واشنگٹن میں پاکستان کا سفارتی محاذ متحرک، دو سالہ لابنگ معاہدہ طے

امریکا کے ساتھ تعلقات کو نئی جہت دینے اور اقتصادی و دفاعی تعاون کو فروغ دینے کے لیے پاکستان نے واشنگٹن میں قائم ایک امریکی لابنگ فرم کے ساتھ دو سالہ معاہدہ کر لیا ہے۔ اس معاہدے کا مقصد نہ صرف پاک۔امریکا دفاعی روابط کو دوبارہ فعال بنانا ہے بلکہ بلوچستان سمیت پاکستان کے معدنی وسائل میں امریکی سرمایہ کاری کو بھی فروغ دینا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حالیہ علاقائی سفارتکاری کے بعد واشنگٹن اور اسلام آباد کے تعلقات میں بہتری کے آثار دیکھے جا رہے ہیں، تاہم تعلقات کے ماضی کو دیکھتے ہوئے اس پیش رفت کی پائیداری پر سوالات بھی موجود ہیں۔

پاکستان نے امریکا کے ساتھ دفاعی، سفارتی اور اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے واشنگٹن میں قائم ایک امریکی لابنگ فرم کے ساتھ دو سالہ معاہدہ کر لیا ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق اس معاہدے کا مقصد امریکی اداروں کے ساتھ اعلیٰ سطحی روابط کو فعال بنانا، سکیورٹی تعاون میں اضافہ کرنا اور پاکستان کے معدنی وسائل میں امریکی سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔

رپورٹس کے مطابق پاکستان نے واشنگٹن ڈی سی میں قائم ارون گریوز اسٹریٹیجی گروپ کے ساتھ تقریباً بارہ لاکھ امریکی ڈالر مالیت کا دو سالہ معاہدہ کیا ہے، جس کے تحت فرم کو ہر ماہ تقریباً پچاس ہزار ڈالر ادا کیے جائیں گے۔ یہ معاہدہ مئی 2026 سے نافذ العمل ہو چکا ہے۔

معاہدے کے اہم مقاصد میں پاک۔امریکا دفاعی تعاون کے اس اعلیٰ سطحی فورم کو دوبارہ فعال کرنا شامل ہے جو افغان جنگ کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دفاعی رابطوں کا اہم ذریعہ تھا۔ امریکی امداد میں کمی کے بعد یہ طریقۂ کار غیر فعال ہو گیا تھا، جسے اب دوبارہ مؤثر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔اس معاہدے کا ایک اہم پہلو پاکستان کے معدنی وسائل، خصوصاً بلوچستان میں موجود تانبے اور سونے کے بڑے ذخائر، میں امریکی سرمایہ کاروں کی دلچسپی بڑھانا بھی ہے۔ لابنگ فرم امریکی کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع سے آگاہ کرے گی اور اس مقصد کے لیے مختلف حکمت عملیوں پر کام کرے گی۔

معاہدے کے تحت لابنگ فرم امریکی کانگریس، محکمہ دفاع (پینٹاگون) اور دیگر متعلقہ اداروں کے سامنے افغانستان سے پیدا ہونے والے سکیورٹی خدشات کو اجاگر کرے گی، جبکہ پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کوششوں کے لیے امریکی تعاون اور حمایت حاصل کرنے کی بھی کوشش کرے گی۔

ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں حالیہ مہینوں کے دوران بہتری دیکھی جا رہی ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ سفارتی رابطوں میں پاکستان کے کردار نے بھی واشنگٹن میں اسلام آباد کی اہمیت کو بڑھانے میں کردار ادا کیا ہے۔تاہم خارجہ امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاک۔امریکا تعلقات کی تاریخ ہمیشہ اتار چڑھاؤ کا شکار رہی ہے۔ سابق پاکستانی سفیر ملیحہ لودھی سمیت متعدد سفارتی ماہرین کے مطابق موجودہ مثبت ماحول خوش آئند ضرور ہے، لیکن یہ دیکھنا باقی ہے کہ یہ سفارتی پیش رفت طویل المدت شراکت داری میں تبدیل ہو پاتی ہے یا نہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ معاہدہ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب رہا تو اس سے نہ صرف پاکستان کو دفاعی تعاون کے شعبے میں فائدہ پہنچ سکتا ہے بلکہ معدنی وسائل میں غیر ملکی سرمایہ کاری، معاشی سرگرمیوں اور علاقائی سفارتی اہمیت میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔

Back to top button