معاہدے کے بعد جنگ، امریکا ایران کشیدگی کی اصل وجہ کیا ہے؟

امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی کے باوجود سفارتکاری کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے مذاکرات کا راستہ کھلا رکھنے کے اشارے اور ایرانی قیادت کے محتاط سفارتی پیغامات اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ دونوں فریق مکمل جنگ کے بجائے سیاسی حل کے امکانات بھی زندہ رکھنا چاہتے ہیں۔ تاہم دہائیوں پر محیط بداعتمادی، جوہری پروگرام، علاقائی اثر و رسوخ اور آبنائے ہرمز جیسے بنیادی تنازعات اب بھی کسی مستقل معاہدے کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
امریکا اور ایران کے درمیان جاری فوجی کشیدگی کے ساتھ ساتھ سفارتی سرگرمیاں بھی جاری ہیں، جس سے یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ دونوں ممالک ایک طرف دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہیں، جبکہ دوسری طرف مذاکرات کا دروازہ بھی مکمل طور پر بند نہیں کرنا چاہتے۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ سفارتکاری کے امکانات مسترد نہیں کیے اور کشیدگی کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان رابطے برقرار ہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ اشارہ اس بات کی علامت ہے کہ واشنگٹن مکمل محاذ آرائی کے بجائے دباؤ اور سفارتکاری کو بیک وقت استعمال کر کے اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے۔
دوسری جانب ایرانی قیادت بھی سخت عسکری ردعمل کے باوجود سیاسی حل کی راہ مکمل طور پر بند نہیں کر رہی۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی جانب سے بھی ایسے اشارے سامنے آئے ہیں کہ اگر امریکا اپنے طرزِ عمل میں تبدیلی لائے تو سفارتی پیش رفت ممکن ہو سکتی ہے۔
اگرچہ ایران کے پاسدارانِ انقلاب امریکی کارروائیوں کے جواب میں میزائل اور ڈرون حملوں کے دعوے کر رہے ہیں، لیکن تجزیہ کاروں کے مطابق عسکری کارروائیوں کے ساتھ سفارتی رابطوں کا جاری رہنا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ دونوں فریق مستقبل میں مذاکرات کی گنجائش برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔
بین الاقوامی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آئندہ دنوں میں امریکا اور ایران کی جانب سے مزید مثبت اشارے ملتے ہیں یا ثالثی کرنے والے ممالک اپنا کردار مؤثر انداز میں ادا کرتے ہیں تو مذاکرات کی بحالی کے امکانات مزید روشن ہو سکتے ہیں۔اس سلسلے میں پاکستان بھی پس پردہ سفارتی رابطوں میں سرگرم بتایا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق پاکستان نے قطر، عمان، سعودی عرب اور چین سمیت مختلف اہم علاقائی ممالک سے رابطے کیے ہیں تاکہ کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو تقویت دی جا سکے۔
تاہم مبصرین کے مطابق ثالثی کی کوششوں کو کامیابی نہ ملنے کی سب سے بڑی وجہ دونوں ممالک کے درمیان کئی دہائیوں پر محیط بداعتمادی ہے۔ ایران اور امریکا ایک دوسرے کے عزائم پر شکوک رکھتے ہیں، جبکہ جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیاں، مشرق وسطیٰ میں اثر و رسوخ اور علاقائی سلامتی جیسے بنیادی تنازعات اب بھی اپنی جگہ موجود ہیں۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ دونوں ممالک کی داخلی سیاسی صورتحال بھی قیادت کی لچک کو محدود کرتی ہے۔ امریکا میں داخلی سیاسی دباؤ اور ایران میں قومی سلامتی سے متعلق حساس معاملات اکثر سفارتی فیصلوں کو پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق موجودہ بحران میں آبنائے ہرمز بھی ایک مرکزی تنازع بن چکی ہے، کیونکہ یہ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم آبی گزرگاہ ہے۔ امریکا، ایران اور خلیجی ممالک اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ ہرمز میں استحکام سب کے مفاد میں ہے، اسی لیے شدید کشیدگی کے باوجود سفارتی رابطے مکمل طور پر منقطع نہیں کیے جا رہے۔
سیاسی ماہرین کے نزدیک جنگی دباؤ اور محدود فوجی کارروائیاں اکثر مذاکرات میں بہتر پوزیشن حاصل کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں، لیکن پائیدار حل بالآخر سفارتکاری، اعتماد سازی اور سیاسی مذاکرات ہی سے ممکن ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ بحران میں بھی عسکری محاذ کے ساتھ سفارتی محاذ کو برابر اہمیت دی جا رہی ہے۔
