مری میں مرنے والے خاندان کی وائرل ویڈیو فیک نکلی

7 اور 8 جنوری کی رات مری میں طوفانی برف باری کے دوران اپنے خاندان سمیت جاں بحق ہونے والے اسلام آباد پولیس کے اے ایس آئی نوید اقبال کی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی موت سے پہلے بچوں کے ساتھ سیر و تفریح کی ویڈیو فیک نکلی۔ یاد رہے کہ اسلام آباد پولیس کے اسسٹنٹ سب انسپکٹر نوید اقبال اپنی بہن، بیٹیوں، بیٹوں، بھانجے اور بھتیجے کے ہمراہ طوفانی رات گزرنے کی اگلی صبح کار میں مردہ پائے گئے تھے۔ نوید اقبال مری اور نتھیاگلی کے درمیان روڈ پر شدید برفباری میں پھنس گئے تھے اور مدد کے لئے اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کو بھی فون کرتے رہے لیکن انہیں ریسکیو نہ کیا جا سکا۔
ان کے ہمراہ ان کی بیٹیاں 18 سالہ شفق، 13 سالہ دعا، 10 سالہ اقرا، 5 سالہ بیٹا احمد، بھانجی 2 سالہ حوریہ، بھتیجا 9 سالہ آیان، اور بہن قرۃ العین بھی کار میں مردہ پائی گئی تھیں۔ نوید اقبال سمیت مری میں 24 افراد کاروں میں مردہ پائے گئے تھے، جس کے بعد وہاں ایمرجنسی نافذ کرکے سیاحتی مقام کو ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا تھا اور بعد ازاں وہاں ہونے والی بدنظمی اور اموات پر تحقیقاتی کمیٹی بھی قائم کردی گئی تھی۔
مری میں ان افسوسناک اموات کے بعد سوشل میڈیا پر جاں بحق ہونے والے اے ایس آئی نوید اقبال کے نام سے منسوب ایک ویڈیو بھی کافی وائرل ہوئی تھی اور اسے متعدد ٹی وی چینلز اور ویب سائٹس نے بھی نشر کیا تھا۔
اس ویڈیو میں نوید اقبالنکی طرح دکھائی دینے والے ایک باریش شخص کو اپنے بچوں کے ہمراہ کار میں مری کی سیاحت اور موسم سے متعلق بات کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ ویڈیو سے متعلق دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہ اے ایس آئی نوید اقبال کی آخری ویڈیو ہے مگر درحقیقت وہ ویڈیو نوید اقبال کی نہیں تھی۔ جب اس وائرل ویڈیو پر تحقیق کی گئی تو معلوم ہوا کہ یہ کسی اور خاندان کی ویڈیو تھی جو خوش قسمتی سے طوفانی برفباری باری میں محفوظ رہا۔ سائبر ٹی وی نامی ایک چینل نے وائرل ہونے والی ویڈیو میں نظر آنے والے بچوں اور ان کے والد کا انٹرویو کیا اور ثابت کیا کہ وائرل ہونے والی ویڈیو انکی تھی اور نوید اقبال کے خاندان کی نہیں تھی۔ وائرل ویڈیو والے افراد نے بتایا کہ وہ بھی مری میں پھنس گئے تھے مگر وہ حالات زیادہ خراب ہونے تک وہاں سےنکل آئے۔
مری کی فوجی چھاؤنی میں 2 درجن سویلینز کیوں مرے؟
انہوں نے یہ ویڈیو بنا کر ایک دوست کو بھیجی تھی، جنہوں نے اسے کسی گروپ میں شیئر کیا، جہاں سے وہ ویڈیو وائرل ہو گئی۔ ویڈیو میں اے ایس آئی نوید اقبال کے طور پیش کیے گئے شخص نے بتایا کہ ان کے دوست نے ان کی بنائی گئی ویڈیو کو کسی گروپ میں شیئر کیا، جہاں سے لوگوں نے ان کی ویڈیو کو غلط کیپشن اور نام دے کر شیئر کیا جو دیکھتے دیکھتے وائرل ہوگئی اور ان کی ویڈیو کو لوگ اے ایس آئی نوید اقبال کے خاندان کی آخری ویڈیو سمجھنے لگے۔
ویڈیو میں بچوں نے بتایا کہ جب وہ اسکول گئے یا محلے کے لوگوں نے انہیں دیکھا تو سب حیران رہ گئے اور ان سے پوچھنے لگے کہ کہیں ان کی روح تو یہاں نہیں گھوم رہی؟ ویڈیو میں نظر آنے والے بچوں نے بتایا کہ انکی اصلی ویڈیو کو غلط کیپشن دے کر وائرل کیا گیا۔ بچوں نے بتایا کہ وہ بھی مری میں ایک طرح سے پھنس گئے تھے اور کئی گھنٹے تک بھوکے رہے اور انہوں نے وہاں بہت برا وقت گزارا لیکن زندہ بچ کر آگئے۔
