عادل راجا اور شہزاد اکبر پر حملے میں بیرونی طاقت نہیں، مقامی غنڈے ملوث تھے:برطانیہ

برطانیہ میں سابق پاکستانی حکومتی مشیر شہزاد اکبر اور سابق فوجی افسر و یوٹیوبر عادل راجا پر مبینہ حملوں سے متعلق مقدمے میں اہم قانونی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ برطانوی استغاثہ نے مقدمے سے غیر ملکی طاقت اور نیشنل سکیورٹی ایکٹ سے متعلق الزامات واپس لیتے ہوئے کیس کا دائرہ محدود کر دیا ہے۔ پراسیکیوشن کا مؤقف ہے کہ دستیاب شواہد سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ملزمان کو کسی غیر ملکی طاقت کی مبینہ شمولیت کا علم تھا، تاہم استغاثہ اب بھی یہ دعویٰ برقرار رکھے ہوئے ہے کہ حملے منظم منصوبہ بندی کے تحت کرائے کے افراد کے ذریعے کرائے گئے تھے۔


خیال رہے کہ برطانیہ میں عمرانڈو مرزا شہزاد اکبر اور بھگوڑے فوجی افسر و یوٹیوبر عادل راجا پر مبینہ حملوں کے مقدمے میں اہم قانونی تبدیلی سامنے آئی ہے۔ برطانیہ کی کراؤن پراسیکیوشن سروس (سی پی ایس) نے مقدمے سے نیشنل سکیورٹی ایکٹ اور غیر ملکی طاقت سے متعلق الزامات واپس لینے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کے بعد مقدمہ اب محدود نوعیت کے الزامات کے تحت آگے بڑھے گا۔

استغاثہ کے مطابق مقدمے کا جائزہ لینے کے بعد یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ ملزمان کے خلاف ایسے شواہد موجود نہیں جو یہ ثابت کر سکیں کہ انہیں کسی غیر ملکی طاقت کی مبینہ شمولیت یا معاونت کا علم تھا۔ اسی بنیاد پر نیشنل سکیورٹی ایکٹ کی متعلقہ دفعات پر مزید انحصار نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ غیر ملکی طاقت سے متعلق الزامات واپس لے لیے گئے ہیں، تاہم کراؤن پراسیکیوشن سروس کا کہنا ہے کہ مقدمے میں یہ مؤقف برقرار رہے گا کہ حملے مبینہ طور پر منظم منصوبہ بندی کے تحت کیے گئے اور اس مقصد کے لیے کرائے کے افراد کو استعمال کیا گیا۔

قانونی ماہرین کے مطابق اس پیش رفت سے مقدمے کی نوعیت میں نمایاں تبدیلی آئے گی، کیونکہ اب استغاثہ اپنی توجہ قومی سلامتی سے متعلق الزامات کے بجائے حملے اور مبینہ مجرمانہ منصوبہ بندی سے متعلق شواہد پر مرکوز کرے گا۔ مبصرین کے مطابق یہ مقدمہ اپنی نوعیت کے باعث ابتدا ہی سے خاصی توجہ کا مرکز رہا ہے، کیونکہ اس میں پاکستانی سیاسی شخصیات، برطانیہ کا نیشنل سکیورٹی ایکٹ اور مبینہ غیر ملکی مداخلت جیسے حساس پہلو شامل تھے۔ تازہ فیصلے کے بعد مقدمے کی آئندہ کارروائی اب محدود الزامات کی بنیاد پر آگے بڑھے گی، جبکہ عدالت میں شواہد کی روشنی میں ملزمان کے خلاف باقی الزامات کا جائزہ لیا جائے گا۔

Back to top button