مری کی فوجی چھاؤنی میں 2 درجن سویلینز کیوں مرے؟

مری ایک سرکاری ہل اسٹیشن ہے، یہاں تمام بڑے چھوٹے محکموں کے ریسٹ ہاؤسز بھی ہیں اور دفاتر بھی۔ یہاں آرمی، نیوی اور ائیر فورس کے سینٹرز بھی ہیں اور ایک بڑی فوجی چھاؤنی بھی ہے۔ حکومت نے 8 جنوری کو بھی فوج کے ذریعے ہی بحران پر قابو پایا تھا۔ فوج کے جوانوں نے ہی برف میں پھنسے ہوئے لوگوں کو خوراک، ادویات اور کمبل پہنچائے اور بند راستے کھولے تھے

لہٰذا سوال یہ ہے کہ ریاست کے پاس جب مری میں ہر طرح کے وسائل بھی موجود تھے اور افرادی قوت بھی دستیاب تھی تو انہیں سانحہ مری کی رات استعمال کیوں نہ کیا گیا اور 24 افراد کے مرنے کا انتظار کیوں کیا گیا؟ عوام ساری رات گاڑیوں میں مرتے رہے اور مسیحا اپنے گیٹ بند کر کے احکامات کا انتظار کرتے رہے، چناں چہ ہمیں اب فیصلہ کرنا ہوگا ہم نے یہ ملک چلانا ہے یا پھر اس کے خاتمے کا اعلان کرنا ہے؟ لہٰذا پلیز جاگ جائیں، پانی ناک تک پہنچ چکا ہے، ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں بچا۔

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار جاوید چوہدری ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم مانیں یا نہ مانیں لیکن حقیقت یہی ہے مری میں سات اور آٹھ جنوری کی درمیانی رات اسٹیٹ اور معاشرہ دونوں فیل ہو گئے تھے‘ آپ ریاست کی حالت دیکھیے۔ محکمہ موسمیات نے پانچ جنوری کو مری سے مالم جبہ تک شدید برف باری کی پیش گوئی بھی کر دی تھی اور یہ وارننگ بھی دے دی تھی 9 جنوری تک تمام رابطہ سڑکیں بند رہ سکتی ہیں‘ سیاحوں کو بھی احتیاط کا مشورہ دیا گیا تھا لیکن کسی سرکاری محکمے نے سرکاری محکمے کی رپورٹ کو سیریس نہیں لیا۔ پوری حکومت جانتی ہے مری میں تین ساڑھے تین ہزار گاڑیوں کی گنجائش ہے۔

ٹریفک پولیس نے چار جنوری کو اطلاع دے دی تھی شہر میں گنجائش سے زیادہ گاڑیاں داخل ہو چکی ہیں اور مزید سیاحوں کو روکیں ورنہ ٹریفک جام ہو جائے گی۔ لیکن عین اس وقت وزیر اطلاعات فواد چوہدری ٹویٹ کے ذریعے دنیا کو بتا رہے تھے کہ ’’مری میں ایک لاکھ کے قریب گاڑیاں داخل ہو چکی ہیں، ہوٹلوں اور اقامت گاہوں کے کرائے کئی گنا اوپر چلے گئے ہیں اور سیاحت میں اضافہ عام آدمی کی خوش حالی اور آمدنی میں اضافے کو ظاہر کرتا ہے‘‘۔

جاوید چودھری کہتے ہیں کہ ماضی میں مری میں ہر برف باری سے پہلے برف ہٹانے کی مشینری سڑکوں پر کھڑی کر دی جاتی تھی، مختلف مقامات پر نمک کا ذخیرہ بھی کر دیا جاتا ہے جوں ہی برف باری شروع ہوتی، مشینیں اپنا کام شروع کر دیتی تھیں اور ساتھ ساتھ برف ہٹاتی رہتی تھیں کیوں کہ اگر ایک بار برف پڑ جائے تو پھر مشینیں بھی وہاں نہیں پہنچائی جا سکتیں اور برف بھی صاف نہیں کی جا سکتی لیکن اس بار مشینیں سنی بینک کے ڈپو میں کھڑی رہ گئیں۔ نمک بھی کاغذوں ہی میں خریدا گیا اور کاغذوں ہی میں سڑکوں پر پھینکا گیا چناں چہ پھر کیا ہوا؟

’’خوش حالی‘‘ کی وجہ سے ایک لاکھ 62 ہزار گاڑیاں شہر میں داخل ہو گئیں، ٹریفک جام ہو گئی، ہوٹلوں میں ٹوٹل کمرے دو سے تین ہزار ہیں اور لوگ چار لاکھ پہنچ گئے، ہوٹلوں نے ریٹس پچاس سے ستر ہزار فی کمرہ کر دیے لہٰذا لوگ خاندانوں سمیت گاڑیوں میں محصور ہو گئے لیکن حکومت عوام کی خوش حالی اور مثالی انتظامات پر بیوروکریسی کو مبارک باد پیش کر رہی تھی اور انتظامیہ محکمہ موسمیات کی رپورٹ کو ردی کی ٹوکری میں پھینک کو موسم انجوائے کر رہی تھی اور یہ صورت حال مری کے مافیاز کے لیے آئیڈیل تھی۔

جاوید چوہدری بتاتے ہیں کہ لہٰذا انھوں نے دل کھول کر سیاحوں کو لوٹنا کھسوٹنا شروع کر دیا، ابلا ہوا انڈہ پانچ سو روپے کا ہو گیا، چائے کا کپ چھ سو روپے، پانی کی بوتل آٹھ سو روپے سے ہزار روپے، گاڑی کو دھکا لگانے کا ریٹ تین ہزار روپے اور چین کا ریٹ سات سے دس ہزار روپے ہو گیا، مقامی لوگوں نے جیپوں سے پٹرول کے کین تک اتار لیے، خواتین کے ساتھ بدتمیزی بھی کی اور روتے بلکتے بچوں کے ساتھ مذاق بھی۔ مری کے مقامی لوگ سیاحوں سے راستہ بتانے کے پیسے بھی مانگتے رہے لہٰذا پھر لوگوں کے پاس گاڑیوں میں پناہ لینے کے سوا کوئی چارہ نہ رہا اور یہ کاریں آخر میں ان کے لیے گیس چیمبر ثابت ہوئیں۔

جاوید کہتے ہیں کہ آپ یہ بھی یاد رکھیں مری ایک سرکاری ہل اسٹیشن ہے، یہاں تمام بڑے چھوٹے محکموں کے ریسٹ ہاؤسز بھی ہیں اور دفاتر بھی‘یہاں آرمی‘ نیوی اور ائیرفورس کے سینٹرز بھی ہیں اور ایک بڑی چھاؤنی بھی‘ حکومت نے 8 جنوری کو بھی فوج کے ذریعے ہی یہ کرائسیس مینج کیا تھا‘ پاک فوج کے جوانوں نے ہی آخر میں لوگوں کو خوراک‘ ادویات اور کمبل پہنچائے تھے اور راستے کھولے تھے لہٰذا ریاست کے پاس جب مری میں وسائل بھی موجود تھے اور افرادی قوت بھی تو سوال پیدا ہوتا ہے یہ قوت اور یہ وسائل اگر ایک دن یا ایک رات پہلے استعمال ہو جاتے تو کیا ہم 23 لوگوں کی جان نہیں بچاسکتے تھے؟ یہ سوال ہی اب بے وقوفی محسوس ہوتا ہے۔

مری میں مرنے والے خاندان کی وائرل ویڈیو فیک نکلی

انکا کہنا ہے کہ ہم ایک گورکن قوم بن چکے ہیں جس کے پاس لاشیں دفن کرنے‘ رونے دھونے اور لواحقین کے لیے امدادی رقم کے اعلان کے سوا کوئی کام نہیں۔ اندازاہ لگائیں کہ 30 ہزار کاریں سڑکوں پر برف میں پھنسی ہیں اور ریاست گھر میں سوئی پڑی ہے۔ کیا اس سے بڑا کوئی اسٹیٹ فیلیئر ہو سکتا ہے؟ کیا اس سے بھی بڑی کوئی بے حسی ہو سکتی ہے؟ ریاست کو اگر لوگوں کی ذرا برابر بھی پروا ہوتی، حکومت اگر واقعی انسانوں کی حکومت ہوتی تو یہ معاملات کو اس نوبت تک نہ جانے دیتی اور یہ اگر ہو بھی گیا تھا تو یہ سانحے کی رات ایمرجنسی ڈکلیئر کر کے مری کے تمام ہوٹلز، ریسٹ ہاؤسز اور گھر قبضے میں لے لیتی اور لوگوں کو گاڑیوں سے نکال کر ان میں ٹھہرا دیتی۔ لوئر ٹوپہ اور کلڈنہ میں جہاں لوگ گاڑیوں میں مر رہے تھے وہاں دیواروں کی دوسری طرف ریاست عمارتیں تھیں لیکن اس رات کسی کے دل میں رحم نہ آیا۔

جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ موجودہ حکومت نااہلی، نا تجربہ کاری اور تکبر کا خوف ناک آملیٹ ہے۔ حکمران سننے اور سمجھنے دونوں قسم کی صلاحیتوں سے محروم ہیں اور پیچھے رہ گئی ریاست تو یہ محکمہ موسمیات کے الرٹ کو بھی سنجیدہ نہیں لیتی، یہ برف ہٹانے کی مشینری ڈپو میں کھڑی کرنے کے بعد خود برف انجوائے کرتی رہتی ہے، اس دوران عوام ساری رات گاڑیوں میں مرتے رہتے ہیں اور یہ گیٹ بند کر کے آرڈر کا انتظار کرتی رہتی یے۔

Back to top button