مسلسل 30 روزوں سے جسم پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟

دنیا بھر میں مسلمان رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک گھنٹوں فاقہ کشی کرتے ہیں، بچے، جوان، بوڑھے، خواتین ہر کوئی مذہبی مریضہ کی ادائیگی میں مصروف ہوتا ہے، اور اس سے انسانی صحت پر بھی مثبت اثرات ہوتے ہیں، طبی ماہرین کے مطابق گھنٹوں خالی پیٹ رہنے سے وزن میں کمی کے ساتھ فاضل مادوں کے اخراج میں مدد ملتی ہے۔حالیہ برسوں میں دنیا کے کراۂ نصف شمالی میں رمضان گرمیوں کے موسم میں آتا رہا اور اس برس یہ موسمِ بہار میں آیا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ دن گرمیوں کے مقابلے میں نسبتاً چھوٹے ہیں اور دنیا کے مختلف علاقوں میں روزے کا دورانیہ 12 سے 17 گھنٹوں کے درمیان ہے، تکنیکی طور پر آپ کا جسم روزہ شروع کرنے کے آٹھ گھنٹے تک معمول کی حالت میں رہتا ہے، یہ وہ وقت ہے جب معدے میں پڑی خوراک مکمل طور پر ہضم ہو جاتی ہے۔اس کے بعد جسم جگر اور پٹھوں میں ذخیرہ شدہ گلوکوز کے ذرائع استعمال کرنا شروع کر دیتا ہے، جب یہ ذخیرہ بھی ختم ہو جائے تو پھر جسم چربی کو پگھلا کر توانائی کے لیے استعمال کرتا ہے، جسم میں ذخیرہ شدہ چربی کے بطور خوراک استعمال سے وزن گھٹنا شروع ہو جاتا ہے، کولیسٹرول کی مقدار میں کمی واقع ہوتی ہے اور ذیابیطس کا خطرہ کم ہو جاتا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی جسم میں شوگر کم ہونے سے کمزوری اور تھکاوٹ کا احساس شروع ہو جاتا ہے، اس کے علاوہ سردرد، سر چکرانا، متلی اور سانس سے بدبو جیسی شکایات بھی ہو سکتی ہیں۔جب جسم روزے کا عادی ہو جاتا ہے تو چربی کو پگھلا کر اس سے گلوکوز بنانا شروع کر دیتا ہے، اس دوران آپ کے کھانوں میں ’توانائی والی خوراک‘ شامل ہونی چاہئے، جیسے نشاستہ دار غذائیں اور چربی، یہ ضروری ہے کہ خوراک متوازن رہے اور اس میں لحمیات، نمک اور پانی شامل رہیں۔تیسرے مرحلے میں جسم کے روزے کے عادی ہو جانے سے موڈ بہتر ہونا شروع ہو جاتا ہے، ڈاکٹر رزین معروف کیمبرج میں اینیستھیزیا اور انٹینسیو کیئر میڈیسن کے شعبے سے وابستہ ہیں، وہ کہتے ہیں کہ اس کے علاوہ مزید فائدے بھی ہیں، روزے سے یہ مسئلہ حل ہو جاتا ہے اور جسم اپنی توجہ دوسرے افعال کی طرف مرکوز کر دیتا ہے، اس لیے روزہ جسم کو مندمل ہونے اور جراثیم کا مقابلہ کرنے میں مدد دیتا ہے۔رمضان کے آخری دنوں میں جسم فاقہ کشی کے عمل سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہو جاتا ہے، بڑی آنت، جگر، گردے اور جلد اس دوران زہر رفع کرنے کے عمل (detoxification) سے گزرنا شروع ہو جاتا ہے، اگر فاقہ کشی کئی دن تک مسلسل جاری رہے تو جسم پٹھوں کو پگھلانا شروع کر دیتا ہے، لیکن رمضان میں ایسا نہیں ہوتا کیوںکہ روزہ ایک دن میں ختم ہو جاتا ہے۔روزہ صحت کے لیے اچھا ہے کیوںکہ اس سے ہمیں اس بات پر غور کرنے کا موقع ملتا ہے کہ کیا کھانا اور کب کھانا ہے البتہ میں اس کا مشورہ نہیں دے سکتا کہ ایک مہینے سے زیادہ عرصے تک روزے جاری رکھے جائیں، وہ کہتے ہیں مسلسل روزہ وزن کم کرنے کیلئے اچھی چیز نہیں کیوںکہ بالآخر آپ کا جسم چربی کو توانائی میں ڈھالنے کی بجائے پٹھوں کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔
