پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کے مابین ڈیڈ لاک ختم کیوں نہیں ہو رہا؟

شہباز حکومت اس وقت مشکلات سے دوچار نظر آتی ہے جہاں ایک طرف تحریک انصاف نے مبینہ الیکشن دھاندلی کے بہانے ایک بار پھر انتشاری سیاست کو پروان چڑھانے اور ملک کو سیاسی عدم استحکام کا شکار کرنے کیلئے نئی حکمت عملی پر کام شروع کر دیا ہے وہیں دوسری جانب پیپلز پارٹی نے اپنے مطالبات سامنےلاتے ہوئے تحفظات کے ازالے کیلئے عملی اقدامات تک شہباز حکومت کا ساتھ دینے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ نون لیگ اور پیپلز پارٹی وفود کے مابین ہونے والے مذاکرات میں تاحال کوئی بڑا بریک تھرو نہیں ہو سکا۔ ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے درمیان کمیٹی کی سطح پر ہونے والے مذاکرات میں دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کے ساتھ گلوں شکوؤں کے انبار لگا دئیے۔
ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن نے عین بجٹ کے موقع پر تحفظات سامنے لانے پر شکوہ کیا کہ پی ڈی ایم حکومت کے دوران بھی آپ نے بجٹ کے موقع پر سیلاب فنڈ کو ایشو بنا لیا تھا۔ن لیگ کی جانب سے کہا گیا کہ بجٹ تیار کرتے وقت بنیادی نکات سے وزیر اعلیٰ سندھ اور سینئر رہنماؤں کو اعتماد میں لیا تھا، اس کے باوجود بجٹ پیش کیے جانے کے بعد احتجاج اور تحفظات مناسب نہیں تھے۔ذرائع کے مطابق ن لیگ کی جانب سے شکوہ کیا گیا کہ پنجاب اور وفاق میں آپ کابینہ میں شامل ہوتے نہیں، بارہا اس پر آپ کو مدعو کیا گیا، اہم آئینی عہدے بھی پیپلز پارٹی کو اس کی منشاء کے مطابق دیئے گئے۔
انسانی اسمگلنگ کا کیس، گواہوں کے صارم برنی پر سنگین نوعیت کے الزامات
ذرائع کے مطابق کمیٹیوں کے مذاکراتی عمل کے دوران ایک دوسرے کا موقف سنا گیا، کمیٹی اجلاس میں پیپلز پارٹی نے بھی اپنی بات دہرا دی کہ آپ ہمیں ایک طرف اتحادی سمجھتے ہیں مگر دوسری طرف آپ ہمیں اعتماد میں نہیں لیتے۔پیپلز پارٹی نے شکوہ کیا کہ پیپلز پارٹی نے وزیراعظم، سپیکر سمیت تمام اہم معاملات پر ن لیگ کا ساتھ دیا، ہم اب بھی ساتھ چلنے کیلئے تیار ہیں مگر پہلے ہمارے تحفظات دور ہونے چاہئیں۔ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن نے تمام تحفظات کو دور کرنے کی پھر یقین دہانی کرا دی، پیپلز پارٹی نے مشروط حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ تحفظات عملاً دور ہوئے تو مکمل ساتھ دیں گے۔
ذرائع کے مطابق بجٹ سازی اور دیگر امور پرپیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی کمیٹیوں کے جمعے کے روز ہونے والے 4 گھنٹے کے طویل اجلاس میں پیپلزپارٹی کے مطالبات و تحفظات کا شق وار جائزہ لیا گیا۔ دونوں جانب سے شکوے بھی کئے گئے تاہم مذاکرات میں مثبت پیش رفت سامنے آئی ہے اور پیپلز پارٹی کے ارکان قومی اسمبلی نے با ئیکاٹ ختم کرکےبجٹ بحث میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی اپنے مطالبات کو تسلیم کرانے کے لیے مسلم لیگ(ن) کے سامنے ڈٹ گئی اور امید ظاہر کی کہ جلد پیپلز پارٹی کے تحفظات دور کردئیے جائیں گے۔دوسری جانب مسلم لیگ(ن) کی مذاکراتی کمیٹی نے پیپلز پارٹی کو پنجاب سے متعلق صوبائی حکومت اور قائد نواز شریف سے بھی بات چیت کرنے کی یقین دہانی کرا دی ہے۔
واضح رہے کہ 20جون کے روز چئیرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے وزیر اعظم شہباز سے ملاقات کی تھی اور انہیں بجٹ منظور کرانے کی یقین دہانی کرا دی تھی۔بلاول نے سندھ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے مزید فنڈز مختص کرنے کے ساتھ ساتھ وفاق اور پنجاب کے بجٹ پر شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا۔پیپلزپارٹی نے جنوبی پنجاب میں انتظامی کنٹرول کا مطالبہ کیا تھا اور حکومت کو یاد دہانی کرائی تھی کہ انہوں نے پی ایس ڈی پی اور بجٹ کے حوالے سے وعدے پورے نہیں کیے۔وزیراعظم نے بلاول بھٹو کو تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا تھا کہ بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کیے جائیں گے اور پنجاب اور سندھ سے متعلق مطالبات بھی تسلیم کیے جائیں گے۔
