کیا ٹرمپ کے کوٹ پر لگا لڑاکا جہاز پاکستانی جیت کا اعتراف تھا؟

فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف سے امریکی صدر ٹرمپ کی ملاقات کے بعد پاکستانی سوشل میڈیا صارفین یہ دعوی کر رہے ہیں کہ اس دوران ٹرمپ نے اپنے سینے پر جو چھوٹا لڑاکا طیارہ لگا رکھا تھا وہ دراصل بھارت کے خلاف پاکستانی جنگی جیت کا اعتراف تھا۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس میں شریک امریکی صدر نے مختلف ممالک کے سربراہان سے ملاقاتیں کیں۔
وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کو بھی امریکی صدر سے ملاقات کے لیے وائٹ ہاؤس مدعو کیا گیا۔ اس ملاقات میں کن امور پر بات چیت ہوئی، اس حوالے سے ابھی تک زیادہ معلومات تو سامنے نہیں آ سکی ہیں لیکن اس وقت پاکستانی سوشل میڈیا پر اس ملاقات کی تصاویر وائرل ہیں۔ ان تصاویر کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو صدر ٹرمپ کے کوٹ پر امریکہ کے جھنڈے کے ساتھ ساتھ ایک جنگی جہاز بھی دکھائی دیتا ہے۔ پاکستانی صارفین اسے انڈیا پاکستان کشیدگی کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس جہاز کے ذریعے ٹرمپ انڈیا کے خلاف پاکستان کی جیت کا ’اعتراف‘ کر رہے ہیں۔
کچھ سوشل میڈیا صارفین ایسے بھی ہیں جن کے خیال میں ٹرمپ نے پاکستانی قیادت سے ملاقات کے دوران یہ لڑاکا جہاز لگا کر انڈین وزیراعظم مودی کو کوئی پیغام دینے کی کوشش کی۔ انڈیا سے بھی کچھ صارفین یہ سوال کرتے نظر آئے کہ اس حرکت کا مطلب کیا ہے۔ ایک انڈین صارف نے شہباز شریف، عاصم منیر اور ڈونلڈ ٹرمپ کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’ٹرمپ نے جنگی جہاز اپنے سینے پر کیوں لگایا؟‘
یاد رہے کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان مئی میں ہونے والی چار روزہ جنگ کے بعد جولائی میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان جاری کیا تھا۔ امریکی صدر نے ایک تقریب کے دوران ’انڈیا پاکستان جنگ رُکوانے‘ کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ اس دوران ’پاکستان نے پانچ لڑاکا طیارے مار گرائے۔
عثمان حنیف نامی پاکستانی صارف نے ٹرمپ کی تصویر شیئر کرتے ہوئے انڈین وزیر اعظم کو ٹیگ کر کے لکھا کہ ’یہ بہت بڑا پیغام ہے۔‘ یاد رہے کہ صدر ٹرمپ اور مودی کے تعلقات میں خرابی حالیہ پاک بھر جنگ کے بعد آئی۔ جنگ بندی کروانے کے بعد صدر ٹرمپ باربار کھلے عام کہہ رہے تھے کہ پاکستان اور بھارت کے مابین فوجی تنازعہ میں نے حل کرایا ورنہ دنیا کو ایک نیوکلیئر جنگ کا سامنا کرنا پڑ جاتا جو تباہ کن ہوتی۔ پاکستان نے ٹرمپ کا یہ دعوی تسلیم کرتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا اور پھر انہیں امن کے نوبیل انعام کے لیے نامزد بھی کر دیا۔ لیکن دوسری جانب نریندر مودی نے جنگ بندی میں صدر ٹرمپ کا کردار سرے سے تسلیم کرنے سے ہی انکار کر دیا حالانکہ امریکی صدر تو ان کی جانب سے بھی نوبیل پرائز کے لیے نامزدگی کی امید لگائے بیٹھے تھے۔
نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ پاک بھارت جنگ بندی کے بعد 17 جون 2025 کو مودی کیساتھ ایک فون کال کے دوران ٹرمپ نے پھر سے یہ معاملہ اٹھایا اور بتایا کہ انہیں پاک بھارت جنگ بندی کروانے پر کتنا فخر ہے۔ انہوں نے اس بات کا تذکرہ بھی کیا کہ پاکستان انہیں نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کرنے جارہا ہے اور یہ وہ اعزاز ہے جس کے حصول کی وہ مسلسل کوشش کررہے تھے۔ نیو یارک ٹائمز کے مطابق جو لوگ اس فون کال کے بارے میں جانتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا کا مقصد یہ تھا کہ مودی بھی پاکستان کی طرح انہیں نوبیل کے کیے نامزد کریں۔
تاہم حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس موقع پر مودی کی تیوریاں چڑ ھ گئیں اور انہوں نے ٹرمپ کو بتایا کہ پاکستان اور بھارت کی جنگ بندی سے امریکا کا کوئی تعلق نہیں کیونکہ دونوں ممالک نے براہ راست جنگ بندی کا فیصلہ کیا تھا۔ یوں مودی نے نوبیل انعام کے حوالے سے کوئی بھی کردار ادا کرنے سے انکار کر دیا۔ اس انکار نے دراصل دونوں رہنمائوں کےمابین تعلقات کار کو تلخ بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
ترمپ نے مودی کو 35 منٹ کی اس فون کال میں فوری امریکہ آنے کی دعوت بھی دی۔ یہ کال تب کی گئی جب ٹرمپ کینیڈا میں گروپ آف 7 صنعتی ممالک کی کانفرنس سے نکلنے کے بعد ایئر فورس ون نامی جہاز پر ملک واپس جا رہے تھے۔ اس اجلاس میں مودی بھی شریک تھے۔ لیکن مودی نے ٹرمپ کی یہ دعوت مسترد کر دی۔ مودی اس بات پر برہم تھے کہ شاید ٹرمپ انہیں پاکستانی آرمی چیف کے ساتھ مصافحے پر مجبور کرنے کی کوشش کریں، جنہیں وائٹ ہاؤس میں دوپہر کے کھانے پر مدعو کیا گیا تھا۔
ایک سینئر بھارتی اہلکار کا کہنا ہے کہ بعد میں ٹرمپ نے مودی سے دوبارہ فون پر رابطے کی کوشش کی لیکن وہ آگے پیچھے ہو گئے۔ مودی کو خدشہ تھا کہ ٹرمپ فون پر ہونے والی بات کا بتنگڑ بنا کر اپنی مرضی کی بات سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دیں گے۔ ٹرمپ نے اس کے باوجود بھی مودی سے کئی بار رابطے کی کوشش کی، لیکن مودی نے انہیں کوئی جواب نہیں دیا۔
مودی اور صدر ٹرمپ کے تعلقات ایسے وقت میں خرابی کا شکار ہوئے جب بھارت اور امریکہ کے مابین تجارتی مذاکرات چل رہے تھے جو کہ انتہائی اہمیت کے حامل تھے۔ چنانچہ ٹرمپ نے غصے میں بھارت پر 50 تجارتی فیصد ٹیکس عائد کر دیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ بھارت اب امریکا کے دشمنوں یعنی چین اور روس کے قریب ہو رہا ہے۔
