عمران خان فوجی قیادت کو کس لئے بلیک میل کر رہا ہے؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار وجاہت مسعود نے کہا ہے کہ عمران خان کی جانب سے فوجی قیادت پر مسلسل تنقید کے پیچھے یہ مطالبہ چھپا ہے کہ انہیں عسکری قیادت دوبارہ سے اپنے کندھوں پر بٹھا کر ایوان اقتدار میں واپس لائے جہاں وہ مطلق العنان اقتدار کے مزے لوٹ سکیں۔ لیکن انہیں سمجھنا چاہیئے کہ یہ 2018 نہیں ہے اور ویسے بھی ہائبرڈ نظام حکومت کا تجربہ ناکام ہو کر اوندھے منہ گرا پڑا ہے۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں وجاہت مسعود کہتے ہیں کہ 5 ستمبر کو عمران خان نے فیصل آباد کرکٹ اسٹیڈیم میں جلسہ عام سے دھواں دھار خطاب کیا اور حسب معمول دائیں بائیں دھول اڑاتے نکل گئے۔ دیگر فرمودات کے علاوہ خان صاحب نے پھر سے فوج پر لب کشائی فرمائی۔ پولیس، بیوروکریسی اور عدلیہ پر حضرت کے جوشِ خطابت نے پہلے سے طوفان اٹھا رکھا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے فوج کو ’نیوٹرل‘ قرار دیا تو عمران کو گویا پھبتی سوجھ گئی۔ جو نہیں کہنا تھا، وہ بھی ’نیوٹرل‘ کی گلوری میں لپیٹ کر اپنے مداحوں کا جی گرماتے رہے۔

عمران دور میں جنرل قمر باجوہ کے استعفیٰ دینے کا انکشاف

وجاہت مسعود کہتے ہیں کہ متعلقہ حلقوں کی جانب سے اظہار ناراضی کے باوجود حضرت سیلابی ریلے کی طرح پھیلتے ہی چلے گئے۔ حکومتی مخالفین کا موقف ہے کہ شہباز گل کا زیر سماعت ٹی وی تبصرہ کیس انکے رہنما کی ہدایت کا نتیجہ تھا۔ اس الزام کا ثبوت ابھی سامنے نہیں آیا لیکن فیصل آباد میں عمران خان نے گویا پردہ اٹھا دیا۔ حوالہ دینے کی کیا ضرورت ہے۔ اب تک ہر پاکستانی حضرت کی خوش بیانی سے آشنا ہو چکا ہے۔ خان صاحب نے ایک ہی جملے میں تین مرتبہ ٹھوکر کھائی۔ انہوں نے محبِ وطن آرمی چیف لگانے کا مطالبہ کیا۔ گویا اعلیٰ عسکری قیادت میں کوئی غیر محبِ وطن بھی ہو سکتا ہے۔ اسکے بعد انہوں نے آئندہ آرمی چیف سے کرپشن پر گرفت کی امید باندھی حالانکہ کرپشن کے معاملات دیکھنا آرمی چیف کے دائرہ کار میں نہیں آتا۔ اس کیلئے ایف آئی اے، نیب اور عدالتیں موجود ہیں۔ ویسے بھی آرمی چیف کی تعیناتی وزیر اعظم کا صوابدیدی اختیار ہے۔ اس کیلئے وزیراعظم کو قائد حزب اختلاف سے مشاورت کی بھی ضرورت نہیں اور عمران خان تو اپوزیشن لیڈر بھی نہیں ہیں۔

وجاہت مسعود یاد دلاتے ہیں کہ 9 اپریل کے بعد سے خان کی جماعت کے ارکان اسمبلی بھی انکے ساتھ ہی مستعفی ہو چکے ہیں۔ قومی اسمبلی میں راجہ ریاض اپوزیشن لیڈر ہیں۔ عمران خان اور ان کے رفقا 2014 کے دھرنے کی طرح استعفے کے باوجود مالی مراعات سے مستفید ہو رہے ہیں۔ آرمی چیف کی تعیناتی پر اختیار ایسا کلیدی قضیہ ہے کہ اس کیلئے جنرل ضیا نے 1985اور جنرل مشرف نے 2003 میں بالترتیب آٹھویں اور سترہویں آئینی ترامیم کے ذریعے آئین کا حلیہ بگاڑا۔ 2010 میں اٹھارہویں آئینی ترمیم نے یہ اختیار وزیراعظم کو واپس لوٹا دیا۔ اکتوبر 2016 میں ڈان لیکس کا قضیہ تو آپ کو یاد ہو گا۔ وہ وزیراعظم کے اسی اختیار کا شاخسانہ تھا۔ سادہ لفظوں میں عمران خان کا مطالبہ یہ ہے کہ انکو عسکری کی قیادت دوبارہ سے اپنے کندھوں پر بٹھا کر ایوان اقتدار میں واپس لائے جہاں وہ مطلق العنان اقتدار کے مزے لوٹ سکیں۔ لیکن یہ 2018 نہیں ہے۔ ہائبرڈ بندوبست کا تجربہ اوندھے منہ پڑا ہے اور عمران خان کی بے مہار گفتار سے ان کے حامی بھی مشکل میں مبتلا ہو چکے ہیں۔

وجاہت مسعود کہتے ہیں کہ سابق فوجی افسروں کی تنظیموں سے آئی ایس پی آر کا اعلانِ لاتعلقی معنی سے خالی نہیں۔ صدر عارف علوی بھی بھنور میں گرفتار ہیں۔ فیصل جاوید نے شہباز گل کے بیان پر سینیٹ میں ایک دھواں دھار تقریر ارزاں کی تھی۔ اب اپنے لیڈر کی گل افشانی پر کیا کہیں گے جس کی کیفیت معروف افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کے تخلیق کردہ ایک کردار بھولو سے مشابہ ہے جس کا دماغی توازن بگڑ گیا تھا۔ ایک دن وہ اٹھا اور کوٹھے پرچڑھ کر سارے ٹاٹ اکھیڑنے شروع کردیے۔ لوگ کھٹ کھٹ پھٹ پھٹ سن کر جمع ہوگئے۔ انھوں نے اس کو روکنے کی کوشش کی تو وہ لڑنے لگا۔ بات بڑھ گئی۔ چنانچہ ایک شخص نے بانس اٹھا کر اس کے سر پر دے مارا۔ بھولو چکرا کر گرا اور بے ہوش ہو گیا۔ جب اسے ہوش آیا تو اس کا دماغ چل چکا تھا۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا کپتان کا بھی دماغ چل چکا ہے اور کیا کوئی ڈنڈا اس کے سر پر بھی لگنے والا ہے؟

Back to top button