امریکہ ایران کشیدگی: پاکستانی ایکسپورٹس خطرے میں کیوں؟

مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ اور بحری راستوں میں پیدا ہونے والے شدید خلل نے پاکستان کی برآمدی صنعت کے لیے ایک نیا معاشی چیلنج پیدا کر دیا ہے۔ خلیج اور بحیرہ احمر میں بحری جہازوں کی نقل و حرکت متاثر ہونے کے باعث مال برداری کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، ترسیل کا دورانیہ طویل ہوگیا ہے اور غیر ملکی خریداروں کے لیے پاکستانی مصنوعات کی بروقت فراہمی غیر یقینی بنتی جا رہی ہے۔ صنعت سے وابستہ نمائندوں کے مطابق اگر یہ صورتحال طویل عرصے تک برقرار رہی تو بعض خریدار اپنے آرڈرز مؤخر کرنے، کم کرنے یا متبادل ممالک منتقل کرنے پر غور کر سکتے ہیں۔
پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت اس صورتحال سے خاص طور پر متاثر ہو رہی ہے۔ صنعت سے وابستہ نمائندوں کے مطابق جون 2026 میں ختم ہونے والے مالی سال کے دوران ٹیکسٹائل برآمدات تقریباً 18 ارب ڈالر رہیں۔ اس شعبے کے لیے مسئلہ صرف تیار مصنوعات کی بیرون ملک ترسیل کا نہیں بلکہ پیداواری سامان اور خام مال کی درآمد بھی ہے، کیونکہ مہنگی اور غیر یقینی بحری نقل و حمل دونوں سمتوں میں لاگت بڑھا رہی ہے۔
بحیرہ احمر میں یمن کی حوثی تحریک کی دھمکیوں اور خلیجی خطے میں جاری کشیدگی کے باعث بعض عالمی شپنگ کمپنیوں نے ایشیا اور یورپ کے درمیان مختصر سمندری راستے کے بجائے جنوبی افریقہ کے گرد طویل راستہ اختیار کیا ہے۔ اس تبدیلی نے سفر کے دورانیے، ایندھن، بیمہ اور دیگر انتظامی اخراجات میں اضافہ کیا ہے، جس کا براہ راست اثر عالمی سپلائی چین پر پڑ رہا ہے۔
آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین کامران ارشد کے مطابق غیر ملکی خریدار اب ترسیل کی یقین دہانی اور مصنوعات کی حتمی قیمت کے بارے میں زیادہ محتاط ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق طویل عرصے تک جاری رہنے والا خلل ایسے ممالک کے برآمد کنندگان کے لیے فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے جہاں مال برداری اور لاجسٹکس کا نظام نسبتاً کم مہنگا اور زیادہ قابل اعتماد ہو۔ انہوں نے بھارت، بنگلہ دیش اور چین کو پاکستان کے حریف سپلائرز قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ موجودہ صورتحال مستقبل کے آرڈرز کے فیصلوں کو متاثر کرسکتی ہے۔
مال برداری کے اخراجات میں اضافے کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ صنعت سے وابستہ افراد کے مطابق کراچی سے نیویارک ایک کنٹینر کی ترسیل کی لاگت تقریباً 2000 ڈالر سے بڑھ کر 9000 ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ اسی طرح چین سے پاکستان ترسیل کے نرخ تقریباً 2000 سے 2400 ڈالر سے بڑھ کر 4000 سے 4500 ڈالر تک پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ تاہم یہ مخصوص راستوں پر برآمد کنندگان کی جانب سے بتائے گئے نرخ ہیں اور انہیں پاکستان کی مجموعی تجارت میں اوسط مال برداری لاگت نہیں سمجھا جا سکتا۔
پاکستانی کمپنی انٹرلوپ، جو عالمی برانڈز کے لیے مصنوعات تیار کرتی ہے، نے بھی مال برداری کے اخراجات میں اضافے اور بحری نظام الاوقات کے کم قابل اعتماد ہونے کی نشاندہی کی ہے۔ کمپنی کے مطابق 28 فروری کے بعد بین الاقوامی مال برداری کے نرخوں میں نمایاں اضافہ ہوا، جبکہ امریکہ کے مشرقی ساحل تک ترسیل کا دورانیہ تقریباً 28 دن سے بڑھ کر 40 سے 42 دن تک پہنچ گیا۔ تاہم کمپنی نے اب تک غیر ملکی آرڈرز کی منسوخی نہیں دیکھی۔ کچھ ترسیلات میں فریٹ فارورڈرز کو کنٹینرز کی عدم دستیابی کے باعث تاخیر کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
یہاں پاکستان کے لیے ایک اہم پہلو یہ ہے کہ تمام اضافی مال برداری اخراجات لازماً پاکستانی برآمد کنندگان کو برداشت نہیں کرنا پڑ رہے۔ انٹرلوپ کے مطابق اس کی زیادہ تر مصنوعات فری آن بورڈ بنیاد پر فروخت ہوتی ہیں، جس میں سامان جہاز پر لادے جانے کے بعد سمندری ترسیل کا انتظام اور اس کی ادائیگی عموماً خریدار کرتا ہے۔ اس صورت میں بڑھتی ہوئی بحری لاگت کا براہ راست بوجھ غیر ملکی خریدار پر منتقل ہوسکتا ہے، لیکن طویل مدت میں یہی اضافی لاگت خریدار کو متبادل سپلائر تلاش کرنے پر بھی آمادہ کرسکتی ہے۔
پاکستان شپ ایجنٹس ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل سید طاہر حسین کے مطابق جنوبی افریقہ کے گرد اختیار کیے جانے والے طویل بحری راستے میں مزید 15 سے 20 دن لگ سکتے ہیں۔ طویل سفر کا مطلب صرف اضافی وقت نہیں بلکہ ایندھن، بحری بیمہ اور دیگر آپریشنل اخراجات میں بھی اضافہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی تجارت میں پہلے سے موجود سپلائی چین کے دباؤ کے ساتھ پاکستان جیسے برآمدی ملک کے لیے مسابقت برقرار رکھنا مزید مشکل ہوسکتا ہے۔
بحری نقل و حمل کی صورتحال ہر راستے اور ہر شپنگ کمپنی کے لیے یکساں نہیں۔ بعض کمپنیوں نے خلیجی ترسیلات کے لیے اضافی پابندیوں اور چارجز کا اعلان کیا ہے جبکہ عمان کی صلالہ سمیت بعض بندرگاہوں کے ذریعے کارگو کی سہولت بھی دستیاب رہی ہے۔ اسی طرح کچھ منتخب سروسز کو نہر سویز کے ذریعے محدود پیمانے پر بحال کیا گیا ہے، تاہم پورے بحری نیٹ ورک کی معمول کی سرگرمیاں بحال نہیں ہوئیں۔
اس صورتحال کے پیش نظر پاکستانی حکومت بھی متبادل حل تلاش کر رہی ہے۔ وزارت بحری امور کے مطابق حکومت برآمد کنندگان کے لیے مخصوص کنٹینر بردار جہاز خریدنے یا لیز پر لینے کے امکان کا جائزہ لے رہی ہے۔ تاہم اس تجویز پر عمل درآمد برآمد کنندگان کی جانب سے مطلوبہ مقدار میں یقینی کارگو فراہم کرنے کی ضمانت سے مشروط ہے۔ حکومت نے تاحال جہاز خریدنے یا لیز پر لینے، مجوزہ بحری راستے یا سروس شروع کرنے کا کوئی حتمی شیڈول جاری نہیں کیا۔
موجودہ بحران نے پاکستان کی برآمدی صنعت کے سامنے ایک بنیادی سوال کھڑا کر دیا ہے کہ عالمی منڈی میں صرف مصنوعات کا معیار اور قیمت کافی ہے یا بروقت اور قابل اعتماد ترسیل بھی اتنی ہی اہم ہوچکی ہے۔ ٹیکسٹائل، کھیلوں کا سامان، چمڑے کی مصنوعات اور دیگر برآمدی شعبوں کے لیے مقررہ وقت پر سامان پہنچانا کاروباری معاہدوں کا بنیادی حصہ ہے۔ اگر بحری سفر کئی ہفتوں تک طویل ہوجائے اور مال برداری کی لاگت کئی گنا بڑھ جائے تو اس کا اثر صرف ایک کنٹینر یا ایک آرڈر تک محدود نہیں رہتا بلکہ خریداروں کے مستقبل کے سپلائر منتخب کرنے کے فیصلے تک پہنچ سکتا ہے۔
یوں مشرق وسطیٰ کا موجودہ بحران پاکستان کے لیے صرف ایک علاقائی یا سفارتی مسئلہ نہیں بلکہ تجارت، برآمدات، لاجسٹکس اور زرمبادلہ سے جڑا ہوا معاشی چیلنج بھی بن چکا ہے۔ اگر بحری راستوں میں خلل طویل ہوتا ہے تو پاکستان کو ایک طرف موجودہ برآمدی آرڈرز کی بروقت تکمیل یقینی بنانا ہوگی اور دوسری طرف متبادل بحری راستوں، بندرگاہوں اور مال برداری کے انتظامات پر کام تیز کرنا ہوگا۔ بصورت دیگر بڑھتی ہوئی ترسیلی لاگت اور غیر یقینی نظام الاوقات پاکستانی مصنوعات کو عالمی منڈی میں قیمت اور رفتار دونوں کے اعتبار سے دباؤ میں لا سکتے ہیں۔
