خیبر پختونخوا یا بلوچستان، پہلے گورنر راج کہاں لگے گا؟

خیبرپختونخوا میں ممکنہ گورنر راج کی بحث اب محض ایک صوبے کی سیاسی صورت حال تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے پاکستان کے دو انتہائی حساس صوبوں، خیبرپختونخوا اور بلوچستان، میں بدامنی اور شدت پسندی کے تقابلی جائزے کو بھی مرکزِ بحث بنا دیا ہے۔ وفاقی حکومت خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال اور مجوزہ لانگ مارچ کو گورنر راج کے ممکنہ آئینی راستے کے تناظر میں دیکھ رہی ہے، جبکہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر سکیورٹی حالات آئینی مداخلت کی بنیاد بن سکتے ہیں تو بلوچستان کی صورتحال کو کس پیمانے پر پرکھا جائے گا۔

یہ بحث اس وقت زیادہ نمایاں ہوئی جب وفاقی حکومت کے بعض رہنماؤں کی جانب سے خیبرپختونخوا میں گورنر راج کو ایک ممکنہ آئینی آپشن قرار دیا گیا۔ دوسری جانب خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے بھی صوبے کی موجودہ سکیورٹی صورت حال کے تناظر میں 4 اکتوبر کے مجوزہ لانگ مارچ پر تحفظات کا اظہار کیا۔ پی ٹی آئی رہنماؤں نے جواباً بلوچستان کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ وہاں بھی شدت پسند حملوں اور جانی نقصان کا سلسلہ جاری ہے۔

یہاں اصل اہمیت سکیورٹی اعدادوشمار کی ہے، کیونکہ مختلف اداروں کے ڈیٹا سے تصویر کا ایک ہی رخ سامنے نہیں آتا۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کے مطابق جولائی 2026 میں بلوچستان میں 83 شدت پسند حملے ہوئے جن میں 162 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ اگست میں 89 حملوں میں 76 اموات ہوئیں۔ یوں صرف ان دو ماہ میں بلوچستان میں 172 شدت پسند حملے اور 238 اموات ریکارڈ ہوئیں۔

خیبرپختونخوا میں جولائی کے دوران 36 شدت پسند حملے اور 69 اموات ریکارڈ ہوئیں، جبکہ اگست میں حملوں کی تعداد بڑھ کر 54 ہوگئی تاہم اموات کم ہو کر 44 رہیں۔ سابق قبائلی اضلاع کو الگ شمار کیا جائے تو وہاں جولائی میں 23 اور اگست میں 52 حملے ریکارڈ ہوئے۔ اس طرح خیبرپختونخوا اور سابق قبائلی اضلاع کو ملا کر جولائی اور اگست کے دوران 165 حملے اور 183 اموات ہوئیں۔

لیکن صرف اگست کو دیکھا جائے تو منظر قدرے مختلف ہوجاتا ہے۔ خیبرپختونخوا اور سابق قبائلی اضلاع میں مجموعی طور پر 106 شدت پسند حملے ریکارڈ ہوئے جبکہ بلوچستان میں یہ تعداد 89 رہی۔ تاہم اموات کے اعتبار سے بلوچستان میں 76 اور خیبرپختونخوا و سابق قبائلی اضلاع میں مجموعی طور پر 78 اموات ہوئیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ کسی ایک مہینے، صرف حملوں کی تعداد یا صرف ہلاکتوں کو بنیاد بنا کر دونوں صوبوں کی سکیورٹی صورتحال کا مکمل موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔

پی آئی سی ایس ایس کے اعدادوشمار کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اگست میں بلوچستان ملک میں شدت پسند حملوں کا سب سے بڑا مرکز رہا، جہاں 89 حملے ہوئے، جبکہ خیبرپختونخوا میں 54 حملے ریکارڈ کیے گئے۔ دوسری طرف خیبرپختونخوا میں جولائی سے اگست کے دوران حملوں میں 50 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ بلوچستان میں اضافہ 7 فیصد تھا۔ یعنی بلوچستان میں مجموعی شدت زیادہ رہی، جبکہ خیبرپختونخوا میں حملوں کی رفتار میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔

اعدادوشمار کے مختلف نتائج کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ سکیورٹی ادارے اور تحقیقی تنظیمیں مختلف پیمانے استعمال کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر شدت پسند حملوں کا ڈیٹا اور مجموعی پرتشدد واقعات کا ڈیٹا ایک جیسا نہیں ہوتا۔ کسی رپورٹ میں صرف شدت پسندوں کے حملوں اور ان کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کو شمار کیا جاتا ہے، جبکہ دوسری رپورٹ میں ریاستی انسداد دہشت گردی کارروائیوں کے دوران ہونے والی اموات اور مارے جانے والے شدت پسندوں کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔ اسی لیے مختلف اداروں کے اعدادوشمار کو براہ راست ایک دوسرے کے مقابل رکھنا احتیاط کا تقاضا کرتا ہے۔

اس صورتحال میں گورنر راج کی بحث کا سب سے اہم قانونی پہلو سامنے آتا ہے۔ سکیورٹی واقعات، حملوں یا ہلاکتوں کی کوئی مخصوص تعداد آئین میں ایسی مقرر نہیں کی گئی جس کے مکمل ہوتے ہی گورنر راج خودکار طور پر نافذ ہوجائے۔ آئین کا آرٹیکل 234 اس صورت حال سے متعلق ہے جب صدر مملکت، صوبائی گورنر کی رپورٹ کی بنیاد پر، اس نتیجے پر پہنچیں کہ صوبائی حکومت آئین کے مطابق نہیں چلائی جا سکتی۔ لہٰذا محض یہ ثابت ہونا کہ ایک صوبے میں دوسرے کے مقابلے میں زیادہ حملے ہوئے ہیں، بذات خود گورنر راج کے آئینی جواز کا مکمل تعین نہیں کرتا۔

یہی وجہ ہے کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کا موازنہ سیاسی بحث میں تو اہم ہوسکتا ہے، لیکن آئینی فیصلے کے لیے سوال اس سے زیادہ وسیع ہے۔ اصل معاملہ یہ ہوگا کہ کسی صوبے میں حکومت کی آئینی اور انتظامی عمل داری کس حد تک برقرار ہے، امن و امان کی ذمہ داریاں کس انداز میں ادا کی جا رہی ہیں، وفاق اور صوبے کے درمیان تعاون کی نوعیت کیا ہے اور آیا صوبائی حکومت آئین کے مطابق مؤثر طور پر کام کر رہی ہے یا نہیں۔

دوسری طرف بلوچستان کا حوالہ بھی اس بحث کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ دستیاب پی آئی سی ایس ایس اعدادوشمار میں بلوچستان نے جولائی اور اگست دونوں میں مجموعی شدت پسند حملوں اور ہلاکتوں کے اعتبار سے بھاری اعداد ریکارڈ کیے، جبکہ خیبرپختونخوا اور سابق قبائلی اضلاع میں اگست کے دوران حملوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ سامنے آیا۔ اس لیے دونوں صوبوں کے سکیورٹی مسائل کی نوعیت، شدت اور جغرافیائی پھیلاؤ کو الگ الگ سمجھنا ضروری ہے۔

یوں موجودہ تنازع میں بنیادی سوال صرف یہ نہیں کہ خیبرپختونخوا یا بلوچستان میں کس صوبے میں زیادہ حملے ہوئے۔ زیادہ بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا سکیورٹی کی خراب صورتحال کو کسی صوبائی حکومت کے خلاف آئینی اقدام سے جوڑنے کے لیے ایک یکساں اور واضح معیار موجود ہے؟ اگر ایسا معیار اختیار کیا جاتا ہے تو اسے تمام صوبوں پر یکساں طور پر لاگو کرنے کا سوال بھی اہم ہوجاتا ہے۔

موجودہ اعدادوشمار یہ ضرور ظاہر کرتے ہیں کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان دونوں پاکستان کی شدت پسندی سے سب سے زیادہ متاثرہ خطوں میں شامل ہیں، لیکن ان کی صورتحال ایک جیسی نہیں۔ بلوچستان میں بعض ادوار میں حملوں اور ہلاکتوں کی مجموعی تعداد زیادہ رہی، جبکہ خیبرپختونخوا اور سابق قبائلی اضلاع میں بھی حملوں کی تعداد اور ان کی جغرافیائی وسعت تشویش کا باعث رہی ہے۔ چنانچہ گورنر راج کی بحث کو صرف سکیورٹی اعدادوشمار کی دوڑ بنانے کے بجائے آئینی معیار، صوبائی حکمرانی، وفاقی و صوبائی تعاون اور سیاسی حالات کے مجموعی تناظر میں دیکھنا زیادہ مناسب ہوگا۔

Back to top button