2022-26:چار سال، کئی احتجاج، اسلام آبادPTIکے نشانے پر کیوں؟

پاکستان تحریک انصاف کے 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کے اعلان نے ایک بار پھر ملکی سیاست کو احتجاج، مذاکرات اور ممکنہ تصادم کے ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دارالحکومت کی جانب جانے والے راستوں پر حفاظتی انتظامات اور کنٹینرز موجود ہیں، جبکہ مارچ سے قبل حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات بھی جاری ہیں۔ یوں 2022 میں شروع ہونے والا احتجاجی سلسلہ 2026 میں ایک بار پھر اسلام آباد کا رخ کر رہا ہے۔
اپریل 2022 میں تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں عمران خان کی حکومت ختم ہونے کے بعد پاکستان کی سیاست میں ایک نیا تنازع شروع ہوا، جس کے بعد پی ٹی آئی نے حکومت کے خلاف سڑکوں پر احتجاج اور لانگ مارچ کا راستہ اختیار کیا۔ مئی 2022 میں ’آزادی مارچ‘ کے نام سے اسلام آباد کی جانب پہلا بڑا مارچ کیا گیا۔ 25 مئی کو مظاہرین اور پولیس کے درمیان مختلف مقامات پر جھڑپیں ہوئیں، رکاوٹیں کھڑی کی گئیں اور آنسو گیس کا استعمال بھی ہوا۔ عمران خان بعد میں اسلام آباد پہنچے اور دھرنا ختم کرتے ہوئے حکومت کو انتخابات کے حوالے سے ڈیڈ لائن دی۔ اس وقت کے واقعات نے حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان سڑکوں پر سیاسی کشمکش کی بنیاد مزید گہری کردی۔
چند ماہ بعد اکتوبر 2022 میں پی ٹی آئی نے ایک مرتبہ پھر اسلام آباد کا رخ کیا۔ 28 اکتوبر کو لاہور کے لبرٹی چوک سے ’حقیقی آزادی مارچ‘ شروع ہوا اور قافلہ جی ٹی روڈ کے ذریعے اسلام آباد کی طرف بڑھا۔ پارٹی کا بنیادی مطالبہ فوری انتخابات کا انعقاد تھا۔ مارچ کے دوران 3 نومبر کو وزیرآباد میں عمران خان کے کنٹینر پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا جس میں وہ زخمی ہوئے اور مارچ کی رفتار متاثر ہوئی۔
اس کے بعد 2023 میں احتجاج کی نوعیت تبدیل ہوگئی۔ 9 مئی کو عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج پھوٹ پڑے۔ متعدد مقامات پر سرکاری اور فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچنے کے واقعات رپورٹ ہوئے، جس کے بعد پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف بڑے پیمانے پر گرفتاریاں اور قانونی کارروائیاں ہوئیں۔ ان واقعات نے پی ٹی آئی اور ریاستی اداروں کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا دیا۔
2024 بھی پی ٹی آئی کے احتجاجی سلسلے سے خالی نہیں رہا۔ فروری کے عام انتخابات کے بعد پارٹی نے انتخابی نتائج اور اپنے سیاسی مینڈیٹ سے متعلق اعتراضات اٹھاتے ہوئے مختلف شہروں میں احتجاج کیے۔ سال کے دوسرے نصف میں اسلام آباد سمیت مختلف مقامات پر احتجاج اور پولیس کے ساتھ جھڑپوں کے واقعات سامنے آئے، جبکہ نومبر میں پی ٹی آئی نے ایک مرتبہ پھر وفاقی دارالحکومت کی جانب مارچ کیا۔ اس احتجاج میں عمران خان کی رہائی سمیت متعدد سیاسی مطالبات پیش کیے گئے اور خیبرپختونخوا سے آنے والے قافلے کی قیادت اس وقت کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کر رہے تھے۔
نومبر 2024 کے احتجاج کے دوران اسلام آباد میں سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان کشیدگی بڑھی اور بالآخر احتجاج ختم ہوگیا۔ یوں 2022 سے 2024 تک پی ٹی آئی کی سیاست میں سڑکوں پر احتجاج ایک مسلسل عنصر بن چکا تھا، تاہم ہر احتجاج کی نوعیت، مطالبات اور سیاسی حالات مختلف رہے۔
اب 2026 میں یہ سلسلہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہوچکا ہے۔ پی ٹی آئی نے ابتدا میں 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان کیا تھا، تاہم بعد میں اسے 4 اکتوبر تک مؤخر کردیا گیا۔ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے مطابق احتجاج کا مقصد آئین کی بالادستی، آزاد عدلیہ، میڈیا کی آزادی اور عمران خان سمیت زیرحراست سیاسی رہنماؤں کی رہائی ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ احتجاج صرف اسلام آباد تک محدود نہیں ہوگا بلکہ ملک کے دیگر حصوں میں بھی سرگرمیاں کی جائیں گی۔
حکومت کی جانب سے اس بار بھی سکیورٹی انتظامات سخت کیے گئے ہیں۔ اسلام آباد اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں اجتماعات پر پابندیوں، اضافی نفری کی تعیناتی اور راستوں پر رکاوٹوں جیسے اقدامات کیے گئے ہیں۔ دوسری طرف پی ٹی آئی مسلسل احتجاج کے اپنے حق اور اپنے مطالبات پر زور دے رہی ہے۔ اس دوران وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا آغاز بھی ہوا ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سڑکوں کی سیاست کے ساتھ ساتھ سیاسی بات چیت کا راستہ بھی کھلا ہوا ہے۔
یوں 2022 سے 2026 تک پی ٹی آئی کے احتجاجی سفر میں کئی اہم مرحلے گزر چکے ہیں۔ مئی 2022 کا آزادی مارچ، اکتوبر 2022 کا حقیقی آزادی مارچ، 9 مئی 2023 کے بعد ملک گیر احتجاج، 2024 کے انتخابی اور سیاسی احتجاج اور نومبر 2024 کا اسلام آباد مارچ، سب ایک ایسے سیاسی تسلسل کا حصہ ہیں جس میں احتجاج اور مذاکرات دونوں ساتھ ساتھ چلتے رہے ہیں۔
اب 4 اکتوبر 2026 کا مارچ اس سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔ اس بار صورتحال کو صرف اس سوال تک محدود نہیں کیا جا سکتا کہ کتنے لوگ اسلام آباد پہنچتے ہیں۔ اہم سوال یہ بھی ہے کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان جاری مذاکرات کسی سیاسی راستے پر پہنچتے ہیں یا نہیں، احتجاج کی نوعیت کیا رہتی ہے اور ماضی کے تجربات اس بار دونوں فریقوں کی حکمت عملی پر کس حد تک اثر انداز ہوتے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں مذاکرات اور سڑکوں پر احتجاج بیک وقت جاری رہنے کی وجہ سے 4 اکتوبر ایک اور سیاسی مرحلے کا آغاز بھی بن سکتا ہے، تاہم اس کا حتمی رخ فریقین کے فیصلوں اور مذاکرات کے نتیجے سے ہی واضح ہوگا۔
