مولانا سے وعدے پورے نہ ہوئے، شکایت کرنا ان کا حق ہے: نجم سیٹھی

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیان پر جاری سیاسی تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ سینئر تجزیہ کار نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کے ایک جذباتی جملے کو بنیاد بنا کر ان کے خلاف مہم چلائی گئی، جبکہ ان کی اصل بات کو نظر انداز کر دیا گیا۔مولانا سے کئے گئے وعدے پورے نہیں کئے گئے شکایت کرنا ان کا حق ہے۔ دوسری جانب جے یو آئی خیبر پختونخوا کے امیر مولانا عطا الرحمن نے بھی مؤقف اختیار کیا کہ مولانا فضل الرحمان کی تقریر کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جا رہا ہے اور جماعت کی قربانیوں کو فراموش کیا جا رہا ہے۔
مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیان پر جاری سیاسی بحث کے دوران سینئر تجزیہ کار نجم سیٹھی اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کی قیادت نے ان کے مؤقف کا دفاع کرتے ہوئے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے۔ نجی ٹی وی کے پروگرام "آج کی بات، سیٹھی کے ساتھ” میں گفتگو کرتے ہوئے نجم سیٹھی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان جذبات میں ایک ایسا جملہ کہہ گئے جسے اصل تناظر سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔ ان کے مطابق اسی ایک جملے کو بنیاد بنا کر ایک منظم مہم چلائی گئی، جبکہ مولانا کی پوری تقریر اور بنیادی مؤقف کو نظر انداز کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر مولانا فضل الرحمان یہ وضاحت کر دیں کہ ان کا مقصد شہدا کی بے حرمتی نہیں تھا اور ان کے الفاظ کا مطلب وہ نہیں تھا جو اخذ کیا گیا، تو موجودہ تنازع ختم ہو سکتا ہے۔
نجم سیٹھی کے مطابق آئینی ترامیم کے دوران مولانا فضل الرحمان نے حکومت کا ساتھ دیا، اس دوران انہیں مختلف سیاسی وعدے کیے گئے، جن میں اعلیٰ آئینی عہدوں سے متعلق باتیں بھی شامل تھیں، تاہم بعد میں یہ وعدے پورے نہ ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی وجہ سے مولانا فضل الرحمان میں ناراضی پیدا ہوئی اور وہ اپنی شکایات کھل کر سامنے لا رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ مولانا فضل الرحمان حکومت کے اہم اتحادی اور حمایتی رہے، لیکن ان کے بقول انہیں وہ سیاسی اہمیت اور رعایت نہیں ملی جو ماضی میں دیگر سیاسی رہنماؤں کو حاصل ہوتی رہی۔ نجم سیٹھی نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ بے نظیر بھٹو، ذوالفقار علی بھٹو، نواز شریف، عمران خان، خواجہ آصف اور محمود خان اچکزئی سمیت کئی بڑے سیاستدان مختلف ادوار میں اسٹیبلشمنٹ پر تنقید کرتے رہے، مگر بعد میں انہیں سیاسی گنجائش بھی ملی۔
دوسری جانب جے یو آئی خیبر پختونخوا کے امیر مولانا عطا الرحمن نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے ایک نامکمل جملے پر غیر ضروری تنازع کھڑا کیا گیا۔ ان کے مطابق ناقدین کو پوری تقریر سننی چاہیے تاکہ اصل سیاق و سباق واضح ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ قصور میں جے یو آئی کے کامیاب جلسے کے بعد جماعت کو سیاسی طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کے بقول مولانا فضل الرحمان کی تقریر کے صرف چند الفاظ کو نمایاں کیا گیا جبکہ دہشت گردی کے خلاف ان کے واضح مؤقف اور پوری تقریر کو نظر انداز کر دیا گیا۔
مولانا عطا الرحمن نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جے یو آئی نے دہشت گردی کے خلاف بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ باجوڑ کے ایک جلسے میں جماعت کے 80 کارکن جان سے گئے، متعدد علما کو بھی نشانہ بنایا گیا، لیکن اس کے باوجود جماعت ریاست کے ساتھ کھڑی رہی۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر جے یو آئی کی سیاسی سرگرمیوں میں رکاوٹیں ڈالی گئیں تو جماعت اسے سیاسی عمل میں مداخلت تصور کرے گی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ بعض عناصر آئندہ انتخابات میں جے یو آئی کی ممکنہ کامیابی سے خوفزدہ ہیں، اسی لیے جماعت کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
مبصرین کے مطابق مولانا فضل الرحمان کے بیان پر پیدا ہونے والا تنازع اب صرف ایک تقریر تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے سیاسی وعدوں، حکومتی تعلقات، اتحادی سیاست اور حالیہ سیاسی ماحول پر بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
