TTP کا ایک ماہ کیلئے سیز فائر کا اعلان

مذاکرات کے بعد تحریک طالبان پاکستان نے 9 نومبر سے 9 دسمبر تک ایک ماہ کے لیے پاکستان کے ساتھ عارضی فائر بندی کا اعلان کر دیا۔ دونوں فریقین نے مذاکراتی کمیٹیوں کے قیام پر اتفاق کیا ہے۔ یہ کمیٹیاں آئندہ لائحہ عمل طے کریں گی تاکہ مذاکرات کا عمل آگے بڑھ سکے۔
کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے 9 نومبر سے ایک ماہ کیلئے سیز فائر کا اعلان کردیاہے۔ترجمان کالعدم ٹی ٹی پی کے مطابق فائر بندی میں فریقین کی رضامندی سے مزید توسیع بھی کی جائے گی اور فریقین پر فائربندی کی پاسداری ضروری ہے۔کالعدم ٹی ٹی پی کا کہنا ہے کہ فریقین نے مذاکراتی کمیٹیوں کے قیام پر اتفاق کیا ہے، کمیٹیاں آئندہ لائحہ عمل اور فریقین کے مطالبات پر مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کی کوشش کریں گی۔کالعدم ٹی ٹی پی کے مطابق امارت اسلامیہ افغانستان مذاکراتی عمل میں ثالث کا کردار ادا کر رہی ہے۔
خیال رہے کہ اس سے قبل وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا تھاکہ حکومت پاکستان اور کالعدم ٹی ٹی پی مکمل سیز فائر پر آمادہ ہوچکے۔ وفاقی وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے یکم اکتوبر 2021ء کو اپنے انٹرویو میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات کا تذکرہ کیا تھا، ان مذاکرات کی شروعات ہو چکی ہے۔
فواد چوہدری نے کہا کہ ایک معاہدے کے تحت حکومت پاکستان اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان مکمل سیز فائر پر آمادہ ہو چکے ہیں، جو مذاکرات کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے ہو رہے ہیں وہ پاکستان کے آئین اور قانون کے تحت ہوں گے، کوئی بھی حکومت پاکستان کے آئین اور قانون سے باہر مذاکرات کر ہی نہیں سکتی۔
انہوں نے کہا کہ ان مذاکرات میں ریاست کی حاکمیت، ملکی سلامتی، متعلقہ علاقوں کے امن، معاشرتی اور اقتصادی استحکام کو ملحوظ خاطر رکھا جائے گا، مذاکرات میں ان علاقوں کے متاثرہ افراد کو قطعی طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، ان علاقوں کے افراد کو اعتماد میں لیا جا رہا ہے اور یہ بات خوش آئند ہے کہ پاکستان کے یہ علاقے ایک طویل عرصے کے بعد مکمل امن کی طرف بڑھ رہے ہیں۔وزیراطلاعات نے کہا کہ مذاکرات کی پیشرفت کو سامنے رکھتے ہوئے سیز فائر میں توسیع ہوتی جائے گی جب کہ مذاکرات میں افغانستان کی عبوری حکومت نے سہولت کار کا کردار ادا کیا ہے۔
اس سے قبل پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مذاکرات کی خبروں پر اپنا ردِ عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی کو کوئی حق نہیں کہ وہ پارلیمان میں کسی اتفاقِ رائے کے بغیر خود اپنے طور پر تحریکِ طالبان پاکستان سے مذاکرات کرے۔ پہلے بھی اس پر تنقید کرتا رہاہوں اور اب بھی کروں گے کہ جہاں کسی کو آن بورڈ نہیں لیا گیا، کوئی اتفاقِ رائے پیدا نہیں ہوا تو صدرِ پاکستان یا وزیرِ اعظم کون ہوتے ہیں کہ وہ بھیک مانگتے ہوئے کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے بات کریں۔انھوں نے کہا کہ ٹی ٹی پی جس نے ہمارے فوجی سپاہیوں کو شہید کیا، ہماری قومی قیادت کو شہید کیا، ہمارے اے پی ایس کے بچوں کو شہید کیا، کہ یہ کون ہوتے ہیں کہ اپنے طور پر فیصلہ کریں کہ کس سے انگیج کرنا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی جو بھی پالسیی ہو اس کی پارلیمان منظوری دے، وہ اتفاقِ رائے سے بنے۔ وہ پالیسی بہتر پالیسی بھی ہو گی اور اس کی قانونی حیثیت بھی ہو گی۔

Back to top button