کیا پاکستان میں ڈالر 300روپے کا ہونے والا ہے

سینئر صحافی اور کالم نگار وجاہت مسعود کہتے ہیں کہ 2023 کے پاکستان میں افراط زر 25 فیصد اور مہنگائی 35 فیصد کے نشان کو چھو رہی ہے ۔ ڈالر محض دو روز میں 31روپے مہنگا ہو کر 262 روپے کا ہو گیا۔ 48 گھنٹے میں ملکی قرضہ 4000 ارب روپے بڑھ گیا۔ کوئی دن جاتا ہے کہ ایک ڈالر کی قیمت 300 روپے تک جا پہنچے گی۔ اپنی تازہ تحریر میں وجاہت مسعود کہتے ہیں کہ ملک بھر میں بجلی کے ایک روزہ بریک ڈاؤن نے اربوں روپے کا نقصان پہنچا دیا۔ رواں برس ربیع اور خریف کی فصلوں کے تخمینے حوصلہ شکن ہیں۔
چنانچہ غذائی بحران منہ پھاڑے کھڑا ہے۔ کراچی بندرگاہ پر درآمدی سامان سے لدے جہاز قحط زدہ علاقے میں مردار ڈھور ڈنگروں کی طرح بے حس و حرکت کھڑے ہیں کیونکہ بینک لیٹر آف کریڈٹ (letter of credit ) جاری نہیں کر رہے۔ وفاق میں برسراقتدار حکومت کے دو معاشی ماہر یوں گتھم گتھا ہیں گویا 23 کروڑ عوام روزی روٹی کے لئے مفتاح اسماعیل اور اسحاق ڈار کی ذاتی اہلیت کے تابع ہیں۔ وجاہت مسعود کہتے ہیں کہ دیرینہ شفیق دوست سعودی عرب نے غیر مشروط امداد سے ہاتھ کھینچ لیا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف ماضی قریب میں جس ملک کے لئے ’اغیار‘ کی نیم ملفوف اصطلاح استعمال کیا کرتے تھے، اب اسی ملک سے درخواست کی جا رہی ہے کہ آئی ایم ایف کو اپنی شرائط نرم کرنے پر مائل کرے۔ ملک کو کم از کم دس ارب ڈالر کی فوری امداد درکار ہے اور آئندہ ہفتے آئی ایم ایف کا وفد فقط ایک ارب ڈالر کے قرض کی امید موہوم کا چراغ کڑی شرائط کے ٹھیلے پر رکھے اسلام آباد پہنچ رہا ہے۔ یہ کڑی شرائط کیا ہیں؟ غیرترقیاتی مصارف میں کمی، امیر طبقے پر براہ راست ٹیکس، حکومتی لاؤ لشکر میں کمی وغیرہ۔ اخبار میں سچ لکھنا آدم خور کی دم پر پاؤں رکھنے کے مترادف ہے لیکن ایک نظر سری لنکا پر ڈال کر معلوم کر لیجئے کہ وہاں دیوالیہ ہونے کے بعد عوام پر کیا گزر رہی ہے اور سری لنکا حکومت نے حالیہ ہفتوں میں کیا فیصلے کئےہیں؟ کیا آئی ایم ایف کے وفد کو پاکستان آنے سے قبل معلوم نہیں ہو گا کہ یہاں 2000 سے زائد مہنگی گاڑیاں درآمد کی جا رہی ہیں۔ شہروں میں رات گئے تک کھانے پینے کی جگہوں پر یوں کھوے سے کھوا چھلتا ہے ، اشیائے تعیش کے نت نئے برانڈ منڈی میں متعارف ہو رہے ہیں۔ ایک طرف غربت کا بے کراں سمندر ہے اور دوسری طرف اختیار کی فصیلوں کے پار دولت کے مختصر جزیرے۔
وجاہت مسعود کہتے ہیں کہ آزادی سے قبل ہمارے ہر شہر میں دو منطقے آباد تھے۔ غیر ملکی حکمرانوں کی صاف ستھری آبادیاں اور غلام قوم کے بدحال محلے۔ آزادی کے بعد یہ فرق آیا کہ ہم نے شہروں کے بیچوں بیچ امرا کے عالی شان ایوان کھڑے کر دیے ہیں جن کے چاروں طرف کلبلاتے محکوموں کی کچی بستیاں ہیں جہاں افلاس اور محرومی نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ انیسویں صدی کے ایک برطانوی مدبر ڈزرائیلی نے لکھا تھا کہ ہر قوم میں دراصل دو قومیں آباد ہوتی ہیں، امیر اور غریب۔ انہیں ایک دوسرے کے طور اطوار اور احساسات کا کوئی علم نہیں ہوتا لیکن اس مدبر ہی نے یہ بھی کہا تھا کہ اقتدار کا بنیادی فریضہ عوام کی بھلائی کے لئے کام کرنا ہے۔
سیاسی بے یقینی اور معاشی بحران میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ سنجیدہ قومیں ایسی آزمائش سے نکلنے کے لئے سیاسی قیادت کی طرف دیکھتی ہیں مگر ہمیں تو معلوم ہی نہیں کہ ہماری قیادت کون کر رہا ہے۔ دو صوبوں کی حکومتیں تحلیل ہو چکیں اور دستور کے مطابق وہاں متعین مدت میں نئے انتخابات پر گہرے سوالات موجود ہیں۔ سیاست عدالت کے احاطے میں کھڑی ہے اور پارلیمنٹ بیوہ کی مانگ کی طرح ویران ہے۔ آئی ایم ایف کو اپنے فیصلے کرنے کا اختیار ہے۔ ہمیں تو یہ پوچھنا ہے کہ ہمارے فیصلے کسے کرنا ہیں؟ جرنیلی سڑک پر اسلام آباد لاہور سے 312 کلومیٹر دور ہے اور ان دو شہروں کے درمیان راولپنڈی واقع ہے۔ جنوب میں کراچی کی دو کروڑ سے زیادہ آبادی اپنے بلدیاتی سربراہ کے انتظار میں ہے اور بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑوں پر طاری خاموشی جذباتی لاتعلقی کا پتا دیتی ہے۔وجاہت مسعود تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئےکہتے ہیں کہ 1945 میں برطانیہ نے عالمی جنگ جیتی تھی لیکن گیارہ برس تک اس ملک میں اشیائے ضرورت پر راشن بندی کی گئی۔ ہم اپنے ملک میں دکانداروں کو بجلی بچانے کے لئے آٹھ بجے دکانیں بند کرنے کا حکم نہیں دے سکتے اور یہ ایسے ملک میں ہو رہا ہے جہاں توانائی کی درآمدات 29 ارب ڈالر کو پہنچ چکیں۔ کوئی سورج کی چمک یا موت کے دکھ میں کہاں تک آنکھ ڈال کر دیکھے۔ آخر میں وضاحت مسعود کو فیاض ہاشمی یاد آتے ہیں جنھوں نے کہا تھا
عبث نادانیوں پر آپ اپنی ناز کرتے ہیں
ابھی دیکھی کہاں ہیں آپ نے نادانیاں میری
