فلاحی اسپتالوں پر سیلز ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کا فیصلہ

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت ہوا جس میں کمیٹی نے خیراتی اور فلاحی اسپتالوں پر سیلز ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کی حمایت کردی۔
اس حوالے سے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ ایک ٹرسٹی اسپتال نے 20 لاکھ کا بل ادا کرنے تک میت ورثاء کو نہیں دی، اگر حکومت ٹیکس چھوٹ دیتی رہی ہے تو ان اسپتالوں کا آڈٹ بھی کرے۔ سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ٹرسٹ اسپتالوں نے ڈاکٹرز بھی بٹھائے ہوئے ہیں جو بھاری فیس لیتے ہیں اور ٹرسٹ کے نام پر ان کی لیبارٹریز مہنگی فیس چارج کرتی ہیں۔ اس حوالے سے ایف بی آر حکام کا کہنا تھا کہ سرکاری اسپتال سیلز ٹیکس ادا کر رہے ہیں مگر بڑے بڑے پرائیویٹ اسپتال سیلز ٹیکس ادا نہیں کرتے۔ ایف بی آر نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ ملک کے بڑے اور مہنگے اسپتال ٹرسٹ پر قائم ہیں جن کےلیے اب ٹیکس چھوٹ ختم کی جارہی ہے۔
