وفاق اورخیبرپختونخوا کی لڑائی نے عوام کا رگڑا کیسے نکالا؟

خیبرپختونخوا اس وقت محض سیاسی کشمکش کا نہیں بلکہ بیک وقت سکیورٹی، معاشی اور انتظامی بحرانوں کا سامنا کر رہا ہے۔ ایک طرف صوبے میں دہشت گردی کے واقعات نے امن و امان کی صورتحال کو مسلسل دباؤ میں رکھا ہوا ہے، دوسری جانب وفاق اور خیبرپختونخوا حکومت کے درمیان سیاسی اختلافات شدت اختیار کر رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں تحریک انصاف کی جانب سے 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی طرف مارچ کے اعلان نے پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ وفاق مارچ روکنے کے لیے انتظامی اور سکیورٹی اقدامات کر رہا ہے جبکہ صوبائی حکومت اور پی ٹی آئی قیادت احتجاج جاری رکھنے پر اصرار کر رہی ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے مارچ کے پرامن اور آئینی ہونے پر زور دیتے ہوئے اسے جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ پارٹی کے بعض رہنماؤں کی جانب سے مارچ مؤخر کرنے اور مذاکرات کو ترجیح دینے کی آوازیں بھی سامنے آئی ہیں۔ اس اختلاف نے یہ سوال مزید اہم بنا دیا ہے کہ موجودہ حالات میں سیاسی احتجاج اور صوبائی حکومت کی انتظامی ذمہ داریوں کے درمیان توازن کیسے قائم ہوگا۔ سہیل آفریدی ماضی قریب میں بھی وفاق کے ساتھ اختلافات مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی آمادگی ظاہر کر چکے ہیں، تاہم ساتھ ہی مارچ کے معاملے پر اپنے موقف پر قائم رہے ہیں۔
کشیدگی کم کرنے کے لیے خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے عمائدین پر مشتمل جرگے کی گورنر فیصل کریم کنڈی سے ملاقات بھی اسی پس منظر میں اہم ہے۔ جرگے کی قیادت قبائلی رہنما ملک خان مرجان وزیر نے کی اور وفاق و صوبے کے درمیان تناؤ کم کرنے پر زور دیا۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کے رہنما شوکت یوسفزئی نے بھی مارچ مؤخر کرنے اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کی تجویز دی۔ ان کا مؤقف تھا کہ موجودہ حالات میں تصادم سے گریز ضروری ہے، تاہم پارٹی کے بعض رہنماؤں، خصوصاً وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، نے مارچ جاری رکھنے کے موقف کو برقرار رکھا۔
اس سیاسی تنازع کا ایک اہم پہلو سکیورٹی کی صورتحال ہے۔ ڈی ڈبلیو کی رپورٹ کے مطابق جنوری سے ستمبر 2026 کے دوران خیبرپختونخوا میں 680 حملے ریکارڈ کیے گئے، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 34 فیصد زیادہ ہیں، جبکہ دہشت گردی اور بدامنی کے واقعات میں 122 پولیس اہلکار بھی ہلاک ہوئے۔ صوبائی وزیر خزانہ مزمل اسلم کے مطابق صوبائی حکومت نے سکیورٹی کے لیے بجٹ میں نمایاں اضافہ کیا ہے اور پولیس کے لیے فنڈز، آلات، آپریشنل اخراجات اور نئی آسامیوں میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔
تاہم یہاں بنیادی سوال صرف یہ نہیں کہ سکیورٹی کے لیے کتنی رقم مختص کی گئی بلکہ یہ بھی ہے کہ بڑھتے ہوئے خطرات کے باوجود صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان عملی تعاون کس حد تک موجود ہے۔ حالیہ دنوں میں وفاقی وزرا نے خیبرپختونخوا حکومت کی انسداد دہشت گردی پالیسی اور کارکردگی پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ صوبائی حکومت نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے پولیس اور انسداد دہشت گردی کے اداروں کی صلاحیتوں کا دفاع کیا ہے۔ یوں دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی بھی وفاق اور صوبے کے درمیان سیاسی اختلاف کا حصہ بنتی دکھائی دے رہی ہے۔
اس کشیدگی کا اثر صرف سیاسی بیانات تک محدود نہیں۔ صوبے کی معیشت پہلے ہی متعدد مشکلات سے دوچار ہے۔ ڈی ڈبلیو کے مطابق خیبرپختونخوا میں 60 فیصد سے زیادہ کارخانے مکمل یا جزوی طور پر بند ہیں، افغانستان کے ساتھ سرحدی صورتحال نے تجارت کو متاثر کیا ہے، جبکہ بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ، گیس کی بندش، اضافی ٹیکسوں اور خام مال کی فراہمی میں مشکلات نے صنعتی سرگرمیوں کو دباؤ میں رکھا ہوا ہے۔ میڈیا اور غیر سرکاری اداروں میں بھی مالی مشکلات کے باعث ملازمتوں میں کمی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
یہ صورتحال اس لیے زیادہ اہم ہے کہ سیاسی عدم استحکام پہلے سے موجود معاشی مشکلات کو مزید پیچیدہ کر سکتا ہے۔ جب صوبے میں دہشت گردی کا خطرہ موجود ہو، صنعت اور تجارت مشکلات کا شکار ہوں، روزگار کے مواقع محدود ہوں اور اسی دوران وفاق اور صوبائی حکومت ایک دوسرے کے خلاف سیاسی صف بندی میں مصروف ہوں تو عام شہری کے لیے ریاستی اداروں سے مؤثر خدمات اور فوری حل کی توقع مشکل ہو جاتی ہے۔
دوسری طرف وفاق اور خیبرپختونخوا کے درمیان اختلاف اب محض احتجاج کے معاملے تک محدود نہیں رہا۔ حالیہ دنوں میں گورنر راج اور ہنگامی اقدامات کے امکانات پر بھی سیاسی بیانات سامنے آئے ہیں۔ وفاقی حکومت کے بعض نمائندوں نے گورنر راج کو آئینی آپشن قرار دیا، جبکہ پی ٹی آئی رہنماؤں نے اسے مارچ روکنے کے لیے دباؤ کا ذریعہ قرار دیا۔ ان دعوؤں اور جوابی دعوؤں کے درمیان یہ بنیادی نکتہ نظرانداز نہیں ہونا چاہیے کہ کسی بھی غیر معمولی آئینی اقدام کا معاملہ محض سیاسی اختلاف نہیں بلکہ آئینی تقاضوں اور قانونی طریقہ کار سے جڑا ہوتا ہے۔
یوں خیبرپختونخوا کا موجودہ بحران تین سطحوں پر دکھائی دیتا ہے: دہشت گردی سے نمٹنے کا مسئلہ، وفاق اور صوبے کے درمیان سیاسی و انتظامی اختلاف اور معاشی سرگرمیوں کو بحال رکھنے کا چیلنج۔ ان میں سے کسی ایک مسئلے کو دوسرے سے الگ کرکے دیکھنا صورتحال کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔
4 اکتوبر کا مارچ اس کشیدگی کا فوری امتحان ضرور ہے، لیکن خیبرپختونخوا کے مسائل اس ایک دن یا ایک احتجاج سے کہیں بڑے ہیں۔ صوبے کو امن و امان، روزگار، صنعت، توانائی اور تجارت کے ایسے مسائل درپیش ہیں جن کے حل کے لیے وفاق اور صوبے کے درمیان مستقل رابطہ اور عملی تعاون ضروری ہے۔ سیاسی فریق اپنے اپنے مطالبات اور مؤقف برقرار رکھ سکتے ہیں، لیکن موجودہ حالات میں اصل سوال یہ ہے کہ اختلافات کے باوجود ریاستی ادارے صوبے کے شہریوں کو امن، روزگار اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی کیسے یقینی بناتے ہیں۔
