ٹی ٹی پی دہشت گرد طالبان کے سامنے کھڑےہوگئے

تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گرد افغان طالبان کے سامنے کھڑے ہوگئے ہیں ،اور اس حوالے سے ٹی ٹی پی دہشت گرد اور افغان طالبان رہنما کی گفتگو منظرِ عام پر آگئی ہے، جس میں تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گردنے افغان طالبان رہنما سے سوال کیا ہے کہ جب وہ افغانستان میں لڑ رہے تھے اور یہاں پر اُن کے خاندان اور جو وہاں سے بھاگ کر یہاں آگئے تھے، اُس وقت جہاد کا فتویٰ پاکستان کے خلاف کیوں نہیں دیا؟ اور پاکستان کی حکومت کے خلاف؟ اور اب جو فتویٰ دیا جا رہا ہے پاکستان اور پاکستان کی حکومت کے خلاف اُس کی کیا وجہ ہے؟
منظر عام پر آنیوالی گفتگو کے مطابق ٹی ٹی پی دہشتگرد کہتا ہے کہ ۔۔السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ خراسانی صاحب کیا حال ہے خیریت سے ہیں ٹھیک ہیں۔خراسانی صاحب آپ سے کچھ معلوم کرنا ہے کہ میں نے آپ سے ایک سوال کیا تھامگرآپ نے اسکا جواب نہیں دیا تھا،یہ سوال معاہدہ کے بارے میں تھا کہ داعش والوں کے ساتھ معاہدہ ہوا ہے۔مجھے وہ معاہدہ دکھائیں اگر ہوا ہے۔اگر تحریری شکل میں موجود ہے تو بھی شئیر کر دیں۔اور پاکستان والوں کے ساتھ افغانستان کا جو معاہدہ ہوا ہے اسکے بارے میں بھی اگر مواد ہے تو بھجوا دیں۔مہربانی اور جزاک اللہ۔خفانہیں ہونا۔
جس کا جواب دیتے ہوئے طالبان رہنما کہتا ہے :۔۔۔۔ وعلیکم السلام خلیفہ صاحب الحمداللہ ہم سب ٹھیک ہیں آپ سنائیں کیسے ہیں، بالکل ٹھیک ہے اس بارے میں آپ کے پاس ایک کتاب بھجوا رہا ہوں۔ مکمل کتاب ہے۔ اور میں نے داعش کے متعلق جو بات کی ہے اس کا سکرین شاٹ بھی آپ کو بھجوا دوں گا۔ اس کتاب میں سب کچھ لکھا ہوا ہے اس میں مختلف سوالات ہیں۔ یہ کتاب امارات اسلامی کی طرف سے بھری ہوئی ہے۔ معاہدے کے بارے میں مختلف سوالات ہیں کہ کس طرح معاہدہ جائز ہے یا نہیں۔ اس میں ہر قسم کے خطرات کا ذکر ہے جو داعش کی جانب سے امارات اسلامی سے کیے گئے ہیں اس کے تمام جوابات اس میں موجود ہیں آپ دیکھ لیں آپ کو بہت فائدہ ہوگا۔
