امریکا، ایران جنگ خطرناک موڑ پر، پہلی بار پلوں، ریلوے سٹیشن اور ہوائی اڈوں پر حملے

امریکا اور ایران کے درمیان جاری عسکری تصادم ایک نئے اور انتہائی خطرناک مرحلے میں داخل ہو گیا ہے، جہاں پہلی بار دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے بنیادی انفراسٹرکچر اور خطے میں موجود حساس فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ امریکی حملوں میں ایران کے پل، ریلوے سٹیشن اور ہوائی اڈے متاثر ہوئے، جبکہ ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے کویت، قطر، بحرین، عمان اور شام میں امریکی مفادات اور فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔ بڑھتی ہوئی کشیدگی نے نہ صرف پورے مشرقِ وسطیٰ کو جنگ کے خطرناک دہانے پر لا کھڑا کیا ہے بلکہ عالمی تیل کی قیمتوں، بحری تجارت اور بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں کو بھی شدید متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ شدت اختیار کرتے ہوئے ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے جہاں دونوں فریق پہلی مرتبہ ایک دوسرے کے اہم بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) کو براہِ راست نشانہ بنا رہے ہیں۔ اس پیش رفت نے نہ صرف خطے میں وسیع جنگ کے خدشات کو بڑھا دیا ہے بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی ترسیل اور بحری تجارت پر بھی گہرے اثرات مرتب ہونے لگے ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے تصدیق کی ہے کہ ایرانی فوجی لاجسٹک انفراسٹرکچر پر حملے کیے گئے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق جنوبی ایران میں متعدد پلوں کو بمباری کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ بندر خمیر میں واقع ریلوے سٹیشن اور پل پر حملے میں کم از کم سات افراد جان سے گئے۔ پاکستان کی سرحد کے قریب واقع ایرانشہر کے ہوائی اڈے پر بھی حملے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

ان کارروائیوں کے جواب میں ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔ ایرانی حکام کے مطابق کویت، قطر اور بحرین میں امریکی مفادات پر حملے کیے گئے، جبکہ عمان میں امریکی ریڈار سٹیشن اور شام کے التنف فوجی اڈے کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

کویتی حکام کے مطابق ایرانی حملوں میں ایک اہم بجلی اور سمندری پانی صاف کرنے والے پلانٹ کو نقصان پہنچا، جس سے شدید آگ بھڑک اٹھی اور متعدد پیداواری یونٹس بند ہو گئے۔ حکام نے شہریوں سے بجلی کے محتاط استعمال کی اپیل کی، جبکہ بعد ازاں کویتی فوج نے تصدیق کی کہ فوجی تنصیبات پر ڈرون حملوں میں متعدد اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

ادھر امریکی فوج نے خلیجی پانیوں میں ناکہ بندی مزید سخت کرتے ہوئے ایک پٹرولیم ٹینکر پر میرینز تعینات کر دیے۔ دوسری جانب ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تھائی لینڈ کے ایک بحری جہاز کو نشانہ بنایا۔

بحری سلامتی کی صورتحال مزید خراب اس وقت ہوئی جب خلیجِ عدن میں یمن کے قریب ایک کیمیکل ٹینکر پر مسلح افراد نے قبضہ کر لیا۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس کارروائی میں صومالی قزاق یا ایران کے حمایت یافتہ حوثی جنگجو ملوث ہو سکتے ہیں۔ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس کے انفراسٹرکچر پر حملے جاری رہے تو بحیرہ احمر کی اہم آبی گزرگاہ باب المندب کو بھی حوثیوں کے ذریعے بند کروایا جا سکتا ہے۔

جنگ میں شدت کے فوری اثرات عالمی معیشت پر بھی ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ برینٹ خام تیل کی قیمت میں مزید تین فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ عالمی اسٹاک مارکیٹوں، خصوصاً وال اسٹریٹ، میں نمایاں مندی دیکھی گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی مزید بڑھی تو عالمی توانائی کی سپلائی، تجارتی راستے اور مہنگائی پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے شہری انفراسٹرکچر پر حملوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ کشیدگی میں کمی لائیں، کیونکہ موجودہ صورتحال پورے خطے کے امن اور عالمی استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔

Back to top button