ملک ریاض اور بحریہ ٹاؤن کو کن حالیہ تنازعات کا سامنا ہے؟

بحریہ ٹاؤن کے چئیرمین اور پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض حسین کے خلاف نیب تب سے ایکشن میں ہے جب انہوں نے سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ کیس کے ریفرنس میں وعدہ معاف گواہ بننے سے انکار کیا۔ ملک ریاض نے ایک ٹویٹ میں عمران خان کا نام لیے بغیر وعدہ معاف گواہ بننے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد انہیں القادر ٹرسٹ کیس میں اشتہاری قرار دے دیا گیا۔
یاد رہے کہ عمران خان اور اُن کی تیسری اہلیہ بشریٰ بی بی پر الزام ہے کہ انھوں نے بحریہ ٹاؤن لمیٹڈ سے سینکڑوں کنال اراضی ملک ریاض کے اُس 50 ارب روپے کو قانونی حیثیت دینے کے عوض وصول کی، جس کی نشاندہی برطانوی ایجنسی نے کی تھی اور یہ رقم برطانیہ سے واپس لا کر پاکستان کو لوٹا دی گئی تھی۔اس کیس میں عمران خان، بشری بی بی، ملک ریاض، اور انکے بیٹے علی ریاض ملک کو ملزم قرار دیا گیا تھا۔بعد ازاں 9 جنوری 2025 کو احتساب عدالت نے ملک ریاض اور اُن کے بیٹے علی ریاض سمیت کیس کے پانچ دیگر شریک ملزمان کو تفتیش میں شامل نہ ہونے پر اشتہاری قرار دیتے ہوئے پاکستان میں موجود اُن کی تمام ملکیتی جائیدادیں منجمد کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔
بحریہ ٹاؤن نے اپنے آپریشنز بند کر د ئیے تو کسی کا کتنا نقصان ہو گا؟
تاہم ملک ریاض نے ان کاروائیوں کے باوجود 190 ملین پاؤنڈز کیس میں عمران خان کے خلاف وعدہ معاف گواہ بننے سے انکار کر دیا۔ اس دوران وہ دبئی چلے گئے اور وہاں اپنے بیٹے کے ساتھ مل کر ایک بہت بڑا تعمیراتی پراجیکٹ شروع کر دیا۔ چنانچہ نیب نے ان کے خلاف درج پرانے کیسز بھی کھول لیے اور سخت کاروائیاں شروع کر دیں۔ سال 2020 میں قومی احتساب بیورو نے جعلی بینک اکاؤنٹس کے مقدمے میں ملک ریاض کے داماد زین ملک کے خلاف چھ مقدمات میں 9 ارب پانچ کروڑ روپے میں ان کی پلی بارگین کی منظوری دی تھی۔ اس پلی بارگین کے تحت زین ملک نے یہ رقم تین سال کی سہ ماہی اقساط میں جمع کروانی تھیں۔
بحریہ ٹاؤن کیخلاف نیب کی کارروائی پر سپریم کورٹ کا اعتراض
بحریہ ٹاون کے چیئرمین کے داماد زین ملک کی جن ریفرنسز میں پلی بارگین منظور کی گئی ان میں میگا منی لانڈرنگ، پنک ریزیڈنسی، اے ون انٹرنیشنل اکاؤنٹ، اوپل جوائنٹ وینچر کے علاوہ 8 ارب روپے کی بینک ترسیلات شامل تھیں۔ یہ پیسے نہ دینے کی صورت میں بحریہ ٹاؤن نے رہن کے طور پر بحریہ ٹاؤن کی 6 پراپرٹیز نیب کو دی تھیں۔ ملک زین یہ رقم واپس نہیں کر سکے اور اب نیب نے ان 6 پراپرٹیز کی نیلامی کا عمل شروع کر رکھا ہے۔ تاہم سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کی ایک درخواست پر نیلامی کے عمل کو روک دیا ہے اور 13 اگست سے ایک تین رکنی بینچ کے سامنے اس کیس کی باقاعدہ سماعت کا حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔
