CSS کا کریز ختم؟ چار برس میں امیدواروں کی تعداد آدھی رہ گئی

پاکستان میں ایک زمانہ تھا جب سینٹرل سپیریئر سروسز (سی ایس ایس) کو نوجوانوں کا سب سے بڑا خواب سمجھا جاتا تھا، مگر اب صورتحال تیزی سے بدلتی دکھائی دے رہی ہے۔ فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے تازہ اعداد و شمار نے اس رجحان پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ گزشتہ چار برسوں کے دوران نہ صرف سی ایس ایس امتحان کے لیے رجسٹریشن کرانے والے امیدواروں کی تعداد تقریباً نصف رہ گئی بلکہ وفاقی حکومت کی عمومی ملازمتوں کے لیے درخواستوں میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ امیدواروں کی تعداد کم ہونے کے باوجود کامیابی حاصل کرنے والوں کی شرح اب بھی انتہائی محدود ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ سرکاری ملازمتوں کا مقابلہ آج بھی پہلے کی طرح سخت ہے۔ یہ اعداد و شمار صرف ایک امتحان یا بھرتی کے نظام کی کہانی نہیں بلکہ نوجوانوں کی ترجیحات، روزگار کے بدلتے رجحانات اور سرکاری ملازمتوں کے مستقبل سے متعلق کئی اہم سوالات کو جنم دیتے ہیں۔
مبصرین کے مطابق پاکستان میں سرکاری ملازمت، خصوصاً سینٹرل سپیریئر سروسز (سی ایس ایس)، کو ہمیشہ باوقار اور بااختیار کیریئر تصور کیا جاتا رہا ہے، لیکن حالیہ برسوں میں نوجوانوں کی دلچسپی میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے۔ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (ایف پی ایس سی) کے تازہ تجزیاتی اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چار برسوں میں سی ایس ایس اور وفاقی حکومت کی عمومی بھرتیوں کے لیے درخواست دینے والے امیدواروں کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2022 میں سی ایس ایس امتحان کے لیے رجسٹریشن کرانے والے امیدواروں کی تعداد 35 ہزار 59 تھی، جو 2025 میں کم ہو کر صرف 18 ہزار 139 رہ گئی، یعنی تقریباً 48 فیصد کمی۔ اسی عرصے میں امتحان میں شریک ہونے والے امیدوار بھی 20 ہزار 262 سے کم ہو کر 12 ہزار 792 رہ گئے۔
درخواستوں میں کمی کے باوجود کامیاب امیدواروں کی تعداد میں بھی اضافہ نہیں ہوا بلکہ 2022 میں 239 امیدوار منتخب ہوئے تھے، جبکہ 2025 میں یہ تعداد کم ہو کر صرف 170 رہ گئی۔ اس طرح ہزاروں امیدواروں میں سے صرف چند افراد ہی سی ایس ایس میں کامیابی حاصل کر سکے۔
فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے مطابق 2025 میں رجسٹرڈ سی ایس ایس امیدواروں میں سے صرف 0.94 فیصد جبکہ امتحان دینے والوں میں سے محض 1.33 فیصد امیدوار ہی نامزد کیے جا سکے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اگرچہ درخواستیں کم ہوئی ہیں، لیکن مقابلہ اب بھی انتہائی سخت ہے۔
یہی رجحان وفاقی حکومت کی عمومی بھرتیوں میں بھی دیکھا گیا۔ 2023 میں جنرل ریکروٹمنٹ کے لیے درخواستوں کی تعداد 4 لاکھ 36 ہزار 757 تک پہنچ گئی تھی، مگر صرف دو برس بعد 2025 میں یہ تعداد کم ہو کر ایک لاکھ 96 ہزار 193 رہ گئی، یعنی 55 فیصد سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی۔
اسی طرح امتحانات میں شریک ہونے والے امیدواروں کی تعداد بھی تقریباً دو لاکھ سے کم ہو کر صرف 80 ہزار 633 رہ گئی۔ اس کے باوجود ملازمت حاصل کرنے والوں کی تعداد انتہائی محدود رہی۔ 2025 میں تقریباً دو لاکھ درخواست گزاروں میں سے صرف 3 ہزار 5 امیدواروں کی سفارش کی گئی، جبکہ 2023 میں ساڑھے چار لاکھ کے قریب درخواستوں کے باوجود صرف ایک ہزار 436 امیدوار منتخب ہوئے تھے۔
اعداد و شمار یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ رجسٹریشن کرانے والے تمام امیدوار امتحان میں شریک نہیں ہوتے۔ تاہم حالیہ برسوں میں امتحان میں شرکت کی شرح میں کچھ بہتری ضرور آئی ہے۔ سی ایس ایس میں 2023 کے دوران تقریباً 45 فیصد رجسٹرڈ امیدوار امتحان میں شریک ہوئے، جبکہ 2025 میں یہ شرح بڑھ کر تقریباً 71 فیصد ہو گئی۔ اسی طرح عمومی بھرتیوں میں امتحان میں شرکت کی شرح بھی 32 فیصد سے بڑھ کر 41 فیصد تک پہنچ گئی۔
ماہرین کے مطابق یہ رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ نوجوانوں کی بڑی تعداد سرکاری ملازمتوں کے بجائے نجی شعبے، بیرون ملک روزگار، کاروبار، فری لانسنگ اور ڈیجیٹل معیشت کی طرف زیادہ متوجہ ہو رہی ہے۔ دوسری جانب سرکاری ملازمتوں میں محدود آسامیاں، طویل بھرتی کا عمل اور سخت مقابلہ بھی نوجوانوں کی دلچسپی میں کمی کی اہم وجوہات قرار دی جا رہی ہیں۔
اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ اگرچہ سرکاری ملازمتوں کے خواہشمندوں کی تعداد کم ہو رہی ہے، لیکن دستیاب آسامیوں کے مقابلے میں امیدوار اب بھی کئی گنا زیادہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سی ایس ایس ہو یا دیگر وفاقی ملازمتیں، کامیابی کا راستہ آج بھی انتہائی کڑا اور محدود دکھائی دیتا ہے۔
