فیس سیونگ ملے گی یا نہیں؟ PTI کیلئے مذاکرات میں اصل امتحان کیا؟

پاکستان تحریک انصاف اور وفاقی حکومت کے درمیان جاری مذاکرات نے سیاسی بحران کو ایک نئے مرحلے میں داخل کردیا ہے۔ ایک طرف حکومت 4 اکتوبر کے مجوزہ لانگ مارچ کی منسوخی کو مذاکرات میں پیش رفت کے لیے بنیادی شرط قرار دے رہی ہے، جبکہ دوسری جانب پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات، ان کے علاج کے لیے سہولت، وکلا اور اہل خانہ تک رسائی، مقدمات اور گرفتاریوں سمیت اپنے مطالبات پر عملی پیش رفت چاہتی ہے۔ یوں مذاکرات کی میز پر اصل سوال اب صرف مارچ کا نہیں رہا بلکہ یہ بن چکا ہے کہ اس سیاسی تعطل سے نکلنے کے لیے دونوں فریق کس حد تک لچک دکھانے پر آمادہ ہوتے ہیں۔

سینئر تجزیہ کار نجم سیٹھی نے اپنے پروگرام میں یہ مؤقف پیش کیا کہ مسئلہ صرف پی ٹی آئی کا لانگ مارچ نہیں بلکہ خیبر پختونخوا حکومت اور وفاق کے درمیان دہشتگردی کے خلاف حکمت عملی پر تعاون بھی ایک بنیادی معاملہ ہے۔ ان کے مطابق طویل المدت مسئلے کے حل کے لیے وفاق اور صوبے کے درمیان تعاون ضروری ہے، جبکہ لانگ مارچ کو ایک نسبتاً فوری سیاسی مسئلہ سمجھا جا رہا ہے۔ یہ نجم سیٹھی کا تجزیاتی مؤقف ہے، جسے حکومت اور پی ٹی آئی کے اپنے مؤقف سے الگ دیکھنا ضروری ہے۔

دستیاب اطلاعات سے یہ ضرور واضح ہے کہ خیبر پختونخوا کی سکیورٹی صورتحال مذاکرات کا اہم حصہ بن چکی ہے۔ وفاقی حکومت پہلے ہی صوبائی حکومت سے دہشتگردی کے خلاف اقدامات میں زیادہ تعاون کا مطالبہ کرچکی ہے، جبکہ پیپلز پارٹی کی قیادت نے بھی خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر تشویش ظاہر کی ہے۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ سیاسی اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے اور اس کے مجوزہ احتجاج کو اسی سیاسی تناظر میں دیکھا جائے۔

مذاکرات کی سب سے بڑی عملی رکاوٹ لانگ مارچ ہے۔ حکومت کا مطالبہ ہے کہ 4 اکتوبر کا احتجاج منسوخ کیا جائے، جبکہ پی ٹی آئی نے پہلے مرحلے میں مارچ کو مذاکرات کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجا ناصر عباس نے بھی کہا کہ جب تک کوئی حل سامنے نہیں آتا، مارچ کا اعلان برقرار رہے گا۔ یوں حکومت کے لیے احتجاج کی منسوخی مذاکرات کی کامیابی کی علامت ہے، جبکہ پی ٹی آئی کے لیے مذاکرات سے حاصل ہونے والی پیش رفت مارچ کے مستقبل کے فیصلے میں اہم عنصر بن رہی ہے۔

یہاں ’’فیس سیونگ‘‘ کا معاملہ بھی اہم ہوجاتا ہے۔ اگر پی ٹی آئی مارچ واپس لیتی ہے تو اسے اپنی قیادت اور کارکنوں کے سامنے یہ وضاحت کرنا ہوگی کہ مذاکرات سے اسے کیا عملی پیش رفت حاصل ہوئی۔ اسی طرح اگر حکومت کوئی رعایت دیتی ہے تو اسے اپنے اتحادیوں اور عوام کے سامنے یہ مؤقف برقرار رکھنا ہوگا کہ احتجاج کے دباؤ میں نہیں بلکہ سیاسی عمل کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کیا گیا۔ یہی توازن مذاکرات کو مشکل بناتا ہے۔

عمران خان سے ملاقات اور ان کے علاج کا معاملہ اس حوالے سے نسبتاً نمایاں مطالبات میں شامل ہے۔ پی ٹی آئی مذاکرات میں عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے اور ان سے ملاقات کی اجازت کا مطالبہ کر رہی ہے۔ دوسری طرف دستیاب رپورٹوں کے مطابق حکومت نے مارچ کی منسوخی کو بنیادی شرط کے طور پر سامنے رکھا ہے۔

خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی بھی اس سیاسی تنازع کے اہم فریق بن چکے ہیں۔ انہوں نے پہلے مارچ کی تاریخ 4 اکتوبر مقرر کیے جانے کے بعد مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی، تاہم پی ٹی آئی کی جانب سے مارچ جاری رکھنے کا اعلان بھی سامنے آتا رہا۔

دوسری جانب وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ہنگامی اقدامات جیسے آئینی راستوں پر غور کی اطلاعات کی تردید نہیں کی، تاہم 2 اکتوبر کو حکومتی اتحاد نے پہلے مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کا موقع دینے کا فیصلہ کیا۔ صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور حکومتی و اتحادی رہنماؤں کی مشاورت کے بعد اپوزیشن سے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا گیا۔

اس صورتحال میں پی ٹی آئی کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ احتجاجی سیاست، خیبر پختونخوا حکومت کے کردار اور مذاکراتی عمل کے درمیان کس طرح توازن پیدا کرتی ہے۔ دوسری طرف حکومت کے لیے چیلنج یہ ہے کہ وہ احتجاج روکنے کے ساتھ سیاسی مذاکرات کو بھی قابل اعتماد بنائے۔ دونوں فریق اگر صرف اپنی اپنی شرائط پر قائم رہتے ہیں تو مذاکرات کی گنجائش محدود ہوسکتی ہے، جبکہ کسی قابل عمل درمیانی راستے کی تلاش سیاسی کشیدگی کم کرنے کا ایک ممکنہ راستہ بن سکتی ہے۔

اس وقت یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ پی ٹی آئی کو مذاکرات میں مطلوبہ ’’فیس سیونگ‘‘ ملے گی یا نہیں۔ تاہم یہ واضح ہے کہ حکومت اور پی ٹی آئی پہلی مرتبہ تقریباً 3 سال بعد باقاعدہ مذاکرات کی میز پر آچکے ہیں اور دوسرا دور بھی طے ہوچکا ہے۔ اب مذاکرات کی اصل آزمائش یہ ہے کہ کیا دونوں فریق لانگ مارچ، خیبر پختونخوا کی سکیورٹی پالیسی اور عمران خان سے متعلق مطالبات پر ایسی عملی پیش رفت کر سکتے ہیں جس سے احتجاج اور سیاسی تصادم کے بجائے مذاکرات کا راستہ برقرار رہے۔

Back to top button