لانگ مارچ سے پہلے افغان مہاجرین کیخلاف گرینڈ کریک ڈاؤن کیوں؟

وفاقی حکومت نے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ میں افغان باشندوں کی شرکت کو روکنے کیلئے سخت کارروائی کرنے کا فیصلہ کر لیا۔خیبرپختونخوا پہلے ہی دہشت گردی، سیاسی کشیدگی اور معاشی مشکلات کے کئی محاذوں پر دباؤ کا شکار ہے اور ایسے میں تحریک انصاف کے لانگ مارچ سے قبل افغان مہاجرین کے خلاف مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر کارروائی نے ایک نیا سوال کھڑا کر دیا ہے۔ پشاور سمیت صوبے کے مختلف اضلاع میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کے خلاف سرچ آپریشن اور گرفتاریوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ کارروائی کا ایک مقصد ایسے افراد کی ممکنہ شرکت روکنا بھی ہے جن کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ وہ پی ٹی آئی کے 4 اکتوبر کے لانگ مارچ میں شامل ہو سکتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق پشاور کے مختلف تجارتی علاقوں میں کارروائیوں کے دوران 500 سے زائد افغان شہریوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ چارسدہ، نوشہرہ، صوابی، ایبٹ آباد اور سوات سمیت دیگر اضلاع میں بھی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کیا گیا ہے۔ خیبر بازار، نمک منڈی، اسپتال روڈ، سبزی منڈی، پلاسٹک مارکیٹ، آٹا مارکیٹ، چائے مارکیٹ، کارخانو مارکیٹ اور حیات آباد کے بعض تجارتی مراکز میں چھاپوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ تاہم ان گرفتاریوں کی حتمی تعداد اور قانونی حیثیت کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کارروائی کی منظوری وفاقی حکومت کی جانب سے دی گئی اور اس کا دائرہ صرف غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں تک محدود نہیں بلکہ مبینہ طور پر جعلی پاکستانی شناختی کارڈ بنانے یا حاصل کرنے والے افراد اور ایسے سہولت کاروں تک بھی بڑھایا جا رہا ہے جو غیر قانونی دستاویزات کے حصول میں مدد کرتے ہیں۔ پاکستان میں غیر دستاویزی افغان شہریوں کے خلاف قانونی کارروائیاں پہلے بھی ہوتی رہی ہیں، جبکہ عدالتیں مختلف مقدمات میں دستاویزات اور قانونی حیثیت کی بنیاد پر گرفتار افراد کے معاملات کا جائزہ لیتی رہی ہیں۔

اس پوری صورتحال کا سیاسی پہلو اس لیے اہم ہے کہ پی ٹی آئی نے 4 اکتوبر کو پشاور سے اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے پارٹی اجلاس میں مارچ کی تیاری جاری رکھنے کی ہدایت دی تھی، جبکہ پارٹی کے اندر بعض رہنماؤں کی جانب سے موجودہ حالات میں مذاکرات اور سیاسی راستہ اختیار کرنے کی تجاویز بھی سامنے آئی ہیں۔

افغان شہریوں کی جانب سے لانگ مارچ میں شرکت کے حوالے سے جو دعوے سامنے آئے ہیں، ان میں یہ مؤقف بھی شامل ہے کہ بعض غیر رجسٹرڈ افراد نے احتجاج میں شرکت کی تیاری کر رکھی ہے۔ تاہم محض غیر دستاویزی حیثیت یا افغان شہریت کو کسی سیاسی احتجاج میں شرکت یا بدامنی سے جوڑنے کے لیے الگ اور قابل اعتماد شواہد درکار ہوں گے۔ اسی طرح یہ دعویٰ کہ ممکنہ طور پر افغان شہری احتجاج کے دوران بدامنی پیدا کریں گے، فی الحال ایک سکیورٹی خدشے کے طور پر بیان کیا جا سکتا ہے، ثابت شدہ واقعے کے طور پر نہیں۔

یہ فرق اس لیے اہم ہے کہ ایک طرف ریاست کو غیر قانونی قیام، جعلی شناختی دستاویزات اور کسی بھی ممکنہ مجرمانہ سرگرمی کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کا اختیار حاصل ہے، لیکن دوسری طرف کسی مخصوص قومیت سے تعلق رکھنے والے تمام افراد کو ایک ہی الزام یا سیاسی سرگرمی کے ساتھ جوڑنا قانونی اور انسانی حقوق کے حوالے سے الگ سوال پیدا کرتا ہے۔ اس لیے کارروائی کی شفافیت، قانونی بنیاد اور ہر گرفتار شخص کے انفرادی معاملے کا تعین اہم ہوگا۔

خیبرپختونخوا کی موجودہ سکیورٹی صورتحال اس معاملے کو مزید حساس بنا دیتی ہے۔ صوبے میں رواں سال جنوری سے ستمبر تک 680 حملوں اور پولیس اہلکاروں سمیت جانی نقصانات کی اطلاعات پہلے ہی سامنے آ چکی ہیں۔ اسی پس منظر میں وفاق اور صوبائی حکومت دونوں سکیورٹی کو اپنے اپنے مؤقف کے حق میں اہم دلیل کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ لیکن دہشت گردی سے نمٹنے اور سیاسی احتجاج کو کنٹرول کرنے کے اقدامات کے درمیان واضح قانونی اور انتظامی حدود برقرار رکھنا بھی ضروری ہے۔

دوسری جانب افغان مہاجرین کے خلاف کارروائی کا دائرہ اگر واقعی جعلی پاکستانی شناختی کارڈ بنانے والے نیٹ ورک تک بڑھایا جا رہا ہے تو معاملہ صرف غیر قانونی قیام کا نہیں بلکہ شناختی دستاویزات کے نظام میں موجود ممکنہ سہولت کاری کا بھی بنتا ہے۔ ایسے کیسز میں صرف غیر ملکی شہریوں کے خلاف کارروائی کافی نہیں ہوگی بلکہ اگر پاکستانی شہری، سرکاری اہلکار یا دیگر سہولت کار غیر قانونی شناختی دستاویزات کے اجرا میں ملوث پائے جاتے ہیں تو ان کے خلاف بھی یکساں قانونی کارروائی کا سوال اہم ہوگا۔

موجودہ صورتحال میں ایک اور سوال کارروائی کے وقت اور سیاسی ماحول کا ہے۔ اگر غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے خلاف آپریشن ایک مستقل سکیورٹی اور قانونی پالیسی کا حصہ ہے تو اس کا اطلاق سیاسی احتجاج سے قطع نظر واضح قواعد کے تحت ہونا چاہیے۔ تاہم اگر کسی کارروائی کا بنیادی محرک محض کسی سیاسی اجتماع میں ممکنہ شرکت کو روکنا ہو تو اس کے قانونی جواز اور دائرہ کار پر سوال اٹھ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ واضح کرے کہ گرفتاریاں کن قانونی دفعات کے تحت کی گئیں، گرفتار افراد کی اصل تعداد کیا ہے اور ان میں سے کتنے افراد کے پاس کوئی قانونی دستاویز موجود نہیں تھی۔

یوں لانگ مارچ سے قبل افغان مہاجرین کے خلاف مبینہ کریک ڈاؤن نے خیبرپختونخوا کی پہلے سے پیچیدہ صورتحال میں ایک اور حساس پہلو شامل کر دیا ہے۔ صوبے کو ایک طرف دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنا ہے، دوسری طرف سیاسی احتجاج اور وفاق سے جاری کشیدگی کو سنبھالنا ہے، جبکہ ساتھ ہی غیر قانونی رہائش اور جعلی شناختی دستاویزات کے خلاف قانونی کارروائی بھی کرنا ہے۔ ان تمام معاملات کو ایک دوسرے کے ساتھ خلط ملط کرنے کے بجائے ہر مسئلے کو اس کے قانونی اور انتظامی دائرے میں دیکھنا ہی صورتحال کو واضح کر سکتا ہے۔

4 اکتوبر کے لانگ مارچ سے پہلے ہونے والی کارروائیوں کی اصل نوعیت اس وقت زیادہ واضح ہوگی جب حکومت گرفتاریوں کی تعداد، قانونی بنیاد اور افغان شہریوں کے خلاف کارروائی کے باقاعدہ مقاصد کے بارے میں تفصیلات سامنے لائے گی۔ فی الحال دستیاب معلومات میں سب سے اہم سوال یہی ہے کہ یہ کارروائیاں مستقل سکیورٹی پالیسی کا حصہ ہیں یا لانگ مارچ کے مخصوص سکیورٹی انتظامات سے بھی ان کا کوئی براہ راست تعلق ہے۔

Back to top button