ٹیکس چوری پکڑنے کیلئے FBR نئے نسخے استعمال کرنے لگا

ایف بی آر نےٹیکس چوری کی روک تھام اور محصولات کی وصولی کو یقینی بنانے کیلئے سخت اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کر لیا۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے کاروباری طبقے کے ایک لاکھ انکم ٹیکس گوشواروں کے آڈٹ کی تیاری مکمل کر لی۔ ذرائع کے مطابق آڈٹ کے دوران گزشتہ سال کی نسبت کم ٹیکس دینے والے کاروباری افراد کے ٹیکس گوشواروں کا نہ صرف باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا بلکہ ٹیکس چوری سامنے آنے پر سخت قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

ناقدین کے مطابق پاکستان میں کاروباری طبقہ معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، مگر بدقسمتی سے بڑی تعداد میں کاروباری افراد یا تو بالکل ٹیکس نہیں دیتے یا آمدنی چھپا کر کم ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ تاہم اب ایف بی آر نے ٹیکس چوری میں ملوث افراد کے خلاف شکنجہ کسنے کا فیصلہ کر لیا ہے جس کے پہلے مرحلے میں ٹیکس دہندگان کے جمع کرائے گئے انکم ٹیکس گوشواروں کی سخت جانچ پڑتال کی جائے گی۔ ایف بی آر نے اس مقصد کے لیے ایک خصوصی ونگ قائم کر دیا ہے جس میں تربیت یافتہ آڈیٹرز کو شامل کیا گیا، ایف بی آر ماہرین کی یہ ٹیم کاروباری طبقے کے مالی گوشواروں کا مکمل آڈٹ کرے گی اور ٹیکس چوری یا کم اثاثے ظاہر کرنے والوں کی نشاندہی کرے گی۔ ایف بی آر ذرائع کے مطابق ٹیکس گوشواروں میں غلط معلومات فراہم کرنے یا اپنی دولت چھپانے والے افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق نئی حکمت عملی کے تحت ایف بی آر کی جانب سے خاص طور پر ان افراد کے گوشواروں کا سخت آڈٹ کیا جائے گا جنہوں نے گزشتہ سال کے مقابلے میں کم ٹیکس جمع کرایا ہے۔ تاہم جن کاروباری افراد نے درست اور مکمل معلومات کے ساتھ گوشوارے جمع کرائے ہیں، انہیں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں ہوگا۔

ذرائع کے مطابق ایف بی آر نے  ایک طرف ٹیکس چوری میں ملوث اداروں اور شخصیات کی فہرستیں تیار کر لی ہیں وہیں ان کی آمدن اور اخراجات کا آڈٹ بھی شروع کر دیا ہے جس کے بعد اکتوبر میں ٹیکس چوروں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں شروع کئے جانے کا امکان ہے۔

اس کے ساتھ ہی ایف بی آر کے 40 تفتیش کاروں کی ٹیم پر مشتمل ’لائف سٹائل مانیٹرنگ سیل‘نے بھی انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور یوٹیوب پر پوسٹوں کو کھنگالنا شروع کر دیا ہے تاکہ ایسے بااثر افراد، سلیبریٹیز، پراپرٹی ڈیلرز اور کاروباری شخصیات کی نشاندہی کی جا سکے جن کی آمدن کے گوشوارے ان کے طرزِ زندگی سے مطابقت نہیں رکھتے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ٹیکس چوری پکڑنے کے لیے مالدار لوگوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال شروع کردی، نئے قائم کردہ مانیٹرنگ سیل کے ذریعے انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور یوٹیوب پر پرتعیش تقاریب کی پوسٹوں کا متعلقہ افراد کے ٹیکس گوشواروں سے موازنہ کیا جا رہا ہے جبکہ ان کی سوشل میڈیا پوسٹوں کو بطور ثبوت ریکارڈ کا حصہ بنایا جا رہا ہے تاکہ ان سے ٹیکس وصولی کو یقینی بنایا جا سکے۔

ناقدین کے مطابق پاکستان میں ٹیکس چوری ایک دائمی مسئلہ بن چکی ہے۔ بڑے بڑے صنعتکار، تاجر اور بعض اوقات سیاسی شخصیات بھی دانستہ طور پر اپنے اصل منافع اور آمدنی کو چھپاتے ہیں، جبکہ عام شہریوں پر بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ ڈال دیا جاتا ہے۔  تاہم یہاں سوال پیداہوتا ہے کہ پاکستان میں ٹیکس چوری کن طریقوں سے کی جاتی ہے اور اس میں ملوث عناصر کون ہیں؟ ناقدین کے مطابق پاکستان میں طاقتور طبقات قانون کو اپنے حق میں استعمال کرتے ہیں اور ٹیکس نیٹ میں عام شہری ہی پھنسا رہتا ہے اور اسے بھاری ٹیکسز کی صورت میں ٹیکس چوری کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔ ایف بی آر حکام کے مطابق ملک میں ٹیکس چوری کئی طریقوں سے کی جاتی ہے۔ درآمد کنندگان عموماً انڈر انوائسنگ کے ذریعے اصل مال کی قیمت کم ظاہر کرتے ہیں، تاکہ ڈیوٹی اور ٹیکس کم ادا کیا جا سکے۔ اسی طرح ٹیکس چور سمگلنگ کے ذریعے بغیر کسی ٹیکس یا ڈیوٹی کےبڑی مقدار میں سامان پاکستان لانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح بعض کاروباری حلقے جعلی یا فرضی انوائسز کے ذریعے سیلز ٹیکس ریفنڈز کا غلط فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق بڑی تعداد میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار ایسے ہیں جو ٹیکس نیٹ میں شامل نہیں اور اپنی پیداوار پر کوئی ٹیکس ادا نہیں کرتے۔ فیکٹریوں کی سطح پر بھی بعض ادارے اپنی اصل پیداوار کم ظاہر کر کے سیلز ٹیکس اور ایکسائز ڈیوٹی میں کمی کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔تاہم ذرائع کے مطابق ملک میں بڑھتی ہوئی ٹیکس چوری کو روکنے کیلئے اب ایف بی آر نے کمر کس لی ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو صرف نو سے دس فیصد ہے، جو خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ بھارت کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو سترہ فیصد اور ترکی کا تقریباً پچیس فیصد ہے۔ ذرائع کے مطابق اس کمزور شرح کی وجہ سے حکومت کو ترقیاتی منصوبوں کیلئے بھاری قرضے لینے پڑتے ہیں اور بجٹ کا بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی پر صرف ہو جاتا ہے۔ تاہم  اگر ٹیکس چوری پر قابو پا لیا جائے تو اس سے جہاں ملک کے محصولات کئی گنا بڑھ سکتے ہیں وہیں بجٹ خسارے کو پورا کرنے کیلئے آئی ایم ایف جیسے اداروں پر انحصار بھی کم کیا جا سکتا ہے۔

Back to top button