پاکستان کو چین سے 2 ارب ڈالرز کا سستا قرضہ ملنے کی امید

اچھی خبر یہ ہے کہ چین نے سنگین معاشی بحران میں گھرے ہوئے دیرینہ دوست پاکستان کو کم شرح سود پر دو ارب ڈالرز کے قرضے کی یقین دہانی کروا دی ہے تاکہ اس کی معاشی مشکلات میں کمی ہو سکے۔ چین کے سفیر نے چینی قیادت کے ایماء پر شہباز حکومت کو بتایا ہے کہ بیجنگ اسلام آباد کے ساتھ اپنے معاشی اور سٹریٹجک تعلقات کو وسیع اور مضبوط کرنا چاہتا ہے اور پاکستان کو بھی چاہیے کہ ماضی کی غلط فہمیوں کا ازالہ کرے۔

مائیک ٹائسن نے دوران پرواز مخالف کو ناک آؤٹ کردیا

یاد رہے کہ چینی حکومت سابقہ دور میں پاک چین سی پیک پروجیکٹ پر کام کی سست تر رفتار سے مطمئن نہیں تھی اور وزیراعظم عمران خان سے نالاں تھی۔ تاہم پاکستان میں حکومت کی تبدیلی کے بعد چینی حکام نے وزیراعظم شہباز شریف کو یقین دلایا ہے کہ وہ نہ صرف پاکستانی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں بلکہ پہلے سے زیادہ عزم کے ساتھ موجودہ وزیر اعظم کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔ سینئر صحافی انصار عباسی نے دعویٰ کیا ہے کہ سفارتی رابطہ کاری میں چائنیز حکومت نے اس اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ شہباز شریف ’’اپنے گورننس کے فلسفے‘‘ کی بنیاد پر اُن چیلنجز پر قابو پانے میں کامیاب ہوں گے جو اس وقت پاکستان کو درپیش ہیں۔ پاکستان کو اس کے معاشی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے چین نے دو ارب ڈالرز کا قرضہ دینے کی تصدیق کی ہے جو کم شرح پر دیا جائے گا اور یہ شرح اس شرح سے بھی کم ہوگی جس پر چین نے اپنے دیگر قریبی دوست ممالک کو قرضہ جات دیے ہیں۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ چائنیز قیادت شہباز کے ساتھ کام کرنے میں زیادہ مطمئن ہے کیونکہ انہیں ان کے ساتھ تب بھی کام کرنے میں مزہ آیا تھا جب وہ وزیر اعلیٰ پنجاب تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب شہباز وزیر اعلیٰ تھے تب ان کی گورننس دیکھ کر ہی چین کی حکومت نے انکے کیے ’’شہباز اسپیڈ‘‘ کی اصطلاح متعارف کرائی تھی۔

تاہم ناقدین کہتے ہیں کہ وزیر اعظم بننے کے بعد شہباز میں ’’اسپیڈ‘‘ نہیں رہی۔ نون لیگ کی گزشتہ حکومت میں شہباز شریف نے بحیثیت وزیراعلیٰ پنجاب چائنیز کے ساتھ مل کر کام کیا تھا تاکہ بڑے معاشی پروجیکٹس مکمل کیے جاسکیں جو پاور اور انرجی سیکٹر کے تھے اور اسی رابطے کی وجہ سے بڑے ٹرانسپورٹ پروجیکٹس جیسا کہ میٹروز قلیل وقت میں مکمل ہوسکے۔ اب جب کہ حکومت پاکستان آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کو پورا کرنے کیلئے کام کر رہی ہے، تو توقع کی جاتی ہے کہ جیسے ہی آئی ایم ایف کی ڈیل مکمل ہوجائے گی، چین جیسے دوست اپنی توقعات سے زیادہ پاکستان کی مدد کریں گے۔

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات بھی پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہیں تاہم زیادہ تر معاملات آئی ایم ایف کی ڈیل سے جڑے ہیں۔ دوست ممالک سے ملنے والی مدد اور یقین دہانیوں کی وجہ سے حکومت پاکستان کو حوصلہ ملا ہے کیونکہ پہلے ہی اسے آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
توقع ہے کہ حکومت جلد ہی عمران خان کی دی ہوئی سبسڈی ختم کرنے کیلئے تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ کرے گی۔ اس مشکل فیصلے کی وجہ سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بالترتیب 27؍ اور 55؍ روپے کا مزید اضافہ ہوگا اور سبسڈی مکمل طور پر ختم ہوجائے گی۔یہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ مکمل کرنے کی جانب ایک بڑا قدم ہوگا جو پاکستان کو 30؍ جون سے قبل اٹھانا ہے۔یاد رہے کہ اس سے پہلے شہباز شریف حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 60 روپے فی لیٹر اضافہ کر چکی ہے۔

Back to top button