مذاکرات میں حکومت کی 2 بڑی شرائط، PTI کے مطالبات کیا ہیں؟

ملکی سیاست میں جاری کشیدگی کے درمیان حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات اب ایسے مرحلے میں داخل ہوگئے ہیں جہاں سیاسی بیانات سے زیادہ اہم فریقین کی عملی شرائط بن گئی ہیں۔ جمعہ کو ہونے والے مذاکرات میں حکومت نے واضح کیا کہ بات چیت کو آگے بڑھانے کے لیے دو بنیادی معاملات پر پیش رفت ضروری ہے: خیبر پختونخوا حکومت کا دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں میں وفاق اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون، اور تحریک انصاف کی جانب سے اسلام آباد کے مجوزہ مارچ کی منسوخی۔ ان نکات کے باعث مذاکرات محض سیاسی معاملات تک محدود نہیں رہے بلکہ صوبائی حکومت کے کردار، امن و امان اور احتجاج کے آئینی و سیاسی طریقہ کار کا سوال بھی مرکزی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومتی فریق نے خیبر پختونخوا کی سکیورٹی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ صوبائی حکومت کو دہشتگردی کے خلاف وفاقی حکومت، سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مکمل اور واضح تعاون کرنا چاہیے۔ حکومت کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ دہشتگردی جیسے حساس معاملے پر سیاسی بیانیے میں ابہام نہیں ہونا چاہیے۔ یہ حکومت کا مؤقف ہے؛ دوسری طرف اپوزیشن نے مذاکرات میں دہشتگردی کے معاملے کو سیاسی معاملات سے الگ رکھنے پر زور دیا اور خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال کو محض صوبائی حکومت کی کارکردگی سے جوڑنے پر اعتراض کیا۔
مذاکرات کا دوسرا اور فوری مسئلہ تحریک انصاف کا 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب مجوزہ مارچ ہے۔ حکومتی نمائندوں نے واضح کیا کہ سڑکوں کی بندش یا مارچ کی صورت میں مذاکراتی عمل میں بامعنی پیش رفت مشکل ہوگی اور تحریک انصاف کو مارچ منسوخ کرنا ہوگا۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کی قیادت نے جمعہ کے مذاکرات کے دوران اپنے مطالبات پیش کیے جن میں عمران خان سے ملاقات، ان کے طبی علاج سے متعلق معاملات، پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف مقدمات اور گرفتاریوں کے معاملات شامل ہیں۔ پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ متعدد مقدمات سیاسی بنیادوں پر قائم کیے گئے ہیں، جبکہ حکومت ان معاملات کو الگ قانونی و سیاسی تناظر میں دیکھتی ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں مذاکرات کا سب سے بڑا امتحان سامنے آتا ہے۔ ایک طرف حکومت مارچ کی منسوخی کو مذاکرات میں آگے بڑھنے کی بنیادی شرط قرار دے رہی ہے، جبکہ تحریک انصاف کی جانب سے ابھی تک مارچ ختم کرنے پر اتفاق سامنے نہیں آیا۔ اس سے ایک روز قبل بیرسٹر گوہر نے بھی کہا تھا کہ لانگ مارچ جاری رہے گا اور مذاکرات اس کے ساتھ ساتھ ہوں گے۔ یوں دونوں فریق مذاکرات کی میز پر تو بیٹھ گئے ہیں، لیکن احتجاج کے معاملے پر بنیادی فاصلے برقرار ہیں۔
خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا کردار بھی اس مرحلے پر اہم ہوگیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق حکومتی وفد نے خواہش ظاہر کی کہ انہیں براہ راست مذاکراتی عمل میں شامل کیا جائے تاکہ مارچ کے معاملے پر ان سے بات ہوسکے۔ پی ٹی آئی وفد نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ پہلے ہی وزیراعلیٰ سے ملاقات کرچکا ہے اور سہیل آفریدی نے مذاکراتی کمیٹی کو فیصلہ کرنے کا اختیار دے دیا ہے۔ اب پی ٹی آئی وفد کے پشاور جانے اور وزیراعلیٰ سے دوبارہ مشاورت کا امکان ہے۔
مذاکرات کی موجودہ صورتحال کو اس پس منظر میں بھی دیکھنا ہوگا کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان غیر رسمی رابطے پہلے ہی جاری تھے۔ وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے یکم اکتوبر کو حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان آف دی ریکارڈ بات چیت کی تصدیق کی تھی۔ اس کے بعد دونوں فریق پہلی مرتبہ تقریباً 3 سال بعد باقاعدہ مذاکرات کی میز پر آئے، جہاں انہوں نے ایک دوسرے کے مطالبات اور تحفظات براہ راست سنے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات ایسے وقت میں شروع ہوئے جب خیبر پختونخوا کی صورتحال کے حوالے سے وفاقی سطح پر ہنگامی اقدامات اور گورنر راج جیسے آپشنز پر بھی بحث کی اطلاعات سامنے آ رہی تھیں۔ تاہم حکومت نے فوری طور پر ایسا قدم اٹھانے کے بجائے مذاکرات کو موقع دینے کا فیصلہ کیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت سیاسی مذاکرات کو ایک ممکنہ راستے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، اگرچہ دونوں فریقوں کے درمیان بنیادی اختلافات اب بھی موجود ہیں۔
دوسری طرف 4 اکتوبر کے احتجاج کی تیاریوں نے معاملے کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ اسلام آباد اور اس کے اطراف میں ممکنہ احتجاج کے پیش نظر انتظامی اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ سڑکوں پر رکاوٹوں اور کنٹینرز کی موجودگی نے عام آمدورفت اور کاروباری سرگرمیوں پر بھی اثرات پیدا کیے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق احتجاج کی تیاریوں کے دوران مال بردار گاڑیوں اور رسد کے نظام میں بھی خلل پڑا ہے۔
اب مذاکرات کے سامنے بنیادی سوال یہ نہیں کہ حکومت اور پی ٹی آئی ایک دوسرے سے بات کریں گے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا دونوں فریق اپنی فوری شرائط میں لچک پیدا کرنے پر آمادہ ہوتے ہیں۔ حکومت مارچ ختم کرنے اور خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے انسداد دہشتگردی کے اقدامات میں واضح تعاون چاہتی ہے، جبکہ پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات، طبی معاملات، مقدمات اور گرفتاریوں سمیت اپنے دیرینہ مطالبات پر پیش رفت چاہتی ہے۔
یوں مذاکرات کا اگلا مرحلہ فیصلہ کن اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ اگر تحریک انصاف مارچ کے معاملے پر کوئی قابل قبول راستہ نکالتی ہے اور خیبر پختونخوا حکومت کے کردار پر حکومت کے تحفظات دور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو بات چیت آگے بڑھ سکتی ہے۔ تاہم اگر مارچ برقرار رہتا ہے اور فریقین اپنی موجودہ شرائط پر قائم رہتے ہیں تو مذاکرات دوبارہ تعطل کا شکار ہونے کا امکان موجود رہے گا۔ ہفتے کو ہونے والا اگلا مذاکراتی دور اور اس کے بعد تحریک انصاف اور خیبر پختونخوا حکومت کی مشاورت اس سیاسی بحران کی سمت متعین کرنے میں اہم ثابت ہوگی۔
