سیالکوٹ ائیرپورٹ پر 9سال سے کھڑے ’پراسرار‘ طیارے کا اصل مالک کون؟

سیالکوٹ ائیرپورٹ پر گزشتہ 9سال سے کھڑے پراسرار طیارے بارے سامنے آنے والی خبروں نے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچا رکھا ہے تاہم سیالکوٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر گزشتہ 9 برس سے کھڑا ایک بوئنگ 767 طیارہ اپنی کہانی میں جتنا پراسرار دکھائی دیتا ہے، حقیقت میں اس کے پیچھے اتنا ہی پیچیدہ قانونی اور تجارتی معاملہ موجود ہے۔ 29 اگست 2017 کو سیالکوٹ ایئرپورٹ پر اترنے والا یہ مسافر طیارہ اس کے بعد دوبارہ پرواز نہ کر سکا۔ دو کمپنیوں کے درمیان پیدا ہونے والا تنازع عدالت تک پہنچا، پارکنگ فیس کی ادائیگی رک گئی اور طیارہ رفتہ رفتہ ایک ایسے اثاثے میں تبدیل ہوگیا جس کا کوئی دعویدار سامنے نہ آیا۔ اب مئی 2026 میں جاری ہونے والے نیلامی کے اشتہار نے اس طیارے کی کہانی کو ایک نیا رخ دے دیا ہے، جس میں اس کی ابتدائی قیمت 4 لاکھ امریکی ڈالر مقرر کی گئی ہے۔
سیالکوٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ترجمان عمیر خان کے مطابق یہ طیارہ فلائی جیٹ ایشیا اور پاکستان کی ایک نجی کمپنی کے درمیان معاہدے کے تحت لاہور اور سیالکوٹ کے لیے پروازیں کرتا تھا۔ تاہم 29 اگست 2017 کو اس کی آخری آمد کے بعد دونوں کمپنیوں کے درمیان تنازع پیدا ہوگیا۔ معاملہ عدالت تک پہنچا لیکن اس دوران ایئرپورٹ کی پارکنگ فیس ادا نہیں کی گئی اور طیارہ وہیں کھڑا رہ گیا۔ ایئرپورٹ انتظامیہ نے واجبات کی وصولی اور طیارے کے مستقبل کے تعین کے لیے عدالت سے رجوع کیا۔
ایئرپورٹ انتظامیہ کے مطابق عدالتی کارروائی کے نتیجے میں فیصلہ اس کے حق میں آیا اور طیارے کو ایئرپورٹ کی ملکیت قرار دیا گیا۔ انتظامیہ نے طیارے سے متعلق کمپنی سے رابطے کی کوشش بھی کی، تاہم اسے بتایا گیا کہ متعلقہ کمپنی دیوالیہ ہوچکی ہے۔ یوں طیارے کی واپسی، منتقلی یا ملکیت کا معاملہ مزید پیچیدہ ہوتا چلا گیا۔ مئی 2026 کے نیلامی اشتہار میں بھی 5 مئی 2026 کے عدالتی حکم کا حوالہ دیا گیا ہے، جس کے بعد طیارے کی نیلامی کا عمل آگے بڑھایا گیا۔
اس بوئنگ 767 کی تاریخ بھی خاصی دلچسپ ہے۔ دستیاب ہوا بازی کے ریکارڈ کے مطابق یہ طیارہ اپریل 1991 میں برٹش ایئرویز کے بیڑے میں شامل ہوا اور اسے ’سٹی آف لکسمبرگ‘ کا نام دیا گیا۔ بعد میں ستمبر 2000 میں اسے آسٹریلیا کی فضائی کمپنی قنطاس کو لیز پر دیا گیا، جہاں اس نے مختلف بین الاقوامی روٹس پر خدمات انجام دیں۔ مئی 2013 میں قنطاس کی سروس سے نکلنے کے بعد یہ امریکی کمپنی جیٹ مڈویسٹ گروپ کے نام پر رجسٹر ہوا اور اسی سال کے آخر میں تھائی لینڈ پہنچ گیا، جہاں جنوری 2014 میں جیٹ ایشیا ایئرویز کے لیے اس کی تجارتی پروازیں شروع ہوئیں۔
اس طیارے کا پاکستان سے تعلق بھی 2017 سے بہت پہلے قائم ہوچکا تھا۔ ریکارڈ کے مطابق ستمبر 2015 میں یہ اقوام متحدہ کے چارٹر مشنز کے لیے بنکاک سے روانہ ہوا، نومبر 2015 میں پاکستان میں موجود تھا اور سیالکوٹ ایئرپورٹ پر ہنگامی انخلا کی مشق میں بھی استعمال ہوا۔ بعد میں اس نے پاکستان، جدہ اور افریقہ کے درمیان پروازیں کیں۔ اس کی آخری ریکارڈ شدہ پرواز 30 جون 2017 کو لاہور کے لیے ہوئی، جبکہ تقریباً دو ماہ بعد 29 اگست کو یہ سیالکوٹ ایئرپورٹ پر پہنچا اور پھر دوبارہ فضا میں نہ جا سکا۔
نیلامی کے اشتہار کے مطابق یہ بوئنگ 767-300 ای آر ماڈل کا طیارہ ہے، جو 1991 میں تیار کیا گیا تھا۔ اس کا رجسٹریشن نمبر ایچ ایس جے اے ایس اور بنانے والی کمپنی کا سیریل نمبر 25203 درج ہے۔ طیارے کے مجموعی پرواز کے اوقات 54500 اور پروازوں کے چکروں کی تعداد 32651 بتائی گئی ہے۔ اس میں دو رولز رائس انجن بھی موجود ہیں جبکہ نشستیں اور لینڈنگ گیئر بھی اپنی جگہ موجود ہیں۔
تاہم 9 برس تک زمین پر کھڑے رہنے کے بعد اس طیارے کو فوری طور پر دوبارہ مسافر پرواز کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایئرپورٹ انتظامیہ کے مطابق طیارے کے پاس اس وقت فضائی اہلیت کا مؤثر سرٹیفکیٹ نہیں ہے اور اسے دوبارہ قابل پرواز بنانے کے لیے بھاری اخراجات اور مکمل تکنیکی جانچ درکار ہوگی۔ ایک تجارتی فہرست میں بھی اسے ناقابل پرواز اور فضائی اہلیت سے محروم قرار دیا گیا ہے۔ اس لیے نیلامی میں دلچسپی رکھنے والے خریدار کے لیے یہ فیصلہ اہم ہوگا کہ وہ اسے دوبارہ اڑانے کے لیے بحال کرنا چاہتا ہے یا اس کے انجن، لینڈنگ گیئر اور دیگر قابل استعمال حصوں کو الگ الگ استعمال کرنا چاہتا ہے۔
سوشل میڈیا پر اس طیارے کی تصاویر سامنے آنے کے بعد اسے ’پراسرار جہاز‘ کا نام دیا گیا، تاہم سیالکوٹ ایئرپورٹ انتظامیہ اس تاثر کو درست نہیں سمجھتی۔ ترجمان کے مطابق یہ ایک عام تجارتی طیارہ ہے جس کی سیالکوٹ آمد، سابقہ آپریٹرز اور طویل عرصے تک ایئرپورٹ پر موجودگی کے بارے میں ریکارڈ دستیاب ہے۔ اصل پراسراریت اس کی شناخت سے زیادہ اس حقیقت میں ہے کہ ایک مکمل کمرشل طیارہ کس طرح ایک قانونی اور مالی تنازع کے باعث 9 برس تک ایئرپورٹ پر کھڑا رہا اور بالآخر اس کی ملکیت اور مستقبل کا فیصلہ نیلامی کے ذریعے کرنے کی نوبت آگئی۔
چار لاکھ امریکی ڈالر کی ابتدائی قیمت کے ساتھ یہ طیارہ اب محض ایک پرانا ہوائی جہاز نہیں بلکہ ایک ایسے اثاثے کی مثال بن چکا ہے جس کی مالیت کا تعین اس کی موجودہ حالت، تکنیکی بحالی کے اخراجات، انجنوں اور دیگر پرزوں کی قدر اور قانونی حیثیت کو دیکھ کر ہی ممکن ہوگا۔ سیالکوٹ ایئرپورٹ پر برسوں سے خاموش کھڑا یہ بوئنگ 767 اب بھی ایک سوال اپنے ساتھ لیے ہوئے ہے: کیا کوئی خریدار اسے دوبارہ آسمان تک لے جائے گا یا اس کی آخری منزل اس کے قیمتی پرزوں کی فروخت ہی بنے گی؟
