بھارت سے سیلابی پانی میں اسلحہ بھی پاکستان پہنچنے لگا

پاکستان ایک بار پھر بھارتی آبی جارحیت کی زد میں ہے۔ انڈیا کی طرف سے دریاؤں میں چھوڑے گئے پانی سے نہ صرف پنجاب کے وسیع علاقے سیلاب کی لپیٹ میں آ چکے ہیں بلکہ اس پانی کے ساتھ حیران کن طور پر بھارت سے ہتھیار، برتن اور جانور بھی پاکستان کی حدود میں داخل ہو گئے ہیں۔ جس سے پتا چلتا ہے کہ بھارت کی آبی پالیسی صرف ایک تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ ایک منظم جارحیت ہے جس کے اثرات سیاسی، سماجی اور سلامتی کے ہر پہلو کو متاثر کر رہے ہیں۔
خیال رہے کہ بھارت کی جانب سے اچانک پانی چھوڑ دینا کوئی نئی بات نہیں، تاہم اس بار بھارت آبی جارحیت کے نتائج کہیں زیادہ سنگین ثابت ہوئے ۔ دریاؤں میں چھوڑے جانے والے پانی سے جہاں ایک طرف ہزاروں دیہات زیر آب آ گئے وہیں بے قابو پانی سےہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں بھی تباہ ہو گئیں تاہم سیلابی پانی کے ساتھ پاکستان میں داخل ہونے والے ہتھیاروں، برتنوں اور جانوروں نے اس حقیقت کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ سیلابی پانی میں ہتھیاروں کی موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پانی کے بہاؤ میں صرف قدرتی ملبہ شامل نہیں بلکہ ممکنہ طور پر اسلحے سمیت ایسی خطرناک اشیاء بھی شامل ہیں جنہیں بھارت کی جانب سے دانستہ طور پر یا غفلت کی صورت میں دریا کے رستے پاکستان کی طرف دھکیلا گیا ہے جبکہ سیلابی پانی کے ساتھ برتنوں اور جانوروں کی آمد سے معلوم ہوتا ہے کہ سیلابی پانی سے صرف پاکستان میں تباہی نہیں آئی بلکہ بھارتی سرحدی بستیاں بھی شدید متاثر ہوئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق بھارت سے آنے والے سیلابی پانی کے بعد نالہ ڈیک سے پانچ اینٹی ٹینک مائنز برآمد ہوئی ہیں۔ نالہ ڈیک سے برآمد ہونے والی پانچوں مائنز انڈین ساخت کی تھیں اور ظفروال کے مختلف مقامات سے ملیں۔ جنھیں بم ڈسپوزل سکواڈ نے ناکارہ بنایا۔ کچھ مائنز کی مقامی آبادی کےلوگوں کی نشاندہی کی جبکہ کچھ مائنز کو ریسکیو مشن پر مامور سرکاری اہلکاروں نے ڈھونڈا۔‘ سیکیورٹی اہلکاروں کے مطابق یہ پہلی بار نہیں ہوا کہ سیلاب میں بارودی سرنگیں پاکستان آئی ہوں۔ نالہ ڈیک سے پہلے بھی مائنز ملتی رہتی ہیں لیکن اس دفعہ سیلابی پانی میں پہلی بار ٹینک شکن مائنز پاکستان پہنچی ہیں جنھیں بروقت ناکارہ بنایا گیا ہے مائنز کے علاوہ، سیلابی پانی میں انڈیا سے مختلف گھریلو اشیا بھی آئیں۔ یہ اشیا سیلاب زدہ علاقوں سے بہہ کر پاکستان پہنچیں، جیسے پلاسٹک کی بوتلیں، برتن، فرنیچر کے ٹکڑے، کپڑے اور دیگر روزمرہ کی چیزیں مال مویشی بھی شامل ہیں جبکہ کچھ جنگلی جانور بھی سیلاب کے پانی کے ساتھ پاکستان آئے ہیں۔‘
اس سیلابی پانی میں گھریلو استعمال کی متعدد اشیا پانی میں تیرتی پاکستان آئی ہیں خاص طور پر پنجاب کے قصور اور بہاولنگر جیسے سرحدی علاقوں میں، سیلابی پانی سے بہت ساری انڈین پراڈکٹس ملی ہیں، جن میں پلاسٹک کی چیزیں، شیشے کے برتن اور حتیٰ کہ کچھ الیکٹرانک سامان کے ٹکڑے بھی شامل ہیں۔اسی طرح مال مویشی بھی سیلاب میں بہہ کر پاکستان آئے ہیں۔ اب تک کے سرکاری اعدادوشمار کے مطابق پنجاب میں چھ ہزار سے زائد مویشی ہلاک ہوئے ہیں، جن میں انڈیا سے بہہ کر پاکستان آنے والے جانور بھی شامل ہیں۔ سوشل میڈیا پر ایسی کئی ویڈیوز گردش کر رہی ہیں جن میں سیلاب کے پانی میں مویشیوں کو بہتے دیکھا جا سکتا ہے، ان مویشیوں میں گائے، بکریاں اور بھیڑیں وغیرہ شامل ہیں۔
نادرا کا حساس ڈیٹا ڈارک ویب پر فروخت ہونے کیلئے کیسے پہنچا؟
پنجاب کے سیلاب زدہ علاقوں میں فصلوں کی تباہی، املاک کا نقصان اور جانوروں کی اموات نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ مبصرین کے مطابق حکومت کو نہ صرف فوری ریلیف اور بحالی کا کام تیز کرنا ہوگا بلکہ بھارت کے خلاف عالمی سطح پر ایک مضبوط کیس بھی اٹھانا ہوگا تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ بھارت صرف پانی کا منبع نہیں بلکہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے والا آبی دہشتگرد ملک بن چکا ہے۔ بھارت کی آبی پالیسی نہ صرف خطے میں عدم استحکام پیدا کر رہی ہے بلکہ انسانی جانوں کو بھی خطرے میں ڈال رہی ہے۔
