کر بسایا گیا تھا۔

عمران کو فوج مخالف سازش پر فوجی تحویل میں دینے کا خدشہ

سیاسی مبصرین کے مطابق وزیرِ اعلیٰ ہاؤس میں تبدیلی بھی فوج اور پی ٹی آئی کے درمیان جاری رسہ کشی کے سلسلے کے ہی ایک کڑی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گنڈاپور کو ہٹایا جانا عمران کے اضطراب کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کے خیال میں بانی پی پی آئی نے گنڈاپور کو ہٹا کر اسٹیبلشمنٹ کو ایک کاری ضرب لگائی ہے حالانکہ اگر وہ فوجی اسٹیبلشمنٹ سے رابطے میں تھے تو خان صاحب کی اجازت سے ہی ایسا کر رہے تھے۔ لیکن چونکہ وہ اپنی رہائی کا مقصد حاصل نہیں کر پائے اس لیے گنڈاپور کو نکال کر طالبان نواز سہیل آفریدی کو لگانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اسٹیبلشمنٹ کو ڈرایا جا سکے۔ مبصرین کے مطابق عمران خان صوبے میں سیاسی عدم استحکام پیدا کر کے فوج کے مسائل میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن فوجی ترجمان نے بھی کھل کر بتا دیا ہے کہ انہیں ایسا نہیں کرنے دیا جائے گا۔

Back to top button