کیا حکومت PTIکو لانگ مارچ سے روکنے میں کامیاب ہو پائے گی؟

حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کا آغاز ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب اسلام آباد کی جانب پی ٹی آئی کے مجوزہ لانگ مارچ میں محض ایک دن باقی ہے، لیکن مذاکرات کی میز پر موجود فریقین کے مطالبات اور ترجیحات اب بھی ایک دوسرے سے خاصے مختلف ہیں۔ ایک طرف حکومت چاہتی ہے کہ تحریک انصاف 4 اکتوبر کا مارچ منسوخ کرے، جبکہ دوسری جانب پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات، ان کے علاج کی سہولت، وکلا اور اہل خانہ تک رسائی، کارکنوں اور رہنماؤں کے خلاف مقدمات اور گرفتاریوں سمیت اپنے دیرینہ مطالبات پر پیش رفت چاہتی ہے۔

مذاکرات کا پہلا دور کسی واضح پیش رفت کے بغیر ختم ہوا، تاہم دونوں فریقوں نے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس سے یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ سیاسی رابطے کا دروازہ کھلا ہے، لیکن اعتماد کی کمی اب بھی ایک بنیادی مسئلہ ہے۔ حکومت کے لیے سب سے فوری سوال لانگ مارچ ہے، جبکہ تحریک انصاف کے لیے یہ جاننا اہم ہے کہ مذاکرات کے نتیجے میں اسے عملی طور پر کیا حاصل ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ مارچ کو صرف مؤخر کرنے یا مکمل طور پر منسوخ کرنے کے معاملے پر اختلاف مذاکرات کی سب سے بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔

تجزیہ نگار سلمان غنی کے مطابق اگر حکومت تحریک انصاف کو لانگ مارچ سے روکنا چاہتی ہے تو اسے سیاسی طور پر کوئی قابل قبول پیش رفت دینا ہوگی تاکہ پی ٹی آئی اپنی قیادت اور کارکنوں کے سامنے مذاکرات کا کوئی نتیجہ پیش کرسکے۔ ان کے تجزیے میں عمران خان کے علاج اور وکلا و اہل خانہ سے ملاقاتوں کے معاملے میں حکومتی سطح پر لچک کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ رہائی کے معاملے میں حکومت کے لیے فوری یقین دہانی کرانا مشکل دکھائی دیتا ہے۔

یہی نکتہ مذاکرات کے اصل فریم ورک کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ حکومت کے لیے عمران خان کی رہائی محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ عدالتی اور قانونی معاملات سے بھی جڑا ہوا مسئلہ ہے، جبکہ پی ٹی آئی اسے اپنے سیاسی مطالبات کے بنیادی حصے کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ دوسری طرف عمران خان کے علاج اور ان سے وکلا و اہل خانہ کی ملاقات کے معاملات نسبتاً ایسے امور ہیں جن پر فریقین فوری طور پر کسی عملی طریقہ کار پر بات کرسکتے ہیں۔ عمران خان کے علاج اور ملاقاتوں کا معاملہ پہلے بھی سیاسی کشیدگی میں اہم موضوع رہا ہے، جبکہ پی ٹی آئی کی جانب سے ان کے علاج کے لیے ہسپتال منتقل کرنے کا مطالبہ مسلسل سامنے آتا رہا ہے۔

دوسری بڑی رکاوٹ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا کردار ہے۔ وہ پہلے ہی لانگ مارچ کے اعلان اور اس کے لیے سیاسی حمایت کا اظہار کرچکے ہیں اور وفاقی حکومت کو مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی دعوت بھی دے چکے ہیں۔ تاہم موجودہ مذاکرات میں حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا کی دہشتگردی کے خلاف پالیسی اور وفاقی اداروں کے ساتھ تعاون کو بھی اہم معاملہ بنایا گیا ہے۔ یوں معاملہ صرف اسلام آباد مارچ تک محدود نہیں رہا بلکہ وفاق اور خیبر پختونخوا کے درمیان سیاسی و انتظامی اختلافات بھی مذاکرات کا حصہ بن گئے ہیں۔

اس صورتحال میں حکومت کے لیے ایک طرف احتجاج کو روکنے اور دوسری طرف مذاکراتی عمل کو برقرار رکھنے کے درمیان توازن قائم کرنا اہم ہے، جبکہ پی ٹی آئی کے لیے چیلنج یہ ہے کہ اگر وہ مارچ واپس لیتی ہے تو اسے اپنے کارکنوں اور حامیوں کے سامنے اس فیصلے کی سیاسی وجہ اور مذاکرات سے حاصل ہونے والی پیش رفت واضح کرنا ہوگی۔ اسی لیے مارچ کی منسوخی صرف انتظامی یا سکیورٹی کا مسئلہ نہیں بلکہ دونوں فریقوں کے لیے سیاسی اعتبار سے بھی حساس فیصلہ ہے۔

موجودہ حالات میں یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ مذاکرات کامیاب ہوں گے یا ناکام، تاہم جمعہ کے پہلے دور کے بعد دونوں فریقوں کا دوبارہ بیٹھنا اس بات کی علامت ہے کہ بات چیت کا راستہ ابھی بند نہیں ہوا۔ آج ہونے والے دوسرے دور میں اگر عمران خان کے علاج، ملاقاتوں، مقدمات اور گرفتاریوں جیسے معاملات پر کوئی قابل عمل فارمولا سامنے آتا ہے اور ساتھ ہی مارچ کے حوالے سے کوئی درمیانی راستہ نکلتا ہے تو مذاکرات آگے بڑھ سکتے ہیں۔ دوسری صورت میں 4 اکتوبر کا احتجاج ایک مرتبہ پھر سیاسی کشیدگی کو بڑھا سکتا ہے۔

اصل سوال اب یہ نہیں کہ حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات کی میز پر بیٹھیں گے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ مارچ رکوانے کے بدلے حکومت کیا عملی پیش رفت دینے پر آمادہ ہوتی ہے اور پی ٹی آئی کس حد تک اپنے احتجاجی لائحہ عمل میں تبدیلی قبول کرتی ہے۔ آنے والے چند گھنٹے اس سیاسی تعطل کے اگلے مرحلے کا تعین کریں گے۔

Back to top button